حکومت سمگلنگ مافیا کے خلاف ایکشن لے‘ ایل پی جی ایسوسی ایشن

  حکومت سمگلنگ مافیا کے خلاف ایکشن لے‘ ایل پی جی ایسوسی ایشن

  

لاہور (آن لائن) ایل پی جی ایسوسی ایشن آف پاکستان نے زمینی اور سمندری راستوں سے کسی رکاوٹ کے ایل پی جی کی آمد پر گہری تشویش کا ظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ امپورٹ اور سمگلنگ مافیا کے خلاف سخت ایکشن لے ۔ ایسوسی ایشن کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایل پی جی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین فاروق افتخار نے کہا کہ تافتان اور مندکے زمینی راستوں کے ذریعے نہ صرف ایل پی جی بلکہ پٹرول ، ڈیزل اورٹائر سمیت دیگر مصنوعات بلاروک ٹوک آکر ملک کو بھاری نقصان پہنچارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنی کو ایل پی جی فی ٹن پیدوار پر ایک لاکھ روپے لاگت آتی ہے ، جس میں 17%جنرل سیلز ٹیکس اور 4669روپے فی میٹرک ٹن پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی بھی شامل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر اخراجات اور اضافی ٹیکسز بھی ادا کرنے ہوتے ہیںجبکہ امپورٹر مافیا ناقص کوالٹی کی ایل پی جی 83ہزر روپے فی میٹرک ٹن کے حساب سے ایل پی جی پلانٹس کو فراہم کر رہے ہیں جو ریگولیٹری ڈیوٹی بھی ادا نہیں کرتے ،محض 10%سیلز ٹیکس ادا کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لوکل ایل پی جی پروڈیوسرز اور مارکیٹنک کمپنیوں کا سٹاک پڑا رہتا ہے کیونکہ درآمد شدہ غیر معیار ی ایل پی جی ،لوکل ایل پی جی کی نسبت کم قیمت پر مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ امپورٹرز غیر معیاری ایل پی جی کے ساتھ ساتھ، اس کے وزن میں بھی ہیرا پھیری کرتے ہیں ، جس سے نہ صرف لوکل اعلیٰ کوالٹی کی ایل پی جی کی فروخت متاثر ہورہی ہے ۔

بلکہ ملک میں صحت اور ماحولیاتی مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود وزارت خزانہ اور پٹرولیم کی جانب سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی جس سے ملکی زرمبادلہ کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں فوری کارروائی عمل میں لائے۔ #/s#

مزید :

کامرس -