بجٹ میں صنعتی خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی کم کی جائے، اسلام آبادچیمبر

بجٹ میں صنعتی خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی کم کی جائے، اسلام آبادچیمبر

  

اسلام آباد( آن لائن ) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل نے کہا کہ صنعتی شعبہ اپنی مصنوعات تیار کرنے کیلئے بہت سا خام مال باہر سے درآمد کرتا ہے لیکن روپے کی قدر بہت زیادہ گر گئی ہے جس وجہ سے خام مال کی درآمد مزید مہنگی ہوگئی ہے اور پیداواری لاگت میں کافی اضافہ ہو گیا ہے لہذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ آئندہ بجٹ میں صنعتی خام مال کی درآمد پر عائد ڈیوٹی میں واضع کمی کرے تا کہ صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت کم ہو جس سے ہماری مصنوعات سستی تیار ہوں گی اور برآمدات کو بہتر فروغ ملے گا۔ انہوںنے کہا کہ حکومت ریونیو کو بہتر کرنے کیلئے آئندہ بجٹ میں تقریبا 1900اشیاءپر ریگولیٹری ڈیوٹی کو مزید بڑھانے پر غور کر رہی ہے تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی مال کی درآمد پر ڈیوٹی میں مزید کوئی اضافہ نہ کیا جائے بلکہ ڈیوٹی میں کمی کی جائے جس سے مصنوعات کی تیاری کی لاگت کم ہو گی اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا۔ انہوںنے کہا کہ مصنوعات کی لاگت کم کئے بغیر پاکستانی برآمدات کیلئے عالمی مارکیٹ میں مقابل کرنا مشکل ہے اور صنعتی خام مال کی درآمد پر عائد ڈیوٹی میں کمی ان مقاصد کے حصول میں بہت معاون ثابت ہو گی۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے۔

 اور ان مشکلات سے باہر نکلنے کا ایک بہتر طریقہ برآمدات کو فروغ دینا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی، مہنگی بجلی، خام مال کی درآمد پر عائد بھاری ڈیوٹیز اور دیگر وجوہات کی وجہ سے پاکستان میں کاروبار کی لاگت بہت بڑھ گئی ہے جس وجہ سے پچھلے کئی سالوں سے ہماری برآمدات صلاحیت کے مطابق ترقی نہیں کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ 2003سے 2017تک پاکستان کی برآمدات 10ارب ڈالر سے بڑھ کر صرف 22ارب ڈالر تک پہنچ سکیں جبکہ اس عرصے میں انڈیا کی برآمدات 59ارب ڈالر سے بڑھ کر 296ارب ڈالر، ویتنام کی 20ارب ڈالر سے بڑھ کر 214ارب ڈالر اور بنگلہ دیش کی برآمدات 6ارب ڈالر سے بڑھ کر 41ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ لہذا انہوںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ آئندہ بجٹ میں برآمدات کے بہتر فروغ کیلئے خصوصی اقدامات کا اعلان کرے اور صنعتی خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی کو کم کرے جس سے صنعتی شعبے کو بہتر ترقی ملے گی، روزگار کے بے شمار نئے مواقع پیدا ہوں گے، برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا اور حکومت کا ٹیکس ریونیو بھی کافی بہتر ہو گا۔ #/s#

مزید :

کامرس -