پاک فوج کا وہ شیر دل کپتان جس نے خود کش بمبار بنانے والی فیکٹری پر ہلہ بول دیا اور پھر وہ کام کردکھایا کہ آج پوری قوم اس کی بہادر ی پر فخر کرتی ہے  

پاک فوج کا وہ شیر دل کپتان جس نے خود کش بمبار بنانے والی فیکٹری پر ہلہ بول دیا ...
پاک فوج کا وہ شیر دل کپتان جس نے خود کش بمبار بنانے والی فیکٹری پر ہلہ بول دیا اور پھر وہ کام کردکھایا کہ آج پوری قوم اس کی بہادر ی پر فخر کرتی ہے  

  



شہادت کے لئے بھی نیت درکار ہوتی ہے ،ایسی تمناجو بے تاب ہوتی ہے ۔ماتھے پر لکھی شہادت محراب بن جاتی اور ساری کی عبادتیں سرخرو ہوجاتی ہیں۔لیفٹنٹ کرنل نصراللہ خان بھی شہادت کی تمنا لیکر پاک فوج میں گئے تھے لیکن رتبہ انکی بجائے انکے بیٹے علی کے نصیب میں لکھا تھا ۔ 

کیپٹن فرحان علی نے فوج جوائن کرنے سے پہلے ہی نیت کرلی تھی کہ وہ شہید ہوگا ۔وہ امر ہونا چاہتاتھا ۔وہ ایسی موت کی تمنا کرتا تھا کہ اس کی روح کوروز قیامت کا انتظارنہ رہے کہ تب اپنے رب کا دیدار کرسکے ،وہ شہید ہوجاتا تو اسکی روح اللہ کے پاس سیدھی چلی جاتی ،جنت میں قیام کرتی ،شہید جو شاہد ہوتا ہے اور شاہد کو حاضر بھی کہا جاتا ہے ،اس میں محبوبیت ہوتی ہے ۔جو محبوب حاضر ہو وہ اللہ کا پیارا ہوتا ہے اور شہید تو روزقیامت سے پہلے ہی اللہ کے پاس جنت میں چلے جاتے ہیں ،فرشتے اسکی خدمت پر حاضر ہوتے ہیں ۔

کیپٹن فرحان علی کو سبھی پیار سے علی کے نام سے پکارتے تھے ۔ بچپن میں ہی اپنے بڑے بھائی کے ساتھ فوجی فوجی کھیلا کرتا تھا۔یہ شوق پروان چڑھتا چلا گیا ،دونوں بھائیوں کو فوج میں جانے کی شدید تمنا تھی لیکن علی بازی لے گیا ۔ایک خوش مزاج اور انتہائی جوشیلا نوجوان ہونے کے ناطے وہ گھر سے باہر تک ہر ایک ایج گروپ میں بڑا مقبول تھا ۔بریشم کی طرح نرم ۔گھر میں کوئی خوشی کا موقع ہوتا تو سب علی علی پکارتے کیونکہ اسکے بغیر کوئی خوشی پوری نہیں ہوتی تھی ۔جب حق و باطل کے رزم میں پہنچاتو فولاد کی طرح ڈٹ گیا تھا وہ ۔یہی جرات اسکو میدان شہادت تک لے گئی ۔

تین اپریل 2011ءمیں وہ درہ آدم خیل و خیبر ایجنسی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں مصروف تھا ۔ یہ وہی علاقہ ہے جو کئی دہائیوں سے اسلحہ سازی میں اپنا مقام رکھتا ہے ۔یہاں چھوٹی چھوٹی اسلحہ ساز فیکٹریاں موجود ہیں ،کہا جاتا ہے کہ دنیا کا جدید ترین اسلحہ بھی بنوانا ہوتو اسکی ایک نقل درہ آدم خیل پہنچا دو اور اگلے چند دنوں بعد ویسا ہی ہتھیار آپ کے ہاتھوں میں ہوگا اور اس میں اصل اور نقل کی پہچان کرنا مشکل ہوجائے گی ۔دہشت گردوں نے درہ آدم خیل کو اپنا گڑھ بنایا ہوا تھا اور خودکش بمباروں کو یہاں تربیت دیکر پشاور بھیجا جاتا تھا ۔خودکش بمباروں کی اس فیکٹری کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو عزم مصمم طے کیا گیا کہ اس علاقہ کو دہشت گردوں سے ہر قیمت پر صاف کرنا ہے ۔اس اہم ترین آپریشن کے لئے کیپٹن فرحان علی کو خصوصی ٹاسک دیا گیا تھا ۔چھبیس پنجاب رجمنٹ کا یہ شیر دل 116 پی ایم لانگ کورس کا بہترین افسر بن نکلا تھاجسے اب اپنی مہارت سے اس علاقہ کو پھر سے پاکستان کا پرامن علاقہ بنانا تھا ۔فوج کو اطلاع مل چکی تھی کہ دہشت گرد درہ چھپر کے گاوں میں بیٹھ کر مشرقی علاقہ کو کنٹرول کررہے ہیں،وہ نابالغ بچوں کو وہاں لاتے اور انہیں فوج اور پاکستان کے خلاف بمبار بننے کی تربیت دیتے تھے ۔اس آپریشن کی تیاری کے لئے فوج کے چار گروپ تیار کئے گئے جن میں کیپٹن عمیر کو سے آخر میں رکھا گیا ۔اس موقع پر کمانڈر نے اسے حکم دیا تھا کہ وہ تینوں گروپس کو کور کرے گا ،پھر اسے بتایا گیا کہ ممکن ہے اس دوران اسے اہم ٹاسک بھی دیا جائے۔

چاروں گروپ جب آپریشن کے لئے نکلے تو سب سے پہلے قرآن پاک کی تلاوت کی گئی ،نعرہ تکبیر اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے سر پر کفن لپیٹے پاک فوج کے مجاہد دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی جانب چل نکلے ۔کوئی عصر کا یہ وقت تھا جب وہ دشمن کی پناہ گاہوں کی جانب بڑھے ۔اس وقت تک رات گہری تاریک ہوچکی تھی جب وہ پیدل چلتے ہوئے پہاڑکے اس مقام تک پہنچ گئے جہاں سے دشمن نے ان پر فائر کھول دیا ۔اچانک فائر ہونے پر فاروڈگروپ نے پتھروں کی آڑ لے لی تو کمانڈر نے وائرلیس پر انہیں ہدایت کی کہ ابھی جوابی فائر نہ کیا جائے کیونکہ اس طرح دشمن کو انکی اصل پوزیشن کا علم ہوجائے گا ۔کچھ دیر بعد فائر رکا اور پھر تیز ہوگیا ۔اس موقع پر کمانڈر نے بدستور حکمت اختیار کرنے کا حکم دیا اور ساتھ علی کو وائرلیس پر پیغام دیا کہ وہ فوری طور پر لیفٹ پوزیشن پر لوکیش ٹریس کرکے آرٹلری کا فائر مانگیں ۔اس وقت تک فوج کے فارورڈ گروپوں پر شدید ترین فائر آرہا تھا ۔دشمن نے راکٹ بھی فائر کئے ۔آپریشن غیر معمولی طور پر بڑے معرکہ میں بدل رہا تھا ۔

لیفٹنٹ کرنل اظہرمنیرکی قیادت میں اس آپریشن کو شروع کیا گیا تھا ،انہیں لمحہ لمحہ کی رپورٹ دی جارہی تھی۔ان کاکہنا ہے کہ دشمن کا فائر اتنا شدید تھا کہ ہمارے جوانوں کوایک جگہ رکنا پڑا اور آگے بڑھنے سے سب کو روکنا پڑاتھا ۔

کیپٹن فرحان علی اس دوران پوزیشن لیتے پہاڑی کے اوپر پہنچ گیااور اس نے اپنی بیس بنا لی جس سے ان کی باقی تینوں گروپس کے ساتھ کمیونکیشن قائم ہوگئی۔لیکن کچھ ہی دیر بعد جب دشمن کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ زیادہ ہونے لگا تو ریڈیو کمیونکیشن معطل ہونے لگی۔اس وقت کیپٹن فرحان علی نے انتہائی خطرناک قدم اٹھایا۔اس نے دیکھ لیا تھا کہ دشمن سامنے والی پہاڑی پر ان سے اونچائی پر ہے،اگر اسے نہ روکا گیا تو انکے جوانوں کی زندگی خطرہ میں پڑ سکتی تھی ،آپریشن ناکام ہوسکتا تھا ۔وہ تیزی سے اٹھا اور پہاڑی کے پیچھے سے ہوتے ہوئے دشمن کے عقب میں ایسی جگہ جا پہنچا جہاں سے ٹارگٹ بہتر فائر ہوسکتا تھا ۔نئی پوزیشن لیتے ہی کیپٹن فرحان علی نے فائر کھول دیا اور سات دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ۔

اس دوران دشمن کا زور کافی حد تک کم ہوگیا تھا ۔لیفٹینٹ اظہر منیر نے اس وقت علی کو واپس اپنے پاس بلایا اور اسے دوسرے ٹاسک بارے ہدایات دی کہ اب وہ درہ چھپر کے گاوں کی جانب ایڈوانس کریں ۔ کیپٹن فرحان علی نے ساری معلومات لینے کے بعد اپنے گروپ کو ساتھ لیا اور درہ چھپر کی طرف بڑھ گیا ۔اس وقت تک اطلاعات آچکی تھی کہ انتہائی ہائی پروفائل دہشت گرد اس وقت درہ چھپر میں موجود ہے ۔ کیپٹن فرحان علی کے علاوہ دوسے گروپ کو کیپٹن عمیر لیڈ کررہے تھے ۔درے کو جانے والے راستے پر ایک گروپ نے قدم جمائے تو اس دوارن دہشت گردوں کی جانب سے بڑا فائر آنا شروع ہوگیا ۔خلاف توقع یہ بھاری فائر تھا ۔ کیپٹن فرحان علی نے صورتحال بھانپتے ہوئے دہشت گردوں کے اس راستے پر قبضہ کرلیا جہاں سے وہ نکل کر بھاگ سکتے تھے ۔اس راستے پر قبضہ کرنے کا مطلب تھا کہ پورے گاوں کا مین راستہ بند کردیاگیاتھا، اس موقع پر کیپٹن عمیر نے اسکو پوزیشن تبدیل کرنے کا کہا کیونکہ دشمن نے کیپٹن فرحان علی کی لوکیشن پر بھاری فائر شروع کردیا تھا لیکن کیپٹن فرحان علی نے کہا” سر میں راستہ سے ہٹ گیا تو یہ بھاگ جائیں گے “ کیپٹن فرحان علی نے دیکھ لیا تھا کہ وہ صرف ایک پتھر کی پوزیشن لیکر بیٹھا ہے جبکہ سامنے دشمن زیادہ محفوظ مقام پر تھا ۔کچھ دیر بعد جب دشمن نے اس راستے سے بھاگنا چاہا تو کیپٹن فرحان علی نے انہیں انگیج کرلیا اور تمام دہشت گردوں کو ایک ایک کرکے ماردیا ۔اس دوران دشمن نے براہ راست کیپٹن فرحان علی کو ٹارگٹ کرلیا اورپہلی بار جو میزائل مارا،اتفاق سے وہ میزائل اسی پتھر کے ساتھ آ ٹکرایا جس کی اوٹ میں کیپٹن فرحان علی پوزیشن لیکر بیٹھا تھا ۔پتھر کے پرخچے اڑ گئے ، کیپٹن فرحان علی اسکی کرچیوں سے شدید زخمی ہوگیا ۔یہ لمحہ ایسا تھا کہ وہ اگر اس جگہ سے ہٹ جاتا تو سارے آپریشن کا مقصد فوت ہوجاتا ،پوزیشن لینے کے لئے آڑ بھی نہیں تھا ۔ کیپٹن فرحان علی نے کھڑے ہوکر دشمن کو تاک تاک کر مارنا شروع کردیا ۔جب وہ فائر نکال رہا ہوتا تھا،گولیوں کے ساتھ ساتھ اسکا نعرہ تکبر پہاڑوں کو چیر کر رکھ دیتا تھا ۔کیپٹن عمیر جو کیپٹن فرحان علی سے ایک سو میٹر دور تھا ،اس نے ریڈیو پر اسے روکا ”علی اپنی پوزیشن چینج کرو اور لیٹ کر فائر کرو“

”نو سر ،دشمن بھاگ رہا ہے ،اس کو بھاگنے نہیں دوں گا میں “ کیپٹن فرحان علی نے صدق جاں سے کہا اور عین اس وقت دشمن نے اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ کو اینٹی ائر کرافٹ گن سے ہٹانے کے لئے کیپٹن فرحان علی پر تابڑ توڑ تین فائر کئے ۔وہ گولیاں جو جہازوں کے پرخچے اڑا دیتی ہیں ، کیپٹن فرحان علی کے سینے پر لگیں اور بلٹ پروف جیکٹ کو چیرتی ہوئی گزرگئیں ، کیپٹن فرحان علی نے گولیاں کھاتے ہی نعرہ تکبیر بلند کیااور اسکے ساتھ ہی اسکی گن بھی خاموش ہوگئی۔وہ معرکہ سر کرچکا تھا ۔اس نے دہشت گردوں کی اس راہ گذر پر بیٹھ کر ان کا صفایا کردیا تھا جس سے گزر کر وہ پشاور اور پشاور سے پورے پاکستان میں خود کش بمباروں کو بھیجتے تھے ۔ وہ اپنا مشن پورا کرچکا تھا ،تاج شہادت سر پر سجائے اسکی روح فرشتوں کے سنگ جنت میں پہنچ گئی تھی ۔اسکی شہادت کے امر حق ہونے کا یقین اسکے والد اور والدہ کو اتنا زیادہ تھا کہ کوئی اپنے جوان سال بیٹے کی موت پر ایک آنسو بھی نہیں بہاپایا۔نہ بہن کے اشک بہے نہ بھائی تڑپا ۔سب کو اللہ کے ا س مہمان کی قسمت پر رشک تھا ۔

مزید : دفاع وطن


loading...