بھارت کے ساتھ دو طرفہ تجارت 6.6فیصد تک کم ہوگئی

 بھارت کے ساتھ دو طرفہ تجارت 6.6فیصد تک کم ہوگئی

  

اسلام آباد(آن لائن) رواں مالی سال 2018-19ءکے دوران پاک بھارت دو طرفہ تجارت میں 6.6 فیصد کی کمی جبکہ افغانستان کو کی جانے والی قومی برآمدات میں 25 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال میں پاک بھارت کشیدگی کے باعث ہمسایہ ممالک کی دو طرفہ تجارت میں کمی واقع ہوئی ہے اور جولائی تا اپریل 2018-19ئ کے دوران پاکستان اور بھارت کی باہمی تجارت 1699 ملین ڈالر تک کم ہو گئی جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران ہمسایہ ممالک کی دو طرفہ تجارت کا حجم 1820 ملین ڈالر رہا تھا۔اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے دوران پاک بھارت باہمی تجارتی میں 121 ملن ڈالر یعنی 6.6 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ایس بی پی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران افغانستان کو کی جانے والی ملکی برآمدات میں بھی25 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے ‘جس کی بنیادی وجہ افغانستان کی جانب سے چین اور بھارت کو اپنی منڈیوں تک زیادہ رسائی کے حوالے سے فراہم کی جانے والی مراعات ہیں۔سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں چین اور بھارت کی افغان منڈیوں تک زائد رسائی کے باعث قومی برآمدات میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے جس کے تدارک کےلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔

 اقتصادی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی تجارت کے فروغ اور تجارتی آسانیوں کی فراہمی سے ملکی برآمدات میں اضافہ کے اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جا سکتا ہے تاہم اس حوالے سے عالمی معیار کی ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کی تیاری و برآمد پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔#/s#

مزید :

کامرس -