پشاور کے ہسپتالوں میں انکیوبیٹرز کی کمی کا سامنا، ایک انکیوبیٹر میں پانچ پانچ بچے لیکن ہسپتال انتظامیہ نے انتہائی حیران کن وجہ بتادی

پشاور کے ہسپتالوں میں انکیوبیٹرز کی کمی کا سامنا، ایک انکیوبیٹر میں پانچ ...
پشاور کے ہسپتالوں میں انکیوبیٹرز کی کمی کا سامنا، ایک انکیوبیٹر میں پانچ پانچ بچے لیکن ہسپتال انتظامیہ نے انتہائی حیران کن وجہ بتادی

  



پشاور(ویب ڈیسک) صوبہ خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں انکیوبیٹر کی کمی کا سامنا ہے اور ایک انکیوبیٹر میں بچوں کو ایک ساتھ رکھنے سے ان کی صحت متاثر ہو رہی ہے، اس ضمن میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے پیڈیاٹرکس وارڈ کے انچارج پروفیسر ڈاکٹر افضل خٹک نے بتایا کہ بچوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ایک انکیوبیٹرمیں پانچ نومولود رکھے جاتے ہیں۔

جیونیوز کے مطابق ایک انکیوبیٹر میں ایک بچے کو آکسیجن فراہم کرنے کی سہولت موجود ہوتی ہے، تاہم پشاور کے اسپتالوں میں بیک وقت کئی بچوں کو ایک ہی انکیوبیٹر میں آکسیجن دی جارہی ہے، جس کے باعث ان بچوں کے جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لیڈی ریڈنگ اسپتال میں 25 انکیوبیٹرز موجود ہیں جب کہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلکس میں 11، 11 انکیوبیٹرز ہیں۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے پیڈیاٹرکس وارڈ کے انچارج پروفیسر ڈاکٹر افضل خٹک نے بتایا کہ پشاورکے ہسپتالوں میں صوبے کے دیگر اضلاع سے بھی بچے لائے جاتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر 45 بچوں کو داخل کیا جاتا ہے، بچوں کی زیادہ تعداد کے باعث ایک انکوبیٹر میں 5 نومولود رکھے جاتے ہیں، لیکن اگر دیگر اضلاع میں بھی سہولت دے دی جائے تو پشاور کےہسپتالوں پر بوجھ کم ہوسکتا ہے۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور


loading...