جعلی اکاﺅنٹس کیس کی اسلام آباد منتقلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

جعلی اکاﺅنٹس کیس کی اسلام آباد منتقلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

  

اسلام آباد(آئی این پی)سابق صدرآصف زرداری نے جعلی اکاﺅنٹس کیس منتقلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا، درخواست میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کوسیاسی انتقام کا نشانہ بنایاجاتا رہا ہے،آصف زرداری کوعبوری چالان میں ملزم نہیں بنایا گیا،جعلی اکاﺅنٹس کیس کی بینکنگ کورٹ سے احتساب عدالت اسلام آبادمنتقلی کو کالعدم قرار دیا جائے۔منگل کو سابق صدرآصف زرداری نے جعلی اکاﺅنٹس کیس منتقلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا،آصف زرداری نےمقدمہ بینکنگ کورٹ سے احتساب عدالت اسلام آبادمنتقل کرنے کیخلاف اپیل دائرکی،اپیل میں مﺅقف اپنایا گیا کہ آصف زرداری پیپلز پارٹی کے صدر ہیں اور صدر پاکستان بھی رہے ہیں،آصف زرداری کوسیاسی انتقام کا نشانہ بنایاجاتا رہا ہے،وہ جیل میں بھی رہے،آصف زرداری من گھڑت اور جھوٹے مقدمات سے بری ہوئے،ایف آئی اے نے جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس کی تحقیقات کا آغاز کیا،آصف زرداری کوعبوری چالان میں ملزم نہیں بنایا گیا،سپریم کورٹ نے جعلی اکاﺅنٹس معاملے کی جے آئی ٹی سے تحقیقات کرائیں،اپیل میں استدعا کی گئی کہ جعلی اکاﺅنٹس کیس کی بینکنگ کورٹ سے احتساب عدالت اسلام آبادمنتقلی کو کالعدم قرار دیا جائے۔

فیصلہ چیلنج

 اسلام آباد (آئی این پی )پاکستان پیپلز کی قیادت نے( آج) بدھ کو نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے اور نیب عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ کرلیا ، یہ فیصلہ منگل کو پاکستان پیپلز پارٹی کے مشاورتی اجلاس میں کیا گیا۔منگل کو ترجمان کے مطابق زرداری ہاﺅس اسلام آباد میں پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماﺅں کا مشاورتی اجلاس ہواجس کی صدارت سابق صدر آصف علی زرداری اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مشترکہ طور پر کی۔ اس اجلاس میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، فریال تالپور، سید نیر حسین بخاری، نوید قمر، مصطفی نواز کھوکھر، لطیف کھوسہ، ہمایوں خان، مرتضیٰ وہاب، قیوم سومرو، چوہدری منظور، عامر فدا پراچہ اور فرحت اللہ بابر و دیگر نے شرکت کی ۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی صورتحال، حالیہ جنوبی وزیرستان بحران، مہنگائی اور ملک میں انتقامانہ احتساب کے عمل اور دیگر امور زیر بحث آ ئے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نیب کی عدالت اور نیب کے دفتر میں بالترتیب بدھ کو پیش ہوں گے۔ اجلاس کے دوران چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے قابل احترام رکن پر دہشتگردی کا الزام لگا کر انہیں حراست میں رکھا گیا ہے اور اسپیکر قومی اسمبلی نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا کہ معزز رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے پروڈکشن آرڈرز فی الفور جاری کئے جائیں۔

پی پی اجلاس

مزید :

صفحہ اول -