مین آف پرنسپل

مین آف پرنسپل
 مین آف پرنسپل

  



وزیر اعظم پاکستان  چیف سیکرٹری  بلوچستان کو فون کر  کے مبارکباد دیتے  ہوئے  کہتے ہیں کہ  آپ کو چیف سیکرٹری  پنجاب  لگا دیا گیا ہے  آپ آج ہی لاہور پہنچیں  اور اپنے  نئے  عہدے کا چارج  سنبھالیں ۔وزیر اعظم کو بتایا جاتا ہے " آج تو کوئیٹہ سے لاہور کی کوئی فلائٹ ہی نہیں ہے،میں کل پہنچ کر چارج لے لوں گا "۔کچھ دیر بعد بلوچستان حکومت کو وزیر اعظم کا پیغام ملتا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان  کا  سپیشل جہاز  متعلقہ افسر کو لاہور پہنچائے گا۔بلوچستان حکومت  اپنے خصوصی جہاز کے ذریعے اس افسر کو  اسی روز لاہور پہنچا دیتی ہے ۔وہ افسر لاہور پہنچتا ہے تو وزیر اعظم کے سٹاف افسر فون کر کے ان سےپوچھتے ہیں کہ آپ نے اپنا چارج سنبھال لیا ہے تو وہ بتاتے ہیں کہ میں اپنی والدہ محترمہ کی قبر پر  فاتحہ پڑھ کر چارج لوں گا۔انہیں کہا جاتا ہے کہ ذرا جلدی کریں اور چارج سنبھال کر وزیر اعظم کو فوری فون کریں ۔اس افسر نے شام سے کچھ پہلے سول سیکریٹیرٹ لاہور میں اپنی چارج رپورٹ پر دستخط کرنے کے بعد وزیر اعظم کو فون کیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا " میں نے چارج سنبھال لیا ہے"

اس وقت وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی تھے  جن کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا اور چیف سیکرٹری پنجاب کا چارج سنبھالنے والے افسر  ناصر کھوسہ تھے۔پنجاب میں حکومت مسلم لیگ (ن)  کی  تھی اور  میاں شہباز شریف وزیر اعلیٰ تھے۔وزیر اعظم نے اس وقت کچھ لوگوں کو  بتایا کہ  ان کا  اور  میاں شہباز شریف  کا  ناصر کھوسہ کو  چیف سیکرٹری پنجاب  لگانے پر اتفاق تھا مگر کچھ اور افسران بھی اس عہدے پر لگنے کےلئے ایوان صدر سے سفارشیں کر ا  رہے تھے  جس کے جواب میں وہ کہہ چکے تھے کہ ناصر کھوسہ چارج لے چکے ہیں ۔اس لئے وہ بار بار  انہیں  جلدی چارج سنبھالنے کے لئے کہہ رہے تھے۔مسلم لیگ(ن) اس وقت پیپلز پارٹی کے سخت مخالف تھی مگر دونوں جماعتیں ناصر کھوسہ کی محنت،دیانت اور غیر جانبداری پر متفق تھیں۔

ناصر کھوسہ  ، عالمی بنک میں  خدمات سرانجام دینے   کے  بعد چند روز قبل ہی   لاہور  پہنچے تھے کہ انہیں  اچانک  خبر ملی  کہ   پنجاب کی حکومت اور اپوزیشن  نے اتفاق رائے  سے انہیں  پنجاب کا نگران وزیر اعلیٰ بنا  دیا ہے ۔اس وقت پنجاب میں حکومت مسلم لیگ(ن) کی  ہے اور پاکستان تحریک انصاف  اپوزیشن کی بڑی جماعت ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ  نامزد  نگران وزیر اعلیٰ پنجاب ناصر کھوسہ پر تمام جماعتوں کو اتفاق رائے ہے۔یہ عزت کسی کسی کے ہی حصے میں آتی ہے کہ اس متنازعہ دور میں بھی وہ غیر متنازعہ کہلائے۔

پاکستان کی اعلیٰ بیوروکریسی کی تاریخ  میں پچھلے دس سال ایک ایسے باب  کا احاطہ کرتے ہیں جس میں  افسروں  کا ایک ایسا قبیلہ وفاق اور پنجاب میں راج کرتا رہا  جسکی اپنی سوچ اور وژن زیرو تھی۔حکومت  ایوان وزیر اعظم اور ایوان  وزیر اعلیٰ کے ذریعے  شریف برادران چلاتے تھے اور اس سلسلے میں وہ کسی  افسر  کی  سنتے تھے  نہ کسی افسر میں ہمت تھی کہ انہیں نہ کر سکے۔  جن افسروں کا کام  وزیر اعلیٰ کو بہتر ایڈوائیس دینا تھا وہ  میرٹ کی بجائے  انگلی کا اشارہ دیکھتے تھے۔میاں شہباز شریف  ایک سخت گیر  وزیر اعلیٰ تھے جو بات بات پر افسروں کی بے عزتی کرنے کو اپنی مقبولیت سمجھتے تھے۔پنجاب میں یادش بخیر  جاوید محمود  ان کے  ایسے چیف سیکرٹری تھے جو  ارکان اسمبلی،افسروں اور لوگوں کو  بے عزت کرنے کےلئے اپنے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف سے بھی دو ہاتھ آگے ہوتے تھے۔ان کی وجہ سے میاں  شہباز شریف کی گورننس کا  رہا سہا  بھٹہ بھی  بیٹھ چکا تھا ۔ جس طرح دانش سکولوں  اور  سستی روٹ کے نام پر  پنجاب کا  سرمایہ ضائع کیا گیا اسکی مثال نہیں ملتی ۔ ان ہی کاموں اور دوسرے معاملات  کی وجہ سے  جاوید محمود برے طریقے سے پنجاب کی چیف سیکرٹری شپ سے ہٹائے گئے تو ناصر کھوسہ پنجاب کے چیف سیکرٹری بنے۔وہ چند سال شائد پنجاب کی گورننس کے بہترین سال تھے ۔ناصر کھوسہ نے چیف سیکرٹری شپ کو  نہ صرف سیاست سے دور رکھا بلکہ میاں شہباز شریف کو ایسے کاموں سے بھی روکنے کےلئے اہم کردار ادا کیا جو صوبے اور عوام  کےلئے ٹھیک نہ تھے۔وہ پنجاب میں چیف سیکرٹری شپ کےلئے ایک رول ماڈل بنے اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی ان کی طرح بہتر کام کرنے کی روش برقرار رکھی مگر وہ سب ایوان وزیر اعلیٰ کے سامنے بند نہ باندھ سکے اور اس وقت چیف سیکرٹری آفس جو عملی طور پر حکومت کا منبع ہوتا ہے وہ ایک سیکشن افسر کا دفتر بن چکا ہے۔ پنجاب میں اب دس سالہ شریف شو اختتام کو پہنچا ہے  تو ایک اچھی خبر یہ آئی ہے کہ ناصر کھوسہ کو نگران وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا ہے اور ان کے نام پر حکومت اور اپوزیشن کا مکمل اتفاق رائے ہے۔ 

  ماضی میں نجم سیٹھی کی بطور نگران وزیراعلیٰ تعنیاتی اور ان پر لگنے والے الزامات کے بعد امید کی جارہی تھی کہ آئندہ سامنے آنے والے نام پر بہت زیادہ لے دے ہو گی لیکن اس دفعہ دوسابقہ چیف سیکرٹری صاحبان کا نام زیرغور رہا۔ ایک کامران رسول اور دوسرا ناصر محمود کھوسہ اور آخر کار ناصرمحمود کھوسہ کے نام پر اتفاق ہوگیا جو کہ ایک اپ رائٹ اور ایماندار افسر کے طورپر اپنے حلقہ احباب میں جانے جاتے ہیں اور یہ ایسا نام ہے جس پر کسی کوبھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ناصر محمود کھوسہ ریٹائر ہونے سے پہلے پنجاب کے چیف سیکرٹری کے اہم عہدے پر فائز رہے اور اس زمانے میں وہ واحد افسر تھے جن کی اکثرمعاملات میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز کیساتھ ہونے والی میٹنگز میں میرٹ پر اختلاف ہوتا تھا اور وہ ہمیشہ اپنی بات کو صحیح ثابت کرکے منواتے بھی رہے۔ناصر محمود کھوسہ     کی شہرت نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی طور پر انتہائی قابل اور لائق افسر کے طور پر ہے۔ان کا تعلق ایک انتہائی اعلیٰ ٰخاندان سے ہے جس کے ہر فرد نے ملک و قوم کی خدمت کے لیے اپنا خون پسینہ ایک کیا ہے اور قربانیاں دی ہیں ان کے بھائی  جسٹس آصف سعید کھوسہ سپریم کورٹ کے جج ہیں جبکہ ان کے دوسرے بھائی طارق کھوسہ آئی جی بلوچستان اورڈی جی ایف آئی اے رہ چکے ہیں۔امید کی جا رہی ہے کہ بحیثیت نگران وزیر اعلیٰ پنجاب ناصر کھوسہ مثالی کام کریں گے۔مجھے امید ہے کہ  نگران وزارت اعلیٰ کے اپنے دور میں وہ  پنجاب کی متنازعہ ، قومی خزانے پر بوجھ   لمبی چوڑی کمپنیوں کا معاملہ بھی میرٹ پر حل کریں گے۔

 ۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ