’میں اس کو ’خدا‘ سمجھتی تھی لیکن اس ہی نے میری نوجوان بیٹی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کی۔۔۔‘

’میں اس کو ’خدا‘ سمجھتی تھی لیکن اس ہی نے میری نوجوان بیٹی کو جنسی زیادتی کا ...
’میں اس کو ’خدا‘ سمجھتی تھی لیکن اس ہی نے میری نوجوان بیٹی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کی۔۔۔‘

  



نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت، جہاں توہم پرستی انتہاءکو چھو رہی ہے، مذہبی رہنماﺅں کو بھگوان کا درجہ دیا جاتا ہے اور لوگ ان کی پوجا کرتے ہیں لیکن اکثر ڈھونگی بابے بھارتی باشندوں کی اس توہم پرستی کا ایسا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں کہ انہیں تمام عمر کے پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ ایسی ہی بپتا اس خاتون کی ہے جس کے پورے خاندان کی زندگی بھارت کے معروف بابے آسارام نے تباہ کر ڈالی۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس خاتون نے اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا ہے کہ ”آسارام ہمارے لیے خدا تھا۔ کئی سالوں تک ہماری زندگیاں اس خدا کے گرد ہی گھومتی رہیں، لیکن ایک دن اسی خدا نے ہماری زندگیاں تباہ کر ڈالیں۔ اس نے میری اکلوتی بیٹی کو اس وقت جنسی زیادتی کا نشانہ بناڈالا جب اس کی عمر صرف16سال تھی۔“

ہندوستان ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے خاتون کا کہنا تھا کہ ”میری زندگی کا سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ تھا جب میری بیٹی نے مجھے اپنے ساتھ ہونے والی اس گھناﺅنی واردات کے بارے میں بتایا۔ بیٹی سے سننے کے بعد جب میں نے یہ بات اپنے شوہر کو بتائی تو وہ بے ہوش ہو کر گر گیا، پہلی بار میں نے اسے صدمے سے بے ہوش ہوتے دیکھا تھا۔ جب میری بیٹی نے مجھے آسارام کی جنسی زیادتی کے متعلق بتایا تو اس کے بعد کئی گھنٹے تک وہ روتی رہی۔ ہمارا پورا خاندان ہی روتا رہا اور اگلے دن تک ہم میں سے نہ ہی کسی نے کچھ کھایا اور نہ کچھ بات کی۔جب ہم پولیس کے پاس گئے تو ہر کسی نے ہمیں کہا کہ اس پر سمجھوتہ کر لو اور خاموش ہو کر بیٹھ رہو۔آسارام بڑا آدمی ہے۔اگر اس کے خلاف کیس کرو گے تو الٹا تم ہی مشکل میں پھنسو گے۔میں اور میرا شوہر تو ان باتوں سے ڈر گئے لیکن ہماری بیٹی نے ہمیں ہمت دلائی۔ اس نے اپنے باپ سے کہا کہ ’باپا آپ گھبراﺅ مت، مجھے کچھ نہیں ہو گا۔“‘ واضح رہے کہ آسارام کو 2013ءمیں متعدد لڑکیوں کو جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اوراب اسے عدالت کی طرف سے عمر قید کی سزا سنا کر جیل بھجوایا جا چکا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی