حب الوطنی کی نرالی منطق

حب الوطنی کی نرالی منطق
حب الوطنی کی نرالی منطق

  

سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کو جی ایچ کیو طلب کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اور سابق سربراہ راء امرجیت سنگھ دلت کی مشترکہ کتاب “دا سپائی کرانیکلز” پر وضاحت پیش کریں، حیران کن امر یہ ہے کہ کسی کو  کانوں و کان خبر نہ ہوئی کہ اس ایجنسی کا سابق سربراہ دشمن ملک کی انٹیلیجنس ایجنسی کے سابق سربراہ کے ساتھ مل کر ایسی کتاب لکھ رہا ہے جس میں قومی سلامتی سے متعلق کئی اہم راز منکشف ہونے جا رہے ہیں، اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ بات  مقتدر قوتوں کے علم میں تھی تو سوال اٹھتا ہے کہ پھر بروقت ایکشن کیوں نہیں لیا گیا  ؟

جہاں تک سوال ہے طلبی کا تو طلبی کے بعد حسب سابق انکوئری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں کوئی ایکشن بھی ہو گا یا شاید محض دکھاوا ثابت ہوگا۔ بالکل اسی طرح جیسے ڈان لیکس ون اور ڈان لیکس ٹو پر بھرپور میڈیا کوریج حاصل کرنے کے بعد معاملات ردی کی ٹوکری میں پھینک دئیے گئے، ہماری اسٹیبلشمنٹ بھی انوکھا مزاج رکھتی ہے اور اپنے آپ کو سب سے بڑھ کر محب وطن سمجھتی ہے، اگر کوئی عمل مزاج شریف کو ناگوار گزرے چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو حب الوطنی کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ایکشن ضرور ہوگا اور اس کے برعکس چاہے جتنا بھی سیرئس مسئلہ درپیش ہو اگر مزاج مبارک کے لئے تکلیف دہ نہیں تو قومی مفاد نامی مصلحت کی نظر ہو جائے گا، ڈان لیکس ون اور ٹو دونوں پر حیرت انگیز خاموشی بتاتی ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے کیونکہ اگر نواز شریف نے جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈہ کیا تھا تو ابھی تک اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے تھا اور اگر اس نے سچ بولا تھا تو کم از کم ہمیں شورمچانا بند کر دینا چاہئے۔

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب خان صاحب نے الیکشن لڑ کر اپنی حب الوطنی ثابت کی کیونکہ مادر ملت کا تو حب الوطنی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی انہوں پاکستان بنانے کے لئے اپنے بھائی کے ساتھ دن رات ایک کئے تھے بلکہ ان کو تو گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے آج کل کے ایک وفاقی وزیر کے والد مرحوم سے مبینہ طور پرسیدھی سیدھی گالیاں دلوائیں گئی تھیں، جنرل یٰحیٰ خان نے اس حب الوطنی کو ذولفقار علی بھٹو کی مدد سے سکیڑ کر مغربی پاکستان تک محدود کر دیا، اسی طرح جنرل ضیاءالحق نے بھی اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پہلے نوے دن میں الیکشن کا اعلان کروایا مگر پھر حب الوطنی کے تقاضے پورے کرتے ہوئے خود ہی تقریباً گیارہ سال اقتدار پر براجمان رہے۔

جہاں تک بات ہے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی تو وہ شایداپنے آپ کو باقی تمام آمروں سے بڑھ کرحب الوطن سمجھتے ہیں ۔اسی لئے انھوں نے وطن کی بہتری و ترقی کے لئے ایک انتہائی مہنگا وزیراعظم امپورٹ کیا جو حکومت ختم ہوتے ہی ایکسپورٹ ہو گیا اور گیارہ سال گزر گئے ابھی تک ایکسپورٹ حالت میں ہے، جہاں تک مزاج کو گراں گزرنے کی بات ہے تو اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ اگر کوئی بھی اسٹیبلشمنٹ پر کھلی تنقید کرے، چاہے وہ مثبت ہی کیوں نہ ہو اس کو جناب سلیمانی ٹوپی پہنا دیتے ہیں جس کے بعد وہ ہوتا تو وہیں ہے مگر نظر کسی کو نہیں آتا، یا اگر زرداری صاحب “اینٹ سے اینٹ بجا دینگے “ جیسی ہوائی فائرنگ کریں تو اگلے صاحب بہادر کے چارج سنبھالنے تک ملک میں داخل نہیں ہو سکتے۔

جس طرح ہمارے سیاستدان اس قوم کو بانجھ سمجھتے ہیں اور صرف اپنے بچوں،بھتیجو ں اور بھانجھوں وغیرہ کو الیکشن اور قیادت کا اہل سمجھتے ہیں بالکل اسی طرح ہماری اسٹیبلشمنٹ بھی اس قوم کو بانجھ سمجھتی ہے ۔اسی لئے پچھلے ستر سال سے انہیں دو ہزار خاندانوں کے علاوہ کوئی بھی قیادت کے قابل نہیں لگا اور وہ انہیں کو پارٹیاں بدلوا بدلوا کر اقتدار میں لاتی رہی ہے اور آج بھی یہی کچھ ہوتا نظر آ رہا ہے،ایک ڈرائی کلینر مرکز میں لگا ہوا ہے اور ایک کراچی میں ۔جو بھی اس ڈرائی کلینر سے گزر جائے اس کے سارے پاپ دھل جاتے ہیں اور وہ اگلے اقتدار کے مزے لوٹنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے، ہمارے سیاستدان بھی اتنے شریف النفس ہیں کہ ہر بار جمہوریت کا بہانہ بنا کر اقتدار حاصل کرتے ہیں اور پھر لوٹ مار کا بازار گرم کر کے دوبارہ آمریت کی راہ ہموار کر جاتے ہیں، جب سیاستدان نادیدہ دیواروں کو کراس کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ردعمل انکا منتظر ہوتا ہے۔

ہماری اسٹیبلشمنٹ نے جتنی محنت مختلف افراد کو بنانے میں کی ہے اس سے آدھی بھی اگر اداروں کو بنانے پر کی ہوتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی مگر شاید حب الوطنی کا  نشہ ابھی اترا نہیں ،اسی لئے اگلا الیکشن  اس حب الوطنی کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے، دو چار چہروں کی تبدیلی ہو گی اور قوم پھر ایک اندوہناک گڑھے میں گرا دی جائے گی ی۔وں جمہوریت بھی پروان چڑھتی رہے گی اور صاحب بہادر کا مزاج شریف بھی۔

..

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -