دو ناصروں کا امتحان!

دو ناصروں کا امتحان!
دو ناصروں کا امتحان!

  



تحریر :خرم رفیق

حکومت و اپوزیشن کے درمیان کئی دن کے ناکام مذاکرات ، ملاقاتوں، عوامی رائے عامہ میں بحث مباحثوں اور ٹی وی ٹاک شوز میں تجزیوں اور تبصروں کے بعد قوم مبارک باد کی مستحق ہے کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی سوئی بلا آخر کسی مقام پر آکر اٹک گئی اورنگران وزیر اعظم کےلئے جسٹس (ر) نا صر الملک کے نام پر اتفاق رائے ہوگیا ہے جس کہ بعد ملک بھر میں جاری ایک لایعنی گفتگو کا انجام یقینی ہے ،ایسی اطلاعات بھی موجود تھیں کے اس حوالے سے سٹہ بازوں کی موجیں بھی لگی ہوئی تھیں یقینی طور پر ان کی بے چین روحوں کوبھی قرارآگیا ہوگا ان کی ہارجیت سے البتہ ہم کوسروکار نہیں ،ہمارے لئے یہی کافی ہے کہ نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق سے ایک کار بد کا خاتمہ ہوا البتہ اس حوالے سے رسم شنیعہ چل نکلی ہے اور کچھ بعید نہیں کہ الیکشن 2018کے نتیجے میں منتخب ہونیوالے وزیر اعظم کے نام پر بھی شرطیں لگے جائیں اور پھر ہمارے ملک میں انتخابات تو ہوتے رہتے ہیں ایک بارکام چل نکلا سو پھر چل سو چل سٹے بازی کرکٹ سے نکلی اور سیاست تک آپہنچی اب ”رو میں رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے“پتہ نہیں اب کون کونسے ادارے اس لعنت کا شکارہوتے ہیں ، کمی لانی ہے تو سخت اقدامات متقاضی ہیں کیونکہ پوری برائی تو کبھی کوئی ختم کرسکانہ ہوگی ، خیر وشر کا سفر ازل سے ابد تک ساتھ ساتھ جاری وساری رہنا ہے، کمی البتہ لائی جا سکتی ہے وہ بھی نیت جب نیک ہو، دوسری جانب ملک کے سب سے بڑے صوبے کے نگران وزیر اعلیٰ کیلئے ناصر محمود کھوسہ کانام بھی صوبائی حکومت اور اپوزیشن کی باہمی مشاورت سے فائنل ہوگیا ہے ، ناصر محمودکھوسہ ایک سابق بیور و کریٹ ہیں نگر ان اعلیٰ کے منصب کیلئے ان کا نام تحریک انصا ف کی جانب سے دیا گیا ہے جو وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی جانب سے اپنے رفقاءکارکے ساتھ مشاورت کے بعد قبول کرلیا گیا یوں صوبائی حکومت اور اپوزیشن کے مابین نگران وزیر اعلیٰ کا معاملہ باہمی افہام وتفہیم کے ساتھ طے ہوگیا ہے لیکن یار لوگوں کو پھر بھی سکون نہیں آیا اور اب ایک دور کی کوڑی اٹھا لائے ہیں کہ ناصر محمود کھوسہ اپنی سابقہ ملازمت کے ادوار میں شریف خاندان کے قریب رہے ہیں اورمیڈیا پر بھی شدو مد کے ساتھ اس قربت کا ذکر کیا جا رہا ہے یعنی خیر کہیں نہیں آپ اپنا نام دیں اور اس پر صرار کریں تو پھر اعتراض اور اگر اپوزیشن کے نام سے اتفاق کرلیں تو وہ بھی مشکوک قرار! سادہ دل بندوں کے جانے کیلئے کوئی جا ئے پناہ ماضی میں تھی اور نہ کوئی اب ہے بہرحال دو دن بعد وفاق اور ملک کی آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی کشتیاں دو ماہ کیلئے دو ہم نام ناخداﺅں کے سپرد ہو نیوالی ہیں ان میں ایک اعلیٰ عدلیہ کے سابق جج ہیں تو دوسرے سابق بیورو کریٹ ،ملک کی موجودہ گنجلگ سیاسی صورتحال میں شفا ف انتخابات کے بار امانت سے بہ احسن و خوبی سبکدوش ہونا دونوں کیلئے ایک کڑے امتحان سے کم نہیں گا ۔

مزید : بلاگ


loading...