پولیس کو شرم ہے نہ حیا ،تفتیشی افسران کو ایک ایک ماہ جیل بھجوانا پڑے گا ،سپریم کورٹ

پولیس کو شرم ہے نہ حیا ،تفتیشی افسران کو ایک ایک ماہ جیل بھجوانا پڑے گا ...

  

اسلام آباد (این این آئی،آئی این پی) سپریم کورٹ میں شوہر کے قتل کے الزام میں گرفتار خاتون کی درخواستِ ضمانت کی سماعت ہوئی ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ کیا معلوم کل کسی کے کہنے پر پولیس مجھے ملزم بنا دے،پنجاب پولیس آخر کر کیا رہی ہے، کسی کو شرم ہے نہ حیا،گرفتاری کے وقت خاتون تین ماہ کی حاملہ تھی، خاتون نے جیل میں بچے کو جنم دیا، حاملہ خاتون اپنے شوہر کو بلاوجہ کیسے قتل کر سکتی ہے ۔ عدالت نے رخواست منظور کرتے ہوئے ملزمہ کی رہائی کا حکم دیا۔عدالت نے پنجاب پراسیکیوشن اور پولیس پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پولیس کا ادارہ جعلی مقدمات کے ذریعے پیسے بنانے کیلئے نہیں، تمام تفتیشی افسران کو ایک ایک ماہ جیل بھجوانا پڑے گا۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ ڈسٹرکٹ عمر کوٹ میں سر پر کلہاڑی کا وار کرنے سے متعلق ویڈیو لنک سے کیس کی سماعت کے دور ان رتن کی عبوری ضمانت خارج کر دی جس کے بعد کراچی رجسٹری میں کمرہ عدالت سے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ۔ منگل کو سپریم کورٹ میں سندھ ڈسٹرکٹ عمر کوٹ میں سر پر کلہاڑی کا وار کرنے سے متعلق ویڈیو لنک سے کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ وکیل نے کہاکہ دو سال سے ملزم ضمانت پر ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سندھ ہائیکورٹ ضمانت کے مقدمات پر اتنا وقت کیوں لگا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگرفوجداری مقدمات کی ضمانت کے کیس میں دو سے تین سال لگ جاتے ہیں تو مین اپیلوں میں کیا ہوتا ہو گا۔ بعد ازاں عدالت نے رتن کی عبوری ضمانت خارج کر دی۔سپریم کورٹ نے کوئٹہ کے مبینہ انسانی اسمگلر محمد صادق عرف حاجی طالب کی ضمانت ایک لاکھ روپے کے عوض منظور کر لی ۔سپریم کورٹ میں انسانی اسمگلنگ کے مبینہ ملزم محمد صادق عرف حاجی طالب کی درخواست ضمانت پر سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی ۔سپریم کورٹ نے کوئٹہ کے مبینہ انسانی اسمگلر محمد صادق عرف حاجی طالب کی ضمانت ایک لاکھ روپے کے عوض منظور کر لی ۔ سر کاری وکیل نے بتایا کہ تربت میں 15 افراد کے قتل کی خبر پر ایف آئی اے نے تحقیقات شروع کیں۔ ان 15 افراد کو غیر قانونی طریقے سے براستہ ایران بیرون ممالک بھجوایا جارہا تھا۔سرکاری وکیل نے کہاکہ ملزم کیخلاف مقتول ذوالفقار کی بیوی کا بیان موجود ہے۔ سپریم کورٹ میںمکینیکل انجینئراحمد یار گوندل کا سیول انجینئر کی پوسٹ پر تقرری سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے کی ۔چیف جسٹس نے کہاکہ پوسٹ کےلئے میٹرک اور تین سالہ انجینئرنگ کا ڈپلومہ درکار تھا۔ وکیل نیب نے کہاکہ جی بالکل صرف میٹرک کی ڈگری اور تین سال کا انجینئرنگ کا ڈپلومہ ضروری تھا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر آپ کو پتہ تھا کہ اس کیس میں کچھ نہیں ہے تو ہمارا وقت کیوں ضائع کیا؟بعد ازاں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے نیب کی درخواست خارج کر دی۔ٹرائل کورٹ نےمکینیکل انجینئراحمد یار گوندل کو دھوکہ دہی سے نوکری حاصل کرنے پر 5 سال قید اور 5 ہزار روپیہ جرمانہ کی سزا سنائی،ہائی کورٹ نےمکینیکل انجینئراحمد یار گوندل کی تقرری کو درست قرار دے کر بری کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے حج کے نام لوگوں سے پیسے لوٹنے اور دھوکہ دہی کیس میں پیسے واپس کر نے پر ملزم کی پانچ سال قید کی سزا ختم اور جرمانہ 50لاکھ سے کم کر کے پچاس ہزار کر دیا ۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ملزم نے 2007 میں لوگوں سے پیسے لیے اور حج پر نہیں بھیجاتھا۔ملزم فیاض اللہ کو سپریم کورٹ سے ریلیف مل گیا۔عدالت نے کہاکہ ملزم پہلے ہی دو سال قید بھگت چکا ہے اور متاثرین کو رقم بھی واپس کر چکا ہے۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ آخر -