پشتون تباہی موومنٹ

پشتون تباہی موومنٹ

  

وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقے طالبانوں کے مظبوط مرکز بن چکے تھے، شریعت کے نام پر طالبانوں نے مختلف علاقوں میں اپنے امیر بٹھا دئیے، سکولوں کو بند کر کے اسلحہ ساز کارخانوں میں تبدیل کر دیا گیا تعلیم حاصل کرنا جرم کرنے کے برابر ٹھرا، اسلام کا نام استعمال کر کے مخالفین کو ذبیح کرنا معمول بن گیا تھا۔ دہشتگرد زبردستی لوگوں کی بیٹیوں سے نکاح کرتے، یاد رھیے انکار کی سزا موت تھی۔طالبانوں کے خلاف جب نفرت بڑی تو ایک خوفناک طریقہ اپنایا گیادہشتگرد جسے چاہتے گولی مار کر لاش سڑک پر پھینک دیتے،بازاروں میں لٹکتی لاشیں معمول بن چکی تھیں۔

غضب کی بات یہ ہے کہ لاشوں کے ساتھ ایک چٹ بھی لکھی جاتی جس پر علاقے کے امیر کا حکم درج ہوتا کہ یہ لاش چار دن یا پانج دن بعد سڑک سے اٹھائی جائے جو مقررہ دن سے پہلے لاش اٹھاتا اگلے دن اس کی لاش بھی پڑی ہوتی ہے۔اس دور میں سوات کا گرین چوک لاشوں کے حوالے سے بہت مشہور ہوا، جسے لوگ بعد میں خونی چوک کہنے لگے۔

دہشتگردوں کی ایک مخصوص گاڑی ہوتی تھی جو جس کو ایک دفعہ اٹھا لیتی پھر اس کی لاش گرین چوک میں ہی لٹکتی ملتی۔ آپ ذرہ ایک لمحے کے لیے تصور کیجئے آپ سوات کے گرین چوک پر کھڑے ہیں،۔ آپ کے گھر کے کسی فرد کی لاش آپ کے سامنے لٹک رہی ہے۔لاش کے ساتھ چپکی چٹ پر لکھا ہے کہ اس کافر کی لاش کو پانچ دن تک ہاتھ تک نہ لگایا جائے۔

ذرہ سوچئیے یہ کیسی شریعت تھی جس میں لوگوں کی بیٹیوں کو گھروں سے اٹھا لانا جائز تھا؟۔دہشتگردی پورے پاکستان میں پھیل چکی تھی۔ مسجدوں،مدرسوں سرکاری عمارتوں پر دھماکے معمول تھے۔ کے پی کے اور بلوچستان تو مکمل پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی دہشتگردی ملک کے وجود پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہی تھی۔پھر حالات بدلے فوج ان دہشتگردوں کے خلاف لڑنے کے لیے میدان میں آئی۔فوج نے اپنے پندرہ ہزار جوانوں کی قربانی دی۔ہزاروں فوجی عمر بھر کے لیے معذور ہوئے۔

پاک فوج کے جوانوں کو اغواکیا جاتا،انکی لائیو ویڈیو بنائی جاتی۔ایک جوان کو سب باندھے ہوئے جوانوں کے سامنے چھری سے ذبح کیا جاتااسکا سر تن سے جدا کیا جاتا۔ذرا اپنے آپ کو ان جوانوں کی جگہ رکھ کر سوچیں۔کیا ایسے میں انکو بیوی بچوں کی یاد نہیں آئی ہو گی۔وہ جنگ جسے جیتنا محض خواب تھا، فوج نے وہ جنگ جیتی اپنی جانیں قربان کر کے سوات کے خونی چوک کو دوبارہ امن چوک بنایا۔

وہ علاقے جہاں لٹکتی ہوئی لاشیں ملتی تھیں، ان کو پرامن علاقہ بنایا۔ وزیرستان اور سوات کے علاقوں میں کیڈٹ کالج بنائے۔ وہ سکول جو دہشتگردوں کے اسلحے کے کارخانے تھے، دوبارہ تعلیمی مرکز بنائے، تمام قبائلی علاقوں کو پرامن ماحول فراہم کیا۔اب ایک دفعہ پھر کچھ لوگ جو عام لوگوں کے روپ میں انہی کے گماشتے ہیں مطالبہ کر رہے ہیں کہ چیک پوسٹیں ختم کی جائیں۔مسنگ پرسن واپس کیے جائیں۔

ارے بھائی وہ جنکا رونا تم رو رہے ہو وہ فوج کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے اپنے انجام تک پہنچ چکے ہیں باقی افغانستان بھاگ گئے ہیں جاؤ انکو منا کر واپس لاؤہمیں نہ آپس میں لڑاؤ۔انکے نام پر قومیت کا چورن نہ بیچو۔۔خدارا پشتونوں پر رحم کرو۔ ہم دوبارہ اپنے پیاروں کی لاشیں سڑکوں پر پڑی نہیں دیکھنا چاہتے۔ہم نہیں چاہتے دوبارہ ہماری بیٹیوں کو جہاد کے نام پر گھروں سے اٹھا لیا جائے اور ہاں یاد رکھو

خیبرپختونخوا بنگال نہیں اورنہ ہی پختون بنگالی ہیں۔اس لیے بار بار 1971ء کا حوالہ نہ دو۔ پختونوں نے پاکستان سے الگ ہونا تھا تو بہت سے مواقع پہلے آئے تھے تب الگ نہیں ہوئے تو اب کیسے الگ ہوں گے۔ پختون پاکستان کے بانی بھی ہیں اور محافظ بھی۔

پختون پاکستان کے بدن کا ہی نہیں اس کی روح کا بھی حصہ ہیں۔ اچھی طرح جان لیجیے کہ پختونوں کو غفار خان اور ولی خان پاکستان سے الگ نہ کرسکے تو ان کے صلبی یا نظریاتی پوتے پڑپوتے کیا الگ کرسکیں؟۔یہ پختون تحفظ مومنٹ نہیں بلکہ پختون تباہی مومنٹ ہے جو محب وطن پختونوں کو ختم کرنے کے بنائی گئی ہے جس کی مثال اس گندی مکھی کی طرح ہے جو سارا صاف جسم چھوڑ کر گندے زخم پر جا بیٹھتی ہے۔

یہ لوگ ریاست پاکستان کے اچھے اقدامات کی کبھی تعریف نہیں کرتے بلکہ اکثر اوقات ان پر طنز کرتے ہی نظر آتے ہیں۔پشتون علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر ہو یا کسی ہسپتال یا تعلیمی ادارے کا قیام، انہوں نے کبھی ریاست پاکستان اور پاک فوج کے اقدامات کو نہیں سراہا بلکہ یہ لوگ ہمیشہ ان پر تنقید کرتے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ جس کسی کو شک ہو وہ محسن داوڑ کی تازہ ترین ٹوئٹ دیکھ سکتا ہے جس میں موصوف پاک فوج کی طرف سے مکمل کیے گئے ترقیاتی منصوبوں پر طنز فرما رہے ہیں۔ لیکن جہاں بدقسمتی سے کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جائے جس میں کوئی جانی یا مالی نقصان ہوا ہو تو یہ لوگ فوراً اس کا ذمہ دار ریاست اور فوج کو ٹھہرا دیتے ہیں۔ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی طرف سے لگائی جانے والی لینڈ مائنز ہٹانے میں اب تک سو سے زائد وردی والے شہید ہو چکے ہیں۔ ہماری بہادر فوج نے ہمیشہ کی طرح اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے عام لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا ہے لیکن پی ٹی ایم کے مبینہ مشران کی جانب سے کبھی فوج کے اس اقدام کی تعریف نہیں کی گئی۔

(مبینہ اس لیے لکھا ہے کہ منظور پشتین، علی وزیر اور محسن داوڑ جیسے جتنے بھی لوگ پی ٹی ایم کے مشران بنے بیٹھے ہیں یہ اصل میں صرف کٹھ پتلیاں ہیں جن کی ڈوریں ان کے غیر ملکی آقاؤں کے ہاتھوں میں ہیں) لیکن بدقسمتی سے اگر کوئی عام شہری اس کی زد میں آ کر شہید یا معذور ہو جائے تو فوراً فوج پر انگلی اٹھا دی جاتی ہے کہ فوج نے ابھی تک بارودی سرنگیں صاف نہیں کیں۔عوام کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر پورے ملک میں فوج کی جانب سے چیک پوسٹوں کی تعمیر کی گئی ہے۔ خیبرپختونخوا اور سابقہ قبائلی علاقے چونکہ دہشت گردی کا زیادہ شکار رہے ہیں اس لیے ان علاقوں میں چیک پوسٹوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے۔

دہشت گردوں کی طرف سے ہونے والے حملوں میں پہلا نشانہ یہی چیک پوسٹس ہوتی ہیں۔ اور آج تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینکڑوں اہلکار ان چیک پوسٹوں پر اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں لیکن آج تک پی ٹی ایم نے وردی والوں کی اس جانثاری کو نہیں سراہا۔ بلکہ الٹا یہ چیک پوسٹوں کے قیام کے سرے سے ہی مخالف رہے ہیں۔

چیک پوسٹوں کی تعداد میں کمی پی ٹی ایم کے ابتدائی مطالبات میں سے ایک ہے۔ لیکن جب چیک پوسٹوں کی تعداد میں کمی کرنے کی وجہ سے دہشت گردوں کی طرف سے کوئی حملہ ہو جاتا ہے تو یہ فوراً اس کی ذمہ داری فوج پر ڈال دیتے ہیں کہ فوج دہشت گردوں سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ابھی حال ہی میں پی ٹی ایم کی لیڈر شپ نے اپنے کارکنوں کے ساتھ مل کر فوج کی خڑ کمر پوسٹ پر باقاعدہ حملہ کیا۔علی وزیر اور محسن داؤڑ کا قافلہ

جیسے ہی پہنچا۔ قافلے کے لوگوں نے کچھ مقامیوں کے ساتھ ملکر چیک پوسٹ پر ہلہ بول دیا۔ ساتھ ہی علی وزیر اور محسن داؤڑ کے گارڈز نے چیک پوسٹ پر فائرنگ بھی شروع کر دی۔چیک پوسٹ کی طرف بڑھتے ہجوم کو روکنے کے لیے فوج نے ہوائی فائرنگ کی لیکن ہجوم نہ رکا اور نہ ہی ٹی ایم والوں کی فائرنگ۔جس کے بعد علاقے میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔اس چیک پوسٹ پر پچھلے سال بھی پی ٹی ایم نے اسی طرح کا حملہ کیا تھا۔اس سارے واقعے کا پس منظر یہ ہے کہ شمالی وزیرستان کے اس علاقے میں فوجی قافلوں پر اب تک کئی حملے ہو چکے ہیں۔ جن میں کئی فوجی شہید ہو چکے ہیں۔چند دن پہلے فوجی قافلے پر حملے کے بعد یہاں ایک دہشت گرد کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی جس کو مقامیوں نے پناہ دے رکھی تھی۔فوج گرفتار کرنے آئی تو دہشت گرد کے سہولت کاروں نے مزاحمت کی اور دہشت گرد کو بھگا دیا۔ جس کے بعد فوج نے دونوں سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا۔پھر مقامی آبادی سے مذاکرات کے بعد ان میں سے ایک کو چھوڑ دیا گیا۔پی ٹی ایم عرب سپرنگ کی طرز پر جو خانہ جنگی چاہتی تھی وہ اس نے شروع کروا دی اور اس کا ایندھن وہ پشتونوں کو بنا رہی ہے۔

ان کے خلاف اب آپریشن ناگزیر ہے۔چیک پوسٹیں صرف خیبرپختونخواہ یا قبائلی علاقوں میں ہیں نہیں ہیں۔ یہ پورے ملک میں موجود ہیں۔پی ٹی ایم ریاست پاکستان اور پاک فوج کی مخالفت میں اتنی اندھی ہو چکی ہے کہ طبعی موت مرنے والوں اور خاندانی دشمنی کی بھینٹ چڑھ کر مرنے والوں کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ قرار دے کر فوج کے خلاف پراپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں۔

ارمان لونی کا واقعہ تو سب کے علم میں ہے کہ کس طرح ایک ہارٹ اٹیک سے مرنے والے کو زبردستی کا شہید بنایا گیا۔ایک اور بات قابل غور ہے کہ یہ لوگ ہارٹ اٹیک سے مرنے والے ارمان لونی کے جنازے میں شرکت کے لیے خیبرپختونخوا سے باقاعدہ جلوس کی شکل میں بلوچستان تو چلے جاتے ہیں لیکن آج تک انہیں ان کے اپنے علاقے میں ان کی حفاظت کی خاطر جان قربان کرنے والے کسی فوجی اہلکار کی نماز جنازہ میں شرکت کی کبھی توفیق نہیں ہوئی۔کچھ روز قبل شمالی وزیرستان میں ایک شخص شیر اسلم نامی شخص کو ارمان نامئی نے اٹھارہ سال پرانی خاندانی دشمنی پر کئی لوگوں کے سامنے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

پولیس کے کیس کا اندراج کرنے کے بعد قاتل کو گرفتار بھی کر لیا ہے لیکن پی ٹی ایم والوں نے حسب روایت جھوٹ کے ریکارڈ توڑتے ہوئے اس کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نام دے کر فوج کے کھاتے میں ڈال دیا اور یہ جو دہشت گردی ہے والے نعرے الاپنے شروع کر دیے۔ حالانکہ بہت سارے لوگ اس واقعہ کے چشم دید گواہ تھے لیکن سچائی سامنے آنے کے بعد بھی پی ٹی ایم والوں نے اپنے جھوٹے الزامات پر کسی شرمندگی کا اظہار نہیں کیا۔تازہ ترین واقعہ جس پر پی ٹی ایم نے فوج کے خلاف پراپیگنڈے کا طوفان برپا کر رکھا ہے وہ لورالائی میں قیوم اتمانخیل نامی شخص پر تشدد کا ہے۔

پی ٹی ایم کے بقول اس شخص پر تشدد میں ایف سی کے اہلکار ملوث ہیں لیکن حسب معمول اس بات کا کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں۔ جبکہ کچھ ذرائع سے یہ بات بھی سامنے آ رہی ہی کہ قیوم اتمانخیل کو اس کے رشتہ داروں نے زمین کے جھگڑے میں مارا پیٹا ہے۔ لیکن پی ٹی ایم کے والوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کا الزام بھی فوج پر لگا دیا ہیاور یہی خاندانی جھگڑے والی بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کیونکہ پی ٹی ایم اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ فوج پر جھوٹے الزامات لگا کر ذلیل ہو چکی ہے۔

لوگ اب پی ٹی ایم کی حقیقت کو جان چکے ہیں اور پشتونوں میں سے ہی لوگ اب ان کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جس کی تازہ مثال تحریک جوانان کے رہنما نذیر خان ہیں جن کا کہنا ہے کہ منظور پشتین اور ان کے حواریوں کا پشتونوں سے کوئی تعلق نہیں یہ نئی بوتل میں پرانی شراب ہے جو کام روس اے این پی سے نہیں لے سکا وہ اب امریکہ،بھارت اور افغانستان مل کر پی ٹی ایم سیلینا چاہتے ہیں جس میں وہ کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتے کیونکہ پشتون مر تو سکتا ہے غداری نہیں کرسکتا۔

مزید :

رائے -کالم -