وفاقی بجٹ ،ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5550ارب روپے ،قومی پرچم کی توہین پر کاروائی ہوگی ،،پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملے کی مذمت ،وفاقی کابینہ

وفاقی بجٹ ،ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5550ارب روپے ،قومی پرچم کی توہین پر کاروائی ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی) وفاقی کابینہ نے شمالی وزیرستان میں افواج پاکستان کی چیک پوسٹ پر حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے پرچم کی توہین کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں ہوگی، شرپسندانہ واقعات قبائلی علاقوں کی ترقی میں روڑے اٹکانے کے مترادف ہے،قبائلیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومت لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال پر بریفنگ دی۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اگلے سال میں معیشت کو ٹریڈنگ سے مینوفیکچرنگ تک لے جانے کے اقدامات کریں گے، آئندہ بجٹ میں شرح نمو 4 فیصد اور مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد رکھی جائے گی۔حفیظ شیخ نے بتایا کہ رواں مالی سال کے آخر تک ریونیو وصولیاں 42 سو ارب تک ہونے کی توقع ہے، آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5550 ارب روپے رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ خسارہ 7.1 فیصد رہنے کی توقع ہے، رواں مالی سال میں مجموعی حکومتی قرض 30 ٹریلین روپے رہنے کی توقع ہے۔ و زیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے عمران خان کے مخالف خاندان کا ایجنڈا ان سے حسد اور بغض رہا،سیاسی بونے قد اونچا کرنے کیلئے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہیں ،بانس پر چڑھنے سے سیاسی بونوں کا قد اونچا نہیں ہو سکتا ،قائد حزب اختلاف بھی آئیں سمدھی صاحب بھی پاکستان آئیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا ،پورنو گرافی کی ویب سائٹس کی وجہ سے بچوں کو جنسی استحصا ل کے واقعات بڑھ رہے ہیں ،بچوں سے زیادتی کی سزا سزائے موت ہونی چاہیے ، بچوں سے متعلق قوانین کا جائزہ لیا جائے گا،کچی کینال کے فنڈز کے غلط استعمال کی رپورٹ ایف آئی اے کو دے دی ہے،ملزمان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے ،گیارہ جون کو بجٹ پیش کیا جائے گا ،کفایت شعاری مہم کے تحت بجٹ سیشن کے دوران میڈیا اور عوامی نمائندوں کیلئے ہائی ٹی کا انتظام نہیں ہو گا،بجٹ اسٹریٹجی معیشت کا استحکام، بیرونی خسارے پر قابو اور اخراجات میں کمی اور قرضوں میں کمی ہوگی ،سیگریٹ انڈسٹری کو ٹیکس نیٹ میں ذیادہ لایا جائے گا اور پیسے صحت پر خرچ کئے جائیں گے۔ منگل کو کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ یہ کابینہ کی 43ویں میٹنگ تھی ۔ انہوںنے کہاکہ کابینہ نے وزیرستان میں افسوسناک واقعہ کی مذمت کی ہے ،افواج پاکستان کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا اور قبائلیوں کو ورغلا کر حملہ آور ہونے اور شرپسند کارروائی کی کابینہ نے مذمت کی گئی۔ انہوںنے کہاکہ شرپسند عناصر نے قبائلی علاقوں کے امن کو داﺅ پر لگا دیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نے 102ارب کا ترقیاتی بجٹ فاٹا کو دینے کا اعلان کیا ۔ فردوس عاش قاعوان نے کہاکہ شرپسندانہ واقعات قبائلی علاقوں کی ترقی میں روڑے اٹکانے کے مترادف ہے ۔ انہوںنے کہاکہ قبائلیوں کو سیاست کا ایندھن بنانے پر کابینہ نے تحفظات کا اظہار کیا ،قبائلیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومت ان لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کے پرچم کی توہین کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں ہوگی۔فردوس عاشق اعوان نے بتایاکہ کابینہ کے بیالیس اجلاس میں 819فیصلے کئے گئے،584فیصلوں پر عملدرآمد ہو چکا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پورنو گرافی کی ویب سائٹس کی وجہ سے بچوں کو جنسی استحصا ل کے واقعات بڑھ رہے ہیں ،بچوں سے زیادتی کی سزا سزائے موت ہونی چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ بچوں سے متعلق قوانین کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ سرکاری عمارتوں کو قابل استعمال بنانے کے حوالے سے کابینہ کو بریف کیا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ مختلف محکموں کی 31پراپرٹیز کی نشاندھی کی گئی ہے ۔ فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ 17بلڈنگز ایرا کے گریڈ انیس کے افسر کے زیر استعمال تھیں ، ان پراپرٹیز کی مالیت دس ارب ہے ،زلزلے کے متاثرین کا فنڈ بھی غلط استعمال ہوا۔ انہوںنے کہاکہ کچی کینال کے فنڈز کے غلط استعمال ی رپورٹ ایف آئی اے کو دی گئی ہے،ملزمان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ گیارہ جون کو بجٹ پیش کیا جائے گا ۔انہوںنے کہاکہ کفایت شعاری مہم کے تحت بجٹ سیشن کے دوران میڈیا اور عوامی نمائندوں کیلئے ہائی ٹی کا انتظام نہیں ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ بجٹ اسٹریٹجی معیشت کا استحکام، بیرونی خسارے پر قابو اور اخراجات میں کمی اور قرضوں میں کمی ہوگی ۔ فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ این ایف سی کی وجہ سے بجٹ کا بڑا حصہ صوبوں کو چلا جاتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ معاشی ٹیم کے باعث روپے کی قدر میں استحکام آیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ فوری اقدامات سے افواہ ساز فیکٹریاں کم اور اسٹاک ایکسچینج نئے ریکارڈ بنا رہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ کابینہ کو ایکسپورٹ پالیسی کے حوالے سے بھی بریف کیا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ ایکسپورٹ پالیسی سے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوںنے کہاکہ مقامی صنعتوں کو مضبوط کیا جائے گا اس سے خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی ۔ انہوںنے کہاکہ سیگریٹ انڈسٹری کو ٹیکس نیٹ میں زیادہ لایا جائے گا اور پیسے صحت پر خرچ کئے جائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم نے کنگ سلمان سے حج کوٹہ میں اضافی کی درخواست کی تھی ،کنگ سلمان کی جانب سے حج کوٹہ میں 15790 حجاج کا اضافہ کیا گیا ہے ،حجاج کو کئی کئی گھنٹے ایئرپورٹ پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اسلام آباد سے جانے والے حجاج کرام کی تمام تر امیگریشن کے قواعد و ضوابط اسلام آباد ایئرپورٹ پر ہی مکمل کرلئے جائیں گے ۔انہوںنے کہاکہ بیس خاندانوں کا ٹارگٹ آج بھی وزیراعظم ہیں ،درد کی ایک ہی وجہ ہے کہ نہ پوچھا جائے کہ پیسے کہاں سے آیا ۔بانس پر چڑھنے سے سیاسی بونوں کا قد اونچا نہیں ہو سکتا ۔انہوںنے کہاکہ سیاسی بونے قد اونچا کرنے کیلئے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہیں ،دنیا وزیر اعظم کے فیس کو نہ مانتی تو پاکستان کی مدد کو نہ آتی ،اگر آپ نے ملک کو چونا نہیں لگایا تو پاکستان آئیں ۔ انہوںنے کہاکہ قائد حزب اختلاف بھی آئیں سمدھی صاحب بھی پاکستان آئیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا ۔ انہوںنے کہاکہ جن کا دامن صاف ہوتا ہے وہ بچوں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر نہیں چلاتے ۔ انہوںنے کہاکہ خود انگلینڈ بیٹھے ہیں اور بچوں کو شیلڈ بنا رہے ہیں انہوں نے کہاکہ مریم بی بی سے بھی کہوں گی کہ خود ہی اپنی اداﺅں پر ذرا غور کریں ہم بھی کچھ کہہ سکتے ہیں مگر شائستگی حدیں عبور نہیں کرنا چاہتے انہوںنے کہاکہ عمران گیدڑ بھبھکیوں سے ڈرنا والا نہیں ۔انہوںنے کہاکہ یوم تکبیر پر آہ بکا کی گئی ، نیب کو جواب دیں کہ ملکی معیشت کو چونا نہیں لگایا۔ انہوںنے کہاکہ بیرون ملک مفرور ملزمان کی پاکستان واپسی کے حوالے سے معاہدہ ہو چکا ہے،اب بیرون ملک اثاثے رکھنے والوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائےگا۔ انہوںنے کہاکہ چیئرمین نیب کو متنازع بنانے کا فائدہ اپوزیشن کو ہوگا۔انہوںنے کہاکہ اپوزیشن احتساب سے بچنے کے لیے احتساب کے عمل کو متنازع بنا رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ ایف بی آر کو بہت زیادہ اصلاحات کی ضرورت ہے،ساڑھے 5 کروڑ اکاونٹ ہولڈرز میں سے ٹیکس جمع کرانے والوں کی تعداد چند لاکھوں میں ہے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کی صرف 300 کمپنیاں ایسی ہیں جو ٹیکس ریٹرنز میں منافع دکھاتی ہیں۔انہوںنے کہاکہ محصولات کا ہدف حاصل کرنے کے لیے کرپشن پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ جب تک اپنا گھر ٹھیک کرنا ہے، حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز سے بات چیت کررہی ہے۔انہوںنے کہاکہ مودی نے سارا الیکشن پاکستان مخالف جذبات پر لڑا۔انہوںنے کہاکہ جس شخص نے اینٹی پاکستان انتخابی مہم چلائی، وہ کیسے پاکستانی وزیراعظم کو حلف برداری میں بلائے گا۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ پاکستان نے بھی مودی کو نہیں بلایا تھا۔

وفاقی کابینہ

آئندہ بجٹ میں شرح نمو 4 فیصد رکھی جائے گی: مشیر خزانہ کی کابینہ کو بریفنگ

اسلام آباد

مزید :

صفحہ اول -