....چند حسینوں کے خطوط؟

....چند حسینوں کے خطوط؟
 ....چند حسینوں کے خطوط؟

  

دہشت گردی کی اس جنگ میں پاکستان آرمی کے سینکڑوں آفیسرز اور جوان شہید ہو چکے ہیں اور آج بھی ہو رہے ہیں۔ ان کے نام اور تصاویر ہر روز ٹیلی ویژن سکرینوں پر آتی ہیں، ہم انہیں دیکھتے ہیں، جائے شہادت اور دشمن سے مڈبھیڑ کی تفصیلات وغیرہ سنتے ہیں اور انہیں ایک معمول جان کر بھلا دیتے ہیں۔ لیکن ان شہیدوں کے لواحقین پر جو گزرتی ہے اس کا احساس صرف اور صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کے پیارے ہنستے کھیلتے گھروں سے نکلے ہوں اور واپس تابوت کی شکل میں آئے ہوں۔

یہ دلگداز داستانیں گزشتہ دو اڑھائی عشروں سے ہمارے ہاں دہرائی جا رہی ہیں۔ ان شہداءکے لواحقین میں ماں باپ، بہن بھائی اور اہل و عیال پہلے آتے ہیں اور باقی رشتے دار بعد میں.... والدین پر تو جو گزرتی ہے، سو گزرتی ہے لیکن بیوی بچوں پر جو گزرتی ہے، اس کی گہرائی، گیرائی، طول و عرض اور وسعتِ تمام کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔

آج پاک فوج کا ہر سپاہی کم از کم میٹرک پاس ہے اور ہر ایک کے پاس موبائل فون ہے۔ جس کے ذریعے وہ اپنے پیاروں کے ساتھ ہمکلام رہتا ہے۔ ایک لمحے وہ اپنی پھول سی بچیوں، ننھے منے بیٹوں، غم فراق سے نڈھال بیوی اور جدائی کی ہر آن آنی جانی کیفیتوں کے مارے والدین سے باتیں کر رہا ہوتا ہے تو اگلے لمحے کسی دہشت گرد کی گولی اس کے سینے سے پار اتر جاتی ہے اور وہ شہید ہو جاتا ہے۔ اس کے زندہ ساتھی اس کی لاش کو تڑپتے اور پھر ٹھنڈا ہوتے دیکھتے ہیں اور ”انا للہ و انا الیہ راجعون“ پڑھ کر اگلے معرکہ ءکارزار کے لئے تیاری کرنے لگتے ہیں۔ کاروبارِ حرب و ضرب کے یہ معمولات جو پاک فوج کا روزمرہ بن چکے ہیں، ان پر کوئی اخباری کالم نگار قلم آرائی نہیں کرتا، عبارت آرائی تو دور کی بات ہے!

آج پاکستان کی سیاسی آویزشوں نے قوم کے رکھوالوں کی اِن دلگداز داستانوں کی بجائے اور طرح کی کہانیاں تصنیف کر رکھی ہیں.... کن کن کا ذکر کروں !.... کس قاری کو ان کی خبر نہیں!!

ایک دور تھا جو زیادہ مدت پہلے کا زمانہ نہیں ہے، جب نہ ٹیلی ویژن / ریڈیو ہوتے تھے اور نہ موبائل فون ہر شخص کی دسترس میں تھا۔ اس دور میں بھی جنگیں ہوتی تھیں اور اس دور میں بھی فراق اور جدائی کی کہانیاں جنم لیتی تھیں۔ مجھے اپنے لڑکپن کا زمانہ یاد آتا ہے۔ پتہ نہیں کس فلم کا یہ پنجابی گیت گلیوں بازاروں میں گایا جاتا تھا:

کالی کنگھی نال کالے وال پٹی واہنی آں

آمِل ڈھول جانی آں........

یاد تری وچ ڈھول سپاہی وے

ہنجو پٹی وگانی آں....

آمِل ڈھول جانی آں........

اس دوشیزہ کا ڈھول سپاہی محاذِ جنگ پر گیا ہوا ہے، اس کو کچھ خبر نہیں کہ وہ زندہ واپس بھی آئے گا یا نہیں۔ لیکن انسانی جذبوں اور جبلتوں کا اظہار تو اس کی فطرت میں ہے جو وہ کبھی ان جیسے گیتوں کی شکل میں کرتی ہے اور کبھی تنہائی میں آنسو بہا کر دل کا بوجھ ہلکا کر لیتی ہے اور یہ بات کسی خاص قوم، مذہب، فرقے ، گروہ یا قبیلے پر منحصر نہیں۔

انسان تو سب برابر ہیں اور ان کے جذبات و احساسات کسی مخصوص زبان کے محتاج نہیں ہوتے۔ میں اگلے روز ایک مشہور امریکی سولجر (بعد میں دوبار صدر امریکہ) کی یادداشتیں پڑھ رہا تھا جس کا عنوان تھا: ”میمی کے نام“ .... یہ میمی، مسز آئزن ہاور تھیں جو دوسری عالمی جنگ میں اتحادی سپریم کمانڈر کی اہلیہ تھیں۔

حضرت علامہ اقبال کا مشہور شعر ہے:

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

اسی کے سوز سے ہے زندگی کا سازِ دروں

عورت اور مرد زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ہیں اور یہ زندگی کی گاڑی ایک فوجی کے لئے تھری ٹن ٹرک بھی ہو سکتا ہے جس کے دو سے زیادہ پہے ہوتے ہیں اور ایم پی کا وہ موٹر سائیکل بھی جس کے واقعی دو پہیئے ہوتے ہیں لیکن جسے فوج میں گاڑی نہیں بولا جاتا۔

تصویرِ کائنات میں جس ہستی کے وجود سے رنگ ہے وہ ہستی اگرچہ مختلف صورتوں میں جلوہ گر ہوتی ہے یعنی کبھی بیوی کے روپ میں، کبھی ماں کی شکل میں، کبھی بیٹی کی صورت میں اور کبھی بہن کے بھیس میں۔.... لیکن جہاں تک فوجی افسروں اور جوانوں کا تعلق ہے تو اس ہستی سے بیشتر مراد وہ ہستی لی جاتی ہے جسے زیادہ لکھے پڑھے لوگ نصف بہتر یا صنفِ نازک کے نام سے جانتے ہیں۔ ویسے تو میاں بیوی کی محبت اللہ کریم کی عنایات میں سے ایک ہے لیکن جس بیوی کا میاں محاذِ جنگ پر گیا ہوا ہو اور جسے ہر روز کسی نہ کسی سہیلی کے سہاگ کے لٹ جانے کی خبریں مل رہی ہوں، اس کے احساسات و جذبات میں جو طلاتم برپا ہوتا ہو گا، وہ زیادہ وضاحت کا محتاج نہیں۔

محاذِ جنگ سے بیوی کے نام خط لکھنا اچھے فوجیوں کی ضرورت اور عادت رہی ہے خواہ ان کا رینک کچھ بھی ہو۔ لیکن جب میاں ہزاروں میل دور، واقعی سات سمندر پار اور سالہا سال تک مصرفِ پیکار رہے اور مستقبل قریب میں اس کے واپس آنے یا بیوی کو اپنے پاس بلانے کے امکانات ”روشن“ نہ ہوں تو ان محسوسات کو قلم بند کرنا اور پھر اسے عام پبلک کے لئے شائع کر دینا ایک بہت بڑا کارنامہ کہا۔

”میمی کے نام“ اس کتاب میں جنگ عظیم دوم میں اتحادی افواج کے سپریم کمانڈر جنرل آئزن ہاور کے وہ سینکڑوں خطوط شامل ہیں جو انہوں نے اپنی بیوی (میمی) کے نام لکھے۔ یہ خط ،ظاہر ہے ٹائپ شدہ نہ تھے۔ بلکہ ان میں بعض عسکری اور تاریخی واقعات پر جنرل آئزن ہاور کا تبصرہ ان خطوط کو تاریخی وقعت عطا کر دیتا ہے۔

طویل جدائی کی ساعتیں جنرل پر گراں گزر رہی ہیں، آپریشنل صورت حال کی سنگینی اور بوجھل پن اس کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہے، اپنی افواج کی شکستیں اور پسپایاں اور دشمن کی فتوحات اور کامیابیاں اس کو گھائل کئے دیتی ہیں لیکن ان مشکل لمحوں میں بھی جب اسے تھوڑی سی فرصت لتی ہے تو وہ اپنی اہلیہ کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیتا ہے۔ اس کی تحریر میں سپاہیانہ صاف گوئی کی ایک ایسی جھلک موجود ہے جو غیر عسکری لوگوں کو نصیب نہیں ہوئی:

مثلاً وسط دسمبر 1944ءکا زمانہ ہے۔ جرمن افواج عمومی طور پر ہر محاذ پر پسپا ہو رہی ہیں۔ لیکن اچانک 16دسمبر 1944ءکو فرانس کے سلسلہ ہائے کوہ آرڈی نیز (ARDENNES) میں ہٹلر کا ایک ایسا حملہ شروع ہوتا ہے جو اتحادیوں کو دہلا کے رکھ دیتا ہے۔ جرمن جنرل مینٹی فل (MANTEUFFEL) کی پانچویں ٹینک آرمی دریائے آور (OUR) کو عبور کرتی امریکی101ایئربورن ڈویژن کو گھیرے میں لے لیتی ہے۔ 21دسمبر کو جب صورت حال بہت نازک ہو جاتی ہے اور جرمن افواج فرانس کے دریائے میوز (MUEZ) سے صرف چار میل دور رہ جاتی ہیں تو ان تاریک لمحوں میں جنرل آئزن ہاور اپنی اہلیہ کو یہ خط لکھتا ہے:

مائی ڈارلنگ

یہ اس سال کا سب سے چھوٹا دن ہے۔ لیکن میری دعا ہے کہ یہ واقعی اتنا چھوٹا ہو جائے کہ ہمارے مصائب کم ہو سکیں۔ لیکن یہ معجزہ شاید ہی رونما ہو.... ہم آج کل بہت مصروف ہیں۔ اس جنگ کے بارے میں بہت سی ایسی باتیں ہیں کہ میں تمہیں بتا نہیں سکتا۔ شایدکبھی بھی نہ بتا سکوں! لیکن جب ملاقات ہوئی اور قدرت نے فراغت عطا کی تو سردیوں کی دھوپ میں تنہا بیٹھ کر اس موضوع پر بھی ڈھیر ساری باتیں تمہیں بتاﺅں گا۔ لیکن شاید تم جنگوں کے تذکرے سن سن کر اکتا جاﺅ۔

کچھ نہیں کہہ سکتا۔ چلو چھوڑو ان باتوں کو۔ کبھی تو ایسا ہو گا کہ ہم اکٹھے بیٹھیں گے ،دریا سے مچھلیاں پکڑا کریں گے، ریڈیو سنا کریں گے یا اپنے پوتوں اور نواسوں کے ساتھ گھوما کریں گے۔مجھے جنرل کے رینک مےں ترقی مل گئی ہے اور اب میں پانچ ستاروں والا جرنیل ہوں۔ لیکن جب تک ”کوئی“ یہ ستارے میری جیکٹ پر آکر نہ ٹانکے، ان کا فائدہ؟

تو جان من، اب ختم کرنا ہوں خدا کرے جان (جنرل کا بیٹا) اور تم دونوں کا کرسمس خیریت سے گزرے۔ میرے لئے کرسمس بے معنی سی چیز ہے۔ لیکن جنگ میں یہ سب کچھ تو ہوتا ہے۔اگلے سال انشاءاللہ ملاقات ہونے کا امکان ہے۔

فقط تمہارا

آئزن ہاور

ایک اور خط میں جو 3جنوری 1945ءکو تحریر کیا گیا وہ اس طرح لکھتے ہیں:

ڈیرمیمی

کل میرے ایک سینئر بحری آفیسر ایڈمرل رامسے (RAMSAY) جو میرے ایک نہایت عزیز دوست بھی تھے ایک حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ان کا طیارہ جب ٹیک آف کر رہا تھا تو گر کر تباہ ہو گیا۔ اس طرح کے سانحات کتنے غمگین اور اداس کرنے والے ہوتے ہیں!.... جنگ کتنا سنگدل کاروبار ہے!!

کل مجھے جان کا خط ملا۔ کئی ہفتوں بعدیہ اس کا پہلا خط تھا، میں نے فوراً جواب دے دیا۔ وہ بھی جب محاذ پر چلا گیا تو تم اور بھی اداس ہو جاﺅ گی۔ خالی بیٹھے رہنا اور دعائیں مانگنا کتنا مشکل کام ہوتا ہے، مجھے اس کا اندازہ ہے۔ لیکن میری جان! ہمیں ہمت کرنی چاہیے۔ ہمیں مذہب کا سہارا لینا چاہیے اور امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ خدا کارساز بھی ہے اور رحیم و شفیق بھی۔

اگرچہ ہمیں مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن مایوسیوں اور ناامیدیوں سے قطع نظر ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ فتح سامنے نظر آ رہی ہے لیکن اگر اس کے بعد دنیا میں امن قائم بھی گیا تو کون سا تیر مار لیں گے۔ جہاں تک میرا اور تمہارا تعلق ہے تو میری آرزو یہ ہے کہ جب جنگ ختم ہو جائے گی تو ہم دور کسی گاﺅں میں جا بسیں گے.... ایک ایسی جگہ جہاں کسی ریل گاڑی سے آنے والے دوست کو بھی پہنچنے میں دس دن لگ جائیں۔ کیا خیال ہے؟؟؟؟

فقط تمہارا

آئزن ہاور

جنرل آئزن ہاور نے اپنے خطوط میں جس آرزو کا اظہارکیا تھا اور چاہا تھا کہ وہ دور کسی پُرفضا مقام پر جا کر آباد ہونا چاہتے ہیں، جہاں شور و غل نہ ہو اور جہاں دنیا کے ہنگامے نہ ہوں۔ ان کی تمنا تھی کہ ایسے میں وہ اور میمی تنہا کسی جزیرے میں مچھلیاں پکڑا کریں گے اور آرام و سکون کی زندگی بسر کریں گے، تو ان کی یہ آرزو کم از کم فوراً پوری نہ ہو سکی۔1945ءکے اواخر میں انہیں امریکی فوج کا چیف آف سٹاف مقرر کر دیا گیا۔پریذیڈنٹ ٹرومین نے انہیں جنرل جارج سی مارشل کی جگہ (چیف آف سٹاف) مقرر کر دیا تھا۔ جنرل کو یہ احساس بھی تھا کہ جس عظیم امریکی فوج کو انہوں نے تین سال تک یورپ میں کمانڈ کیا تھا، اسے اب وہ اپنے ہاتھوں ڈی موبلائز کر دیں گے۔

1948ءمیں وہ فوج سے ریٹائرڈ ہو گئے اور انہوں نے اپنی یادداشتیں قلم بند کرنا شروع کر دیں۔ ان کی یہ کتاب (CRUSADES IN EUROPE)کے نام سے شہرت پا چکی ہے۔ اس کے بعد 1950ءمیں سوویت یونین نے چیکو سلواکیہ کو روند ڈالا تھا اور 1951ء میں کوریا میں جنگ چھڑ گئی۔ یعنی امریکہ کا ایک سابق اتحادی اب اس کا دشمن بن کے سامنے آ چکا تھا! صدر ٹرومین نے انہیں ایک بار پھر ناٹو افواج کا کمانڈر متعین کرنے کے لئے فوج میں واپس آنے کو کہا۔ اس عہدے پر وہ ڈیڑھ دو سال تک فائز رہے۔ جون 1952ءمیں وہ واپس امریکہ آ گئے اور صدارت کے عہدے کے لئے تیاریاں شروع کر دیں۔ 1961ءمیں وہ بطور صدرِ امریکہ سے ریٹائرڈ ہوئے اور مارچ 1969ءتک یعنی اپنی وفات کے درمیانی 8برسوں میں وہ اور میمی آخر کار زندگی بھر کی آرزو یعنی گوشہ تنہائی پانے میں کامیاب ہو گئے۔

مزید :

رائے -کالم -