اندھی ڈولفن گندے پانیوں میں اتر گئی

اندھی ڈولفن گندے پانیوں میں اتر گئی
اندھی ڈولفن گندے پانیوں میں اتر گئی

  



انڈس کی ڈولفن کو اللہ نے آنکھیں دے رکھی ہیں لیکن وہ اندھی اس وجہ سے کہلاتی ہے کیونکہ وہ ان آنکھوں سے دیکھتی نہیں۔۔نہ جانے اسی فلسفہ کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب میں نیا تجربہ کرتے ہوئے ڈولفن فورس کو معرض وجود میں لایا گیا تھا تاکہ یہ بھی آنکھیں رکھتے ہوئے اندھا دھند سڑکوں پر بھاگتی پھرے ۔دس لاکھ کی موٹر بائیک ،پچاس ہزار کا یونیفارم ،پینتیس ہزار کے ہیلمٹ سے لیس اس فورس پر بڑے دعوے کئے گئے تھے کہ اب لاہور میں سٹریٹ کرائم پر کنٹرول کرلیا جائے گا ،اسکو شفاف کردار کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ،پڑھے لکھے نوجوانوں کی اخلاقی تربیت پر بہت رگڑادیا گیا،دعویٰ کیا گیا کہ ڈولفن ایک کال پر لپک کر جائے وقوعہ پر پہنچ جایا کرے گی ۔اسکے فرائض کی ایک لمبی فہرست کو مشتہر کیا گیا کہ پولیس پر لگی کرپشن اور اندھی کارروائیوں کے برعکس ڈولفن فورس ہتھ چھٹ ،مک مکا اور کارروائیاں ڈالنے والی فورس واقع نہیں ہوگی لیکن ڈولفن فورس تیرتی ہوئی اب گندے پانیوں میں اتر گئی ہے ۔منتھلیاں ، مک مکا اور کارروائیاں ڈالنے کے الزامات اسکے سر تھوپے جارہے ہیں ۔پچھلے دو سال میں کئی ڈولفنیوں کو رشوت اور شہریوں کو بے جا تنگ کرنے پر سزاوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔لیکن اسکی یہ روش ابھی تک برقرارہے ،معصوم اور بے گناہوں کو ذرا سی خطا پر فائر ماردیاجاتا ہے،سڑکوں پر دو دو کی بجائے چار چار کے گروہوں میں مست خرامیاں کرتی اور کسی سڑک یا گلی کی نکڑ میں اکٹھے ہوکر گپیں ہانکتی ڈولفنز عام دکھائی دیتی ہیں ۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے جب ڈولفن کا تربیتی سکواڈ چوہنگ سے تربیت پاکر نکلا تھا تو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو نئی فورس کے کرتب دکھائے گئے ۔اسکی پیشہ وارانہ مہاراتوں میں مارشل آرٹ اور ایکروبک ایکسرسائز کوشامل کیا گیا تھا ۔ترک پولیس کے ڈولفن ماہرین سمیت پورے لاہور کے سیاسی و غیر سیاسی اورسینئر صحافیوں کو اس تقریب میں مدعو کرکے ڈولفن کے جتھے کا مظاہرہ دکھایا گیا ،ہر کوئی خوش تھا لیکن ایک پولیس افسر کو یہ کہتے سنا کہ ”اس سے پہلے ایلیٹ فورس،شاہین فورس اور مجاہد فورس پر بھی یہی دعوے کئے جاچکے ہیں۔پلس آخر پلس ہے بھائی ،چند ماہ بعد ہی دیکھ لینا ڈولفن فورس سفید ہاتھی بن جائے گی “ان کا تجربہ بول رہا تھا یا کسی افسر سے حاسدانہ چشمک لیکن انکی پیش گوئی غلط بھی نہیں نکلی ۔تاہم اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ڈولفن نے لاہور میں بڑھتے جرائم خاص طور پر سٹریٹ کرائم کے خلاف موثر کام کیا لیکن جلد ہی ڈولفن کی کھال میں چھپی پلس نمودار ہوگئی۔اس بات کا ایک عام شہری بھی مشاہدہ کرسکتا ہے کہ سڑک کنارے اگر کوئی حادثہ ہوگیا ،کوئی لڑائی ہورہی ہے،کسی نے چور پکڑ رکھا ہے، ٹریفک سینگ پھنسا کر کھڑی ہے،نوجوان سر بازار خواتین کو تنگ کررہے ہیں،ڈولفن فورس والا ترچھی نظر سے دیکھتا ہوا ایسے کسی منظر پر نہیں رکے گا ۔وہ پرائی جنگ میں نہیں پڑے گا تاوقتیکہ اسے ون فائیو سے کال نہ آجائے حالانکہ اسکو کالز کا محتاج نہیں رکھاگیا۔  اسی ڈولفن فورس کو بازاروں ،شاپنگ ایریاز ،سڑکوں پر ذراسا خلل نظر آیا تو اسے کلئیر کرنے میں انہیں مصروف پایا ۔اسی کارکردگی کی بنا پر انہیں ایک ذمہ دار اور حساس پولیس سمجھا گیا لیکن آج لاہور میں شادباغ کے علاقہ میں جو واقعہ ہوا ہے اس سے شہریوں میں گہری تشویش بڑھ گئی ہے کہ اسقدر اناڑی اوراندھی فورس کہ جو ٹارگٹ سے چوک جاتی ہے اور اسکی گولی کسی مجرم کی بجائے کسی معصوم کی جان لے لیتی ہے ۔رنگ روڈ پر ڈولفن فورس نے ایک مشتبہ کار کے نہ رکنے پر فائر کردیا ،مبینہ طور پر گولی عام نوجوان راہ گیر کو جالگی،ایس ایس پی ڈولفن ندیم کھوکھر کے مطابق یہ انتہائی مطلوب لوگ تھے جوشیخوپورہ سے کرایہ پر کار لیکر آئے تھے جن کی اطلاع ہونے پر تعاقب کیا گیا اور ڈولفن فورس کے ساتھ ان کا فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس سے گولی راہ گیر کو لگ گئی ۔لیکن جائے وقوعہ پر موجود عام لوگوں کی رائے اس کے برعکس ہے ۔اب اس واقعہ پر تحقیقات کا وعدہ تو کیا گیا ہے لیکن یہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے کہ اگر ڈولفن فورس کوئی غلطی کربیٹھے تو اسکو تسلیم کرنے کی بجائے اسکا جواز پیدا کرلیا جاتا ہے ، اور یہ پرانی روایت ہے ۔ہمارے پولیس افسران کو اب پرانی متھ سے باہر نکل آنا چاہئے ۔یہ کیمرے کا دور ہے اور یہ کیمرہ صرف جرائم پیشہ لوگوں کو ہی نہیں دیکھ رہا ہوتا ،پولیس کی کارروائیوں کو بھی مانیٹر کررہا ہے ۔ہر ہاتھ اب موبائل کیمروں سے لیس ہوچکا ہے۔زمانہ بدل چکا ہے۔سچائی کو ڈھٹائی کی بجائے سچائی سے تسلیم کرنا چاہئے تاکہ پولیس فورس کو بھی انسان بنایا جاسکے ۔ورنہ اسکا بھی وہی حال ہوگا جو ایلیٹ فورس، انسداد دہشت گردی پولیس، کوئیک ریسپانس فورس، پنجاب ہائی وے پیٹرولنگ اور محافظ فورس شاہین فورس کا ہوچکا ہے۔

۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ