پاک بھارت نتیجہ خیز مذاکرات، ابھی دلّی دور ہے

پاک بھارت نتیجہ خیز مذاکرات، ابھی دلّی دور ہے

  

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے بھارتی حکومت کو14ستمبر2018ءکو لکھا گیا خط اب تک میز پر پڑا ہے اور بھارت نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا،دونوں ممالک کی قیادت اگر ملنا چاہے تو وہ کسی خاص موقع کی محتاج نہیں،دونوں ملک ہمسائے ہیں سوال یہ ہے کہ ملاقات کا ارادہ ہے یا نہیں، بھارت سے مذاکرات کے حوالے سے ہماری جو پوزیشن گزشتہ برس تھی،وہ آج بھی ہے کہ صرف گفتگو نہیں ہونی چاہئے،بلکہ نتیجہ خیز مذاکرات ہونے چاہئیں،جو مسئلے ہیں اُنہیں تسلیم کرنا اور اُن کا تدارک ہونا چاہئے۔بھارت نے ہر کوشش کر کے دیکھ لی،لیکن وہ مسئلہ کشمیر کو ختم نہیں کر سکا، ہم امید رکھتے ہیں کہ اِس مرتبہ بھارت جو قدم اٹھائے گا وہ سوچ سمجھ کر اٹھائے گا،اگر مذاکرات کے حوالے سے بھارت ایک قدم بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم بڑھائے گا۔ سیاچن اور سر کریک کے مسائل ہیں، وہاں بھارت کی فوجیں بھی پھنسی ہوئی ہیں،اس سے نکلنا ضروری ہے، پاکستان اور بھارت کے جو مسائل یا تحفظات ہیں اُن پر ہم نے قابو پانا ہے اور اگر ہم پیشگی شرطوں پر اڑ جائیں تو پھر بات نہیں ہو گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ بیک چینل اور فرنٹ چینل جب تک ساتھ ساتھ نہیں چلیں گے بات نہیں بنے گی،بیک چینل آگے نکل جائے گا اور فرنٹ چینل کہیں دور کھڑا ہو گا تو معاملہ منقطع ہو جائے گا،انہوں نے یہ باتیں ایک ٹی وی انٹرویو میں کہیں۔

جہاں تک مذاکرات کا تعلق ہے پاکستان اس کے لئے ہر وقت تیار نظر آتا ہے اور متعدد بار جا و بے جا مذاکرات کی یہ پیش کشیں دہراتا رہتا ہے،لیکن بھارت کی جانب سے مثبت جواب نہیں آتا۔ ڈاکٹر فیصل نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں جو خط وزیراعظم نے لکھا تھا اس کا بھارت نے جواب تک نہیں دیا،ایسے میں بار بار مذاکرات کی پیشکش میں کوئی معنویت نہیں رہتی۔ بھارت اگر مذاکرات چاہے گا تو پہلے والے خط کی گرد جھاڑ کر ہی جواب لکھ دے گا اور بات آگے بڑھ جائے گی،لیکن لگتا ہے ابھی بھارت اس موڈ میں نہیں،ابھی دو روز قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی مذاکرات کی دعوت کا اعادہ کیا ہے۔ہمارے خیال میں دعوتیں بہت ہو چکیں اب گیند بھارت کی کورٹ میں ہے،اس لئے بہتر یہ ہے کہ اطمینان کے ساتھ بھارتی جواب کا انتظار کیا جائے اور اگر مذاکرات کی بحالی ہوتی ہے تو بہتر اور نہیں ہوتی تو بھی ان کے بغیر کون سے کام بند ہیں؟کشمیر میں بھارت کا تشدد رکنے میں نہیں آ رہا اور کنٹرول لائن کا محاذ بھی گرم ہے مودی تازہ کامیابی کے نشے میں بھی سرشار ہیں ایسے میں دیکھیں وہ خط کا جواب کب اور کیا دیتے ہیں۔

بی جے پی اور مودی کی سیاست کا تقاضا یہی نظر آتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ رکھے جائیں،انتخابی نتائج سے واضح ہو گیا ہے کہ بی جے پی اپنے ووٹروں کو پاکستان دشمنی کے فسوں سے مسحور رکھنا چاہتی ہے، کیونکہ ایسی بے خودی کی حالت ہی میں اُن کا ووٹر متحرک ہوتا ہے، ہوش و حواس کا فیصلہ مختلف بھی ہو سکتا تھا ۔الیکشن کے نتائج آنے کے بعد جوشیلے انتہا پسند بھارتی مسلمانوں کے خلاف پھر متحرک ہو گئے ہیں اور گائے کا گوشت لے جانے اور نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے نکلنے والے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مودی نے چند روز قبل کہا تھا کہ مسلمان بلاوجہ خوف کا شکار ہیں، ہم اُن کا خوف دور کریں گے،لیکن خوف دور کرنے کی بجائے انہیں مزید خوفزدہ کرنے کی سبیلیں سوچی جا رہی ہیں، انتہا پسندی کی یہ لہر ملک کے جمہوری مستقبل کے لئے خطرے کا باعث ہے، لیکن فی الحال بی جے پی شاید اس جانب توجہ نہ دے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت بہت سی عالمی طاقتیں پاکستان اور بھارت کو ثالثی کی پیشکشیں بھی کرتی رہتی ہیں،جو بھارت کی جانب سے فوری طور پر یہ کہہ کر مسترد کر دی جاتی ہیں کہ دو طرفہ معاملات میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت اسے گوارا نہیں، ثالثی کی پیشکش بھارت بلا سوچے سمجھے ٹھکراتا رہتا ہے، مذاکرات کے لئے خط کا جواب تک نہیں دیتا، تو پھر تعلقات معمول پر لانے کا راستہ کون سا بچتا ہے؟ بیک چینل رابطوں کے بارے میں ترجمان دفتر خارجہ نے درست کہا ہے کہ بیک چینل آگے نکل جاتا ہے اور فرنٹ چینل پیچھے رہ جاتا ہے، ایسے میں یہی راستہ کھلا رہ جاتا ہے کہ سٹیٹس کو برقرار رہے اور معاملات اپنی رفتار کے ساتھ چلے رہیں،ایسے میں بہتری کی امید تو نہیں رکھی جا سکتی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ گزشتہ برس اگست میں جب عمران خان وزیراعظم بنے تھے تو مودی نے مبارک کا پیغام بھیجا تھا، اب دوبارہ انتخاب جیت کر مودی از سر نو حلف اٹھانے والے ہیں تو اس موقع پر عمران خان نے بھی انہیں جوابی خیر سگالی کے طور پر مبارکباد کا پیغام بھیج دیا ہے،کیونکہ ملکوں کے تعلقات باہمی احترام کی بنا پر ہی استوار ہوتے ہیں، یہ تو درست ہے لیکن کشیدہ حالات میں مبارک بادوں کا رسمی تبادلہ مذاکرات کا نعم البدل تو نہیں اور نہ ہی ان پیغامات کے تبادلے سے عملی اقدامات کے بغیر خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ہو سکتا ہے اربوں لوگ اس خطے میں رہتے ہیں،جن میں سے کروڑوں وہ ہیں جو خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ان کی زندگیوں کو اسی صورت بہتر بنایا جا سکتا ہے کہ خطہ کشیدگی سے پاک ہو اور مالی وسائل جنگی تیاریوں کی بجائے ان کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوں۔اگر پاکستان اور بھارت کی کشیدگی برقرار رہتی ہے اور حالات بگڑتے ہیں تو عوام کی خوشحالی کا خواب نہیں دیکھا جا سکتا،اِس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ دو ہمسایہ ایٹمی طاقتیں امن کی علمبردار بن کر رہیں اور اپنے مسائل مذاکرات کے معرو ف طریقے سے حل کریں۔باہمی تعاون سے ہی خطے کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے،لیکن اگر بھارت مذاکرات کی راہ پر نہیں آتا تو بار بار دعوت دے کر سبک سر ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -