سڑکیں کھنڈر ،تیز رفتاری ،کم عمر ڈرائیور حادثات کی بڑی وجہ

سڑکیں کھنڈر ،تیز رفتاری ،کم عمر ڈرائیور حادثات کی بڑی وجہ

  

رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)ریسکیو1122نے ضلع میںسروس کے قیام سے لیکر اب تک ہزاروں روڈ ٹریفک حادثات کوڈیل کیا۔ریسکیو1122نے روڈ ٹریفک حادثات،ہنگامی ردعمل فارم،خطرناک جگہوں کے دورے،قریبی آبادی سے معلومات کے حصول ، زخمیوں ،ریسکیو عملے اورحادثات کی وجوہات کی رپورٹ پر کنٹرول روم کے ڈیٹا پرتحقیقاتی تجزیہ کرکے اہم نتائج مرتب کیے۔جس کابنیادی (بقیہ نمبر39صفحہ12پر )

مقصد روڈٹریفک حادثات خصوصی طورپر موٹرسائیکل حادثات کی روک تھام کے لیے پیشگی منصوبہ بندی بنانا ہے۔گذشتہ 5سالوں پر محیط اس تحقیق میں روڈ ٹریفک حادثات کاتجزیہ،خطرناک جگہوں کی نشاندہی،روڈٹریفک حادثات کی وجوہات،متاثرہ گاڑیوں کی اقسام،حادثات کی بنیاد،نتائج و مشاہدات اور تجاویز وسفارشات شامل ہیں۔دورِحاضر میںروڈ ٹریفک حادثات ترقی پذیر ممالک میں بڑی اہمیت کاحامل مسئلہ ہے۔ان حادثات میںروزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں لوگ اپنی قیمتی جانوں سے گئے اور بہت سے زخمی ہوئے۔ان میں شرح اموات کسی بھی دوسری وجوہات سے زیادہ ہیں۔ متاثرین میںاکثریت کمانے والے کم عمرلوگوں کی پائی گئی۔ریسکیو اداروں کے لیے یہ اموات حادثہ اور متاثرہ خاندانوں کے لیے سانحہ ثابت ہوتیں ہیں۔اس اہم مسئلہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ریسکیو1122روڈٹریفک حادثات کی شرح کو کم کرنے کے لیے کام کررہا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر عبدالستار بابرنے کہا کہ ضلع رحیم یاخان کی چاروں تحصیلوں میں ہونے والے روڈٹریفک حادثات میں خصوصی طورپر موٹر سائیکل حادثات پر جامع تحقیق کا انعقاد کیا گیا۔تحقیق گذشتہ پانچ سالوںمیں ہونے والے حادثات کے ڈیٹا پر مشتمل ہے۔تحقیق کے مقاصد میںموٹرسائیکل حادثات کی شرح میں اضافہ کی بنیادی وجوہات کی تلاش،مختلف قسم کے روڈ ٹریفک حادثات کے درمیان موازنہ کرنا اور ایسے حادثات کی شرح کو کم کرنے کے لیے منظم منصوبہ بندی بنانا شامل ہے۔انہوں نے تحقیق کے طریق ِ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی ریسپانس فارم کا تجزیہ،موٹرسائیکل حادثات کے ڈیٹاکی تالیف،مختلف حادثات کے مقامات کے دورے،ریسکیوعملے کے ذریعے تحقیقات،متاثرین اور عینی شاہدین کی رائے کو ملحوظ خاطر رکھا گیا۔تحقیق کے اختتام پر یہ نتائج اخذ کئے گئے کہ گذشتہ 5سالوں میں 45104روڈٹریفک حادثات رونما ہوئے،جن میں موٹرسائیکلوں کی تعداد49066تھی اور 59496افراد متاثرہوئے۔اسی طرح گذشتہ 5سالوں میں موٹرسائیکل حادثات کی شرح خطرناک حد 74فیصدتک جا پہنچی۔پانچ سالوں میں 45104روڈٹریفک حادثات پیش آئے جن میں 59496افراد متاثرہوئے،ان میں 17668افراد کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی،41098زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے ساتھ قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا اور 730افراد جاں بحق ہوئے۔انہوں نے چاروں تحصیلوں میں زیادہ حادثات والی خطرناک جگہوں کی نشاندہی کی جن میں پیلس روڈ،تاجگڑھ روڈ،خان پور روڈ،شہباز پورروڈ،چندرامی روڈ،منٹھارروڈاور امین گڑھ روڈ رحیم یارخان میں،نواں کوٹ،گڑھی اختیارخان،دھریجہ پھاٹک خان پورمیں،جمالد ین والی روڈ،ہسپتال روڈ اور ٹلو روڈ صادق آباد میں،جندو پیر،الہ والا روڈ اور چوک فرید لیاقت پور میں شامل ہیں۔اس تحقیقاتی مطالعہ کے نتائج نے اس بات سے پردہ اُٹھایا ہے کہ موٹرسائیکلوں کی وجہ سے ہونے والے روڈٹریفک حادثات میں زیادہ تر حفاظتی آگہی سے لاعلم بالغ اور تجربہ کار افرادشامل تھے ۔موٹرسائیکل ایک مشین ہے اور مشین کو ماہروتجربہ کار افراد کو ہی چلانا چاہیے۔چھوٹے حادثات کے علاوہ،موبائل فون کا استعمال،زیادہ وزن کا لادنا،تیز رفتاری،اچانک لین کی تبدیلی،کپڑوں کا پھنسنا،کمر عمر ڈرائیونگ،خستہ حال سڑکیں بنیادی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے موٹرسائیکل حادثات ہوئے ان میں متاثرین شدید زخمی ہوئے اور اموات ہوئیں۔مزید یہ کہ بہت سے لوگ یک طرفہ سڑک کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آپس میں یا پھرتیز رفتار ی سے چلنے والی گاڑیوں سے ٹکرائے،اچانک بغیر اشارے کے لین تبدیل کرنے،چھوٹی روڈ سے مرکزی شاہراہ پر اچانک داخلہ،خستہ حال سڑکیں،شاہراہوں کے درمیان میں زیادہ اونچائی والی کیٹ آئی(نظرفریب) کا نصب ہوناموٹرسائیکل پھسلنے کی وجہ ہے۔کمر عمر ڈرائیونگ،تیزرفتار ی،ضرورت سے زائد وزن کا لدا ہونا،اشارہ کی خرابی یا نہ ہونااور اسی طرح سائیڈ ویو آئنوں کی تنصیب نہ کرنا حادثات کی نمایاں وجوہات ہیں۔ان کی رائے میں چند سفارشات پر عمل درآمد سے موٹرسائیکل حادثات کی شرح کو کم کیا جاسکتا ہے کہ ٹریفک پولیس یک طرفہ ٹریفک کے اصول کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لے،خطرناک جگہوں/شاہراہوں پر خبرداری بورڈ آویزاں کریں،چھوٹی سڑکوں سے مرکزی شاہراہ پر داخلے سے پہلے سپیڈ بریکربنائیں،شاہراہوں کے مرکز میں نصب کیٹ آئی کے سائز کو کم کریں،مہم کے ذریعے موٹرسائیکل سواروں کو اشاروں کی اہمیت پر آگہی کی فراہمی،ہیلمٹ کے استعمال کی مہم اور خلاف ورزی پر پولیس کی جانب سے ایکشن،خستہ وتباہ حال موٹرسائیکلوں کی اہم جگہوں پرخبرداری نمودکرنا،شہر وں کی اہم جگہوں پر موٹرسائیکل سواروں کے لیے حفاظتی آگہی ہدایات کے بینرزآویزاں کرنے سے کمی لائی جاسکے گی۔اسی طرح کمر عمرڈرائیونگ،تیز رفتاری،زائد وزن کا لادنا،خراب اشاروں کے نصب ہونے اور سائیڈ ویو آئنوں کے نہ ہونے پر سخت کاروائی کی جائے۔

سڑکیں کھنڈر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -