یونیورسٹی آف ہو م اکنا مکس کوکیسی وائس چانسلر درکار ہے؟

یونیورسٹی آف ہو م اکنا مکس کوکیسی وائس چانسلر درکار ہے؟
یونیورسٹی آف ہو م اکنا مکس کوکیسی وائس چانسلر درکار ہے؟

  

ہو م اکنا مکس کا لج مجھے انتہائی عزیز ہے اس کی بھلائی، بہتری اور ترقی مجھے ایسے ہی عزیز ہے جیسے مجھے میری پیاری بیٹی،جو یہاں سے فارغ التحصیل ہے اس نے یہاں 8سال تعلیم حاصل کی اور ٹیکسٹائل اینڈکلود نگ میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ الحمد للہ اسی تعلیم و مہارت کے باعث آج وہ اپنی پیشہ وارانہ زندگی کی ابتداء کر چکی ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ میری بیٹی کو عزت، صحت اور کامیابیاں نصیب کرے آمین۔اور ہاں اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہو م ا کنامکس کالج کو بھی ایسی ہی شان وعظمت عطا کرے جس کے ذریعے میری قوم کی بیٹیوں کو وہ ایسے ہی علم اور مہارت بانٹتارہے جیسے میری بیٹی کے نصیب میں آیا اور یہاں آنے والی ہماری قوم کی ساری بیٹیاں کامیابی وکامرانی کا سفر شروع کرتی رہیں۔ آمین یا ربُ العالمین۔ ہو م اکنامکس کالج 1955ء میں قائم کیا گیا تھا گزرے 64برسوں کے دوران یہاں لاکھوں بچیوں نے پیشہ ورانہ تعلیم وتربیت حاصل کی۔ پھر عملی زندگی میں اس کا اطلاق کیا سرکاری و نجی شعبے میں خدمات سر انجام دیں بہت سی خواتین نے ذاتی کاروبار کے ذریعے شہرت بھی حاصل کی آج ہم دیکھتے ہیں کہ اسی کالج کی فارغ التحصیل لاتعداد خواتین اپنی تعلیم و مہارت کے ذریعے نجی و سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہی نہیں ہسپتالوں میں بھی خدمات سر انجام دے رہی ہیں اس طرح قومی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

ادارے کی ایسی ہی ایک نامور خاتون ہیں ڈاکٹر سا مع کلثوم جو اسی ادارے کی گریجویٹ ہیں اور یہاں 38 سالوں تک تدریسی و انتظامی خدمات سر انجام دیتی رہی ہیں انہوں نے دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق اس ادارے کو پروان چڑھایا اور نئی منزلوں سے ہمکنار کرنے کا فر یضہ بطریق ِ احسن سر انجام دیا ہے۔ انہیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ان کی قیادت میں ہی یہاں ایم فِل اور پی ایچ ڈی کلاسز کا اجراء ہوا۔ پورے پاکستان میں اس شعبے میں اس لیول کی اعلیٰ تعلیم صرف اسی ادارے میں دی جاتی ہے یہ اس ادارے کے لئے بہت بڑا قومی اعزاز ہے اور یہ ڈاکٹر سامع کلثوم کی وسعت نظری اورمحنت شاقہ کے باعث ہی ممکن ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی دور اندیشی اور وسعت نظری کا کمال ہے کہ انہوں نے پاکستان میں ہومِ اکانومسٹس کی بڑ ھتی ہوئی ڈیمانڈ اور قومی معیشت میں ان کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے ہو م اکنامکس کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دلانے کی کاوشیں شروع کیں اور 2017ء میں اپنی ریٹائر منٹ سے قبل ہی پورا پراسس مکمل کیا اور اپنے تاریخی مادرِ علمی کا مقام بلند کرادیا۔اپنے مادرِ علمی کا وقار بلند کر کے وہ ادارے کی تاریخ میں اپنا نام و مقام رقم کر چکی ہیں

5 195ء میں قائم ہونے والا کالج آف ہوم اکنامکس اب یونیورسٹی آف ہو م اکنامکس کا درجہ پا چکا ہے۔رواں سال کے آغاز میں ہائیرایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے اس یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی تعیناتی کے لئے قومی اخبارات میں اشتہار دیا جس میں اسے سپیشلائزڈ یعنی خصوصی یو نیورسٹی قرار دیا گیا حقیقتاً ہومِ اکنامکس کا ڈسپلن بھی مخصوص تعلیم اور مہارتوں سے متعلق ہے جیسے انجینئرنگ، طب، انفارمیشن ٹکنالوجی وغیرہ کے علوم مخصوص کہلاتے ہیں اور ان کی اعلیٰ درسگا ہیں بھی مخصوص یعنی سپیشلائزڈ کہلاتی ہیں با لکل اسی طرح ہوم اکنامکس ہے اِس لئے حکومت نے اس یونیورسٹی یعنی یونیورسٹی آف ہو م اکنامکس کو بھی خصوصی درجہ دے کر اس کی وائس چانسلر کی تلاش شروع کی۔ رواں مہینے کے آغاز میں 16 امیدواروں کے انٹرویو کئے گئے حیران کن بات یہ ہے کہ کمیٹی نے ایک ایسی خاتون کا نام فائنل کیا، جس کا اس شعبے سے ہر گز تعلق نہیں تھا پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ لائبریری سائنس کی ڈاکٹر کنول امین کو ہومِ اکنامکس یونیورسٹی کی وائس چانسلر شپ کے لئے فائنل کیاگیا انہیں نہ تو ہو م اکنامکس کا کیچھ پتہ ہے اور نہ ہی انتظامی تجربہ ہے۔ وائس چانسلر شپ نہ صر ف اکیڈیمک لیڈر شپ کا تقاضہ کرتی ہے، بلکہ اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کی بھی متقاضی ہوتی ہے سرچ کمیٹی ممبران نے نجانے محترمہ کی کونسی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں دیگر پندرہ امیدوارں پر ترجیح دی۔ یہ صورتِ حال دیکھتے ہوئے ہومِ اکنامکس کالج کی اولڈ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن حرکت میں آئی اور انہوں نے اپنے ادارے کو تباہی سے بچانے کے لئے کاوشیں شروع کیں جن کے نتیجے میں گورنر پنجاب نے ڈاکٹر کنول امین کو وائس چانسلر تعینات کرنے کی سمری مسترد کرتے ہوئے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور میرٹ کے مطابق اہل اور درست خاتون کی تعیناتی کی سفارش کرے۔

کمیٹی نے دوبارہ فائلیں کھولیں۔ تحقیق کی۔ تفتیش کی اور تین امیدواروں بشمول ڈاکٹر سامع کلثوم،ڈاکٹر انیلہ کمال اور ڈاکٹر کنول امین کو دوبارہ انٹرویو کے لئے طلب کیا ان تین امیدواروں میں ڈاکٹر سامع کلثوم ہی وہ واحد امید وار ہیں جن کی تعلیم و تجربہ اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی ذمہ داریوں کے عین مطابق ہے آپ ہومِ اکا نو مسٹ ہیں اسی شعبے میں فارن کوالیفائیڈبھی ہیں۔ بہت سی طالبات کو پی ایچ ڈی بھی کروا چکی ہیں کالج آف ہوم اکنامکس کو چلانے اور آگے بڑھانے کا و سیع تجربہ بھی رکھتی ہیں۔مارکیٹ میں ان کی پذیرائی بھی ہے 8سال تو میں خود ان کی علمی اور انتظامی صلاحیتوں کا شاہد بھی ہوں، کیونکہ اس دوران میری بیٹی یہاں تعلیم حاصل کرتی رہی ہے مجھے یہاں کے داخلی معاملات کے بارے میں بھی معلومات ہیں ڈاکٹر سامع نہ صرف طالبات میں قبولیت ِ عامہ کے درجے پر فائز ہیں، بلکہ بہت سی اساتذہ کرام ان کی شاگرد بھی رہی ہیں اس طرح نہ صرف کو لیگز ہونے کے ناطے، بلکہ استاد ہونے کے ناطے بھی ڈاکٹر سامع کلثوم کو ہو م ا کنامکس کا لج کی اساتذہ میں عزت اور وقار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اپنی بیٹی کے توسط سے مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ طالبات، ڈاکٹر سامع کلثوم کو ان کی دلنواز اور شاندارشخصی خصوصیات کے باعث آئیڈلائز بھی کرتی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کی کیچھ مخالفت بھی پائی جاتی ہے ہوم اکنامکس کالج کی موجودہ پرنسپل کی تعیناتی بھی کیونکہ میرٹ پر نہیں ہوئی ہے اس لئے ان کی کو شش ہے کہ سامع کلثوم یہاں وائس چانسلر تعینات نہ ہو سکیں۔اطلاعات ہیں کہ اسی کالج میں وزیر اعلیٰ کی زوجہ محترمہ صوفیہ بزدار اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور پاکستان سٹڈیز پڑھاتی ہیں کالج پرنسپل نے ان کے ذریعے سرچ کمیٹی پر دباؤ ڈالا کہ ڈاکٹر سامع کلثوم وائس چانسلر منتخب نہ ہو سکیں دوسری طرف لائبریری سائنس کی پر وفیسر ڈاکٹر کنول امین پاکستان کے ایک نامور فنکار کی والدہ محترمہ ہیں یہ نامور فنکار مقتدر حلقوں تک رسائی رکھتے ہیں، جس کے باعث انہوں نے مبینہ طور پر سرچ کمیٹی ممبران پر دباؤ ڈلوا کر اپنی والدہ کا نام وائس چانسلر شپ کے لئے فائنل کرایا ہے، لیکن اولڈ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی کاوشوں کے باعث ڈاکٹر کنول امین کی تعیناتی سمری گورنر پنجاب نے مسترد کردی تھی۔ ایسوسی ایشن کی خواتین نے وزیراعظم پاکستان کے نام ایک خط میں تمام حالات اور واقعات کا ذکر کرکے اپیل کی ہے کہ تاریخی یونیورسٹی کی وائس چانسلر کا انتخاب میرٹ پر ہونا چاہئے جس طرح میڈیکل یونیورسٹی کا وی سی انجینئر کو نہیں لگایا جا سکتا اسی طرح ہوم اکنامکس یونیورسٹی کا وی سی بھی وہ ہونا چاہئے جس کا اس مضمو ن سے تعلق ہو بصورت دیگر عدالتوں کے دروازے تو کھلے ہیں اور کئی یونیورسٹیوں کے ایسے ہی کیس عدالتوں کے ذریعے ہی فیصل ہوئے ہیں۔جہاں میرٹ کو نظر انداز کیا گیا تھا۔

مزید :

رائے -کالم -