وزیراعظم شاہد خاقان عباسی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، انتہائی شرمناک خبر آگئی

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، انتہائی شرمناک خبر آگئی
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، انتہائی شرمناک خبر آگئی

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ہمارے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز ایک نیوز کانفرنس میں اہم اقتصادی اشاریوں پر بات کی اور خصوصاً پاکستان کے بیرونی قرضے کے بارے میں بتایا کہ یہ پانچ سال قبل کی نسبت کم ہو گیا ہے، مگر افسوس کہ وزیراعظم صاحب جاتے جاتے بھی غلط بیانی کر گئے ہیں۔

اخبار ’ایکسپریس ٹریبیون‘ کے مطابق وزیراعظم نے پرانے اور غلط اعدادوشمار بیان کرتے ہوئے ملک کا بیرونی قرضہ اس کے اصل حجم سے تقریباً ساڑھے 12 ارب ڈالر کم بتایا ہے۔ وزیراعظم نے اپنی نیوز کانفرنس میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ تمام وفاقی سرکاری ملازمین کو تین بنیادی تنخواہیں اعزازی طور پر دی جائیں گی لیکن بعدازاں وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل وزیراعظم کے اس وعدے کو پورا کرنے کے بارے میں بھی ہچکچاہٹ کے شکار نظر آئے۔

پاکستان کے بیرونی قرضہ جات کے بارے میں وزیراعظم کا کہنا تھا ”جی ڈی پی کے فیصد کے لحاظ سے مالی سال 2016-17ءکے آخر میں پاکستان کا بیرونی قرضہ 20.5 فیصد تھا جو کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے آخری سال میں ریکارڈ کئے گئے 21.4 فیصد سے کم ہے۔“ ان کا مزید کہنا تھا کہ اقتصادی ترقی کا واحد طریقہ قرضے لے کر ترقی کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تازہ ترین اعدادوشمار دستیاب ہونے کے باوجود وزیراعظم نے ایک سال پرانے اعدادوشمار بیان کئے۔ اس کا مقصد پاکستان مسلم لیگ ن کے تیسرے دور حکومت میں لئے گئے بھاری قرضہ جات کے حجم کو کم کرکے دکھانا تھا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی اپنی ویب سائٹ پر دستیاب تازہ ترین اعدادوشمار کو دیکھا جائے تو وزیراعظم نے بیرونی قرضوں کا جو حجم بتایا وہ جی ڈی پی کا چار فیصد کم ہے یعنی تقریباً ساڑھے 12 ارب ڈالر کم بتائے گئے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ جون 2017ءمیں قرض اور جی ڈی پی کا تناسب 20.5 فیصد تھا جبکہ سٹیٹ بینک کا ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ قرض اور جی ڈی پی کا تناسب 21.7 فیصد تھا۔ جب نیوز کانفرنس کے دوران وزیراعظم کی توجہ اس جانب دلائی گئی کہ ان کے بیان کردہ اعدادوشمار درست نہیں ہیں تو انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان اور ان کے پیش کردہ اعدادوشمار میں کوئی فرق نہیں۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...