’’سلیپنگ سوٹ پہنے چھوٹی سی بچی نے میری امی کے پیروں کو چھوا تو۔۔۔ ‘‘برسوں پہلے فوت ہونے والی ایک پراسرار بچی کا اس خاتون سے ایسا تعلق سامنے آگیا کہ سن کر کوئی بھی یقین نہیں کرے گا

’’سلیپنگ سوٹ پہنے چھوٹی سی بچی نے میری امی کے پیروں کو چھوا تو۔۔۔ ‘‘برسوں ...
’’سلیپنگ سوٹ پہنے چھوٹی سی بچی نے میری امی کے پیروں کو چھوا تو۔۔۔ ‘‘برسوں پہلے فوت ہونے والی ایک پراسرار بچی کا اس خاتون سے ایسا تعلق سامنے آگیا کہ سن کر کوئی بھی یقین نہیں کرے گا

  



تحریر: عبدالمنان چشتی 

ہم جنوں بھوتوں وغیرہ کی کہانیوں کو انسانوں کے وہم سے منسوب کرتے ہیں اور خاص طور پر کسی پسماندہ ملک کے رہنے والوں پر یہ الزام تھوپ دیا جاتا ہے کہ پسماندگی کی وجہ سے وہ ایسی کہانیاں سوچتے رہتے ہیں حالانکہ امریکہ جیسے بڑے ملک میں جادو ٹونہ اور گھوسٹ سٹوریز کو ایک حقیقت سمجھا جاتا ہے ۔یہ کہانی بھی اس نظریہ کی تصدیق کرتی ہے جو میں نے کسی جگہ پڑھی اور آپ سے شئیر کررہا ہوں ۔

ہم پنسلوانیا میں رہتے تھے اور وہاں کبھی کبھار جاتے تھے۔ یہ تقریباً سو سالہ پرانا اور دو منزلہ فارم ہاو س ہے جسے میرے نانا نانی کے خاندان والوں نے بنایا تھا۔ کہانی کچھ یوں ہے۔پہلی رات اس گھر میں کوئی واقعہ پیش نہ آیا مگر دوسری رات کافی دیر تک ہم جاگتے رہے۔ میرے ماں باپ نے مجھے خوب باتیں سنائیں جب کہ میرا بھائی اور بہن گھر کے اس پرانے حصے میں ہی تھے۔ ممی اور پاپا سونے کیلئے اوپر والے پورشن میں چلے گئے جہاں مہمانوں کے سونے کیلئے دو بیڈ رومز کے سوا کچھ نہ تھا اور عموماً وہاں نہ کوئی سوتا تھا نہ ہی کوئی جاتا تھا۔ میرے بہن بھائی سامنے والے بیڈروم میں جہاں ممی شادی سے پہلے سویا کرتی تھیں سورہے تھے اس لیے ممی وہاں پر بہت سکون محسوس کرتی تھیں۔ وہ بستر پر لیٹتے ہی نیند کی آغوش میں چلے گئے۔

تقریباً آدھی رت کو پاپا باتھ روم جانے کیلئے اٹھے جو کہ نیچے والے پورشن میں تھا۔ جب وہ کمرے سے نکلے تو انہوں نے دروازہ اچھی طرح بند کردیا جبکہ ماں برآمدے سے آنے والی آواز سن کر اٹھ بیٹھی۔ انہوں نے دیکھا کہ کمرے کا دروازہ کھلا ہے اور پاپا باتھ روم جارہے ہیں کہ اچانک ان کو اپنے سامنے دروازے میں لمبے لمبے بالوں والی سلیپنگ سوٹ پہنے ہوئے ایک لڑکی دکھائی دی۔ اس کا سوٹ اتنا لمبا تھا کہ وہ فرش پر لگ رہا تھا۔

امی قدرے غنودگی میں تھیں اس لیے انہوں نے یہی سمجھا کہ شاید وہ میں ہی ہوں لیکن جب انہیں پورے چاند کی روشنی میں واضح طور پر وہ جسم یا سایہ دکھائی دیا تو وہ ہکا بکا ہوگئیں کیونکہ وہ جسم نما سایہ اب آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ بغیر کسی خطرے کے انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے ذہن پر کوئی چیز غالب آرہی ہے جو ٹھیک نہیں ہے۔ اس دھندلے سے سایہ کے بال ہلکے بھورے تھے۔

اچانک انہیں ایسا لگا کہ وہ اس بچی کو نہیں جانتیں لیکن اس کے باوجود وہ ان کی طرف آرہی تھی۔ جیسے جیسے وہ ان کے نزدیک آرہی تھی انہوں نے خود کو پیچھے اپنے بستر کی طرف سرکتے ہوئے محسوس کیا اور پھر اس بچی نے میری ماں کو بہن بہن پکارنا شروع کردیا۔ اس کے بعدوہ پتھراسی گئیں اور انہیں ایسا لگا جیسے وہ بچی ان کے پاوں پکڑنے کیلئے آگے بڑھ رہی ہے۔ بچی اتنی قریب آچکی تھی کہ وہ مزید پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھیں۔

انہوں نے پوری طرح محسوس کیا کہ جو کچھ ان کے سامنے ہورہا ہے وہ ایک ناقابل فہم چیز اور ان کی خام خیالی ہے ۔جب بچی نے انہیں پکڑا تو وہ بہت پریشان ہوگئیں اور جیسے ہی بچی نے اپنی چھوٹی چھوٹی انگلیاں ان کے کانپتے ہوئے پاوں پر پھیریں تو ان کا انگ انگ درد کرنے لگا اور پھر اس کے بعد کچھ دکھائی نہ دیا۔

ماں جب بیدار ہوئیں تو انہیں اپنے جسم میں بہت درد محسوس ہورہا تھا۔ انہیں ایسا لگ رہا تھا جیسے انہوں نے کسی ٹریننگ کے بغیر میراتھن میں حصہ لیا ہو۔ انہوں نے ابو سے پوچھا کہ جب وہ رات کو باتھ روم جانے کیلئے اٹھے تھے تو کیا وہ دروازہ بند کرنا بھول گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ باتھ روم ضرور گئے تھے مگر وہ پوری طرح ہوش و حواس میں تھے اور انہوں نے دروازہ بند کیا تھا۔ ماں نے اسے ایک ڈراونا خواب سمجھا اور چپ ہوگئیں۔ جب ہم ناشتہ کرچکے تو ماں نے نانا ابو کو اس صورتحال کے بارے میں بتایا اور انہوں نے کچھ ایسی باتیں بتائیں جنہیں سن کر ہمارے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی ایک چھوٹی بہن تھی جو بالکل میری ماما جیسی تھی اور وہ اوپر والے مکان میں میری ماں کے سامنے والے بیڈروم میں ہی سوتی تھیں‘ گیارہ سال کی عمر میں نمونیا کا شکار ہوکر مرگئی تھی اور اپنی ماں کی دیکھ بھال کے باوجود نائٹ گاون پہنے ہوئے ہی دم توڑ گئی۔ نانا جان میری ماں کو ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ان کی شکل اپنی دادی سے ملتی جلتی ہے۔ یہ کہانی سننے کے بعد ہم اپنی کار میں واپس پنسلوانیا آگئے اور میں اتنا ڈر چکی تھی کہ اس دن سے لے کر آج تک میں اس گھر کے اوپر والے پورشن میں نہیں سوئی۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت


loading...