قومی پرچم کی توہین پر کارروائی ہوگی،پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملے کی مزمت،بجٹ 11جون کو پیش کیا جائے گا،قبائلیوں کے تحفظ کیلئے وفاقی،صوبائی حکومت شانہ بشانہ ہے:وفاقی کابینہ

قومی پرچم کی توہین پر کارروائی ہوگی،پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملے کی مزمت،بجٹ ...

  

  اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) وفاقی کابینہ نے شمالی وزیرستان میں افواج پاکستان کی چیک پوسٹ پر حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے پرچم کی توہین کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں ہوگی، شرپسندانہ واقعات قبائلی علاقوں کی ترقی میں روڑے اٹکانے کے مترادف ہے،قبائلیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومت لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں جبکہ و زیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے عمران خان کے مخالف خاندان کا ایجنڈا ان سے حسد اور بغض رہا،سیاسی بونے قد اونچا کرنے کیلئے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہیں،بانس پر چڑھنے سے سیاسی بونوں کا قد اونچا نہیں ہو سکتا،قائد حزب اختلاف بھی آئیں سمدھی صاحب بھی پاکستان آئیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا،پورنو گرافی کی ویب سائٹس کی وجہ سے بچوں کو جنسی استحصا ل کے واقعات بڑھ رہے ہیں،بچوں سے زیادتی کی سزا سزائے موت ہونی چاہیے، بچوں سے متعلق قوانین کا جائزہ لیا جائے گا،کچی کینال کے فنڈز کے غلط استعمال کی رپورٹ ایف آئی اے کو دے دی ہے،ملزمان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے،گیارہ جون کو بجٹ پیش کیا جائے گا،کفایت شعاری مہم کے تحت بجٹ سیشن کے دوران میڈیا اور عوامی نمائندوں کیلئے ہائی ٹی کا انتظام نہیں ہو گا،بجٹ اسٹریٹجی معیشت کا استحکام، بیرونی خسارے پر قابو اور اخراجات میں کمی اور قرضوں میں کمی ہوگی،سیگریٹ انڈسٹری کو ٹیکس نیٹ میں ذیادہ لایا جائے گا اور پیسے صحت پر خرچ کئے جائیں گے۔ منگل کو کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ یہ کابینہ کی 43ویں میٹنگ تھی۔ انہوں نے کہاکہ کابینہ نے وزیرستان میں افسوسناک واقعہ کی مذمت کی ہے،افواج پاکستان کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا اور قبائلیوں کو ورغلا کر حملہ آور ہونے اور شرپسند کارروائی کی کابینہ نے مذمت کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ شرپسند عناصر نے قبائلی علاقوں کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے 102ارب کا ترقیاتی بجٹ فاٹا کو دینے کا اعلان کیا۔ فردوس عاش قاعوان نے کہاکہ شرپسندانہ واقعات قبائلی علاقوں کی ترقی میں روڑے اٹکانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہاکہ قبائلیوں کو سیاست کا ایندھن بنانے پر کابینہ نے تحفظات کا اظہار کیا،قبائلیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومت ان لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے پرچم کی توہین کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں ہوگی۔فردوس عاشق اعوان نے بتایاکہ کابینہ کے بیالیس اجلاس میں 819فیصلے کئے گئے،584فیصلوں پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پورنو گرافی کی ویب سائٹس کی وجہ سے بچوں کو جنسی استحصا ل کے واقعات بڑھ رہے ہیں،بچوں سے زیادتی کی سزا سزائے موت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ بچوں سے متعلق قوانین کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری عمارتوں کو قابل استعمال بنانے کے حوالے سے کابینہ کو بریف کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ مختلف محکموں کی 31پراپرٹیز کی نشاندھی کی گئی ہے۔ فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ 17بلڈنگز ایرا کے گریڈ انیس کے افسر کے زیر استعمال تھیں، ان پراپرٹیز کی مالیت دس ارب ہے،زلزلے کے متاثرین کا فنڈ بھی غلط استعمال ہوا۔ انہوں نے کہاکہ کچی کینال کے فنڈز کے غلط استعمال ی رپورٹ ایف آئی اے کو دی گئی ہے،ملزمان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ گیارہ جون کو بجٹ پیش کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ کفایت شعاری مہم کے تحت بجٹ سیشن کے دوران میڈیا اور عوامی نمائندوں کیلئے ہائی ٹی کا انتظام نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ بجٹ اسٹریٹجی معیشت کا استحکام، بیرونی خسارے پر قابو اور اخراجات میں کمی اور قرضوں میں کمی ہوگی۔ فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ این ایف سی کی وجہ سے بجٹ کا بڑا حصہ صوبوں کو چلا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ معاشی ٹیم کے باعث روپے کی قدر میں استحکام آیا ہے۔انہوں نے کہاکہ فوری اقدامات سے افواہ ساز فیکٹریاں کم اور اسٹاک ایکسچینج نئے ریکارڈ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کابینہ کو ایکسپورٹ پالیسی کے حوالے سے بھی بریف کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ایکسپورٹ پالیسی سے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہاکہ مقامی صنعتوں کو مضبوط کیا جائے گا اس سے خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہاکہ سیگریٹ انڈسٹری کو ٹیکس نیٹ میں زیادہ لایا جائے گا اور پیسے صحت پر خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے کنگ سلمان سے حج کوٹہ میں اضافی کی درخواست کی تھی،کنگ سلمان کی جانب سے حج کوٹہ میں 15790 حجاج کا اضافہ کیا گیا ہے،حجاج کو کئی کئی گھنٹے ایئرپورٹ پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد سے جانے والے حجاج کرام کی تمام تر امیگریشن کے قواعد و ضوابط اسلام آباد ایئرپورٹ پر ہی مکمل کرلئے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ بیس خاندانوں کا ٹارگٹ آج بھی وزیراعظم ہیں،درد کی ایک ہی وجہ ہے کہ نہ پوچھا جائے کہ پیسے کہاں سے آیا۔بانس پر چڑھنے سے سیاسی بونوں کا قد اونچا نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہاکہ سیاسی بونے قد اونچا کرنے کیلئے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہیں،دنیا وزیر اعظم کے فیس کو نہ مانتی تو پاکستان کی مدد کو نہ آتی،اگر آپ نے ملک کو چونا نہیں لگایا تو پاکستان آئیں۔ انہوں نے کہاکہ قائد حزب اختلاف بھی آئیں سمدھی صاحب بھی پاکستان آئیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ جن کا دامن صاف ہوتا ہے وہ بچوں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر نہیں چلاتے۔ انہوں نے کہاکہ خود انگلینڈ بیٹھے ہیں اور بچوں کو شیلڈ بنا رہے ہیں انہوں نے کہاکہ مریم بی بی سے بھی کہوں گی کہ خود ہی اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں ہم بھی کچھ کہہ سکتے ہیں مگر شائستگی حدیں عبور نہیں کرنا چاہتے انہوں نے کہاکہ عمران گیدڑ بھبھکیوں سے ڈرنا والا نہیں۔انہوں نے کہاکہ یوم تکبیر پر آہ بکا کی گئی، نیب کو جواب دیں کہ ملکی معیشت کو چونا نہیں لگایا۔ انہوں نے کہاکہ بیرون ملک مفرور ملزمان کی پاکستان واپسی کے حوالے سے معاہدہ ہو چکا ہے،اب بیرون ملک اثاثے رکھنے والوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ چیئرمین نیب کو متنازع بنانے کا فائدہ اپوزیشن کو ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن احتساب سے بچنے کے لیے احتساب کے عمل کو متنازع بنا رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایف بی آر کو بہت زیادہ اصلاحات کی ضرورت ہے،ساڑھے 5 کروڑ اکاونٹ ہولڈرز میں سے ٹیکس جمع کرانے والوں کی تعداد چند لاکھوں میں ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی صرف 300 کمپنیاں ایسی ہیں جو ٹیکس ریٹرنز میں منافع دکھاتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ محصولات کا ہدف حاصل کرنے کے لیے کرپشن پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ جب تک اپنا گھر ٹھیک کرنا ہے، حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز سے بات چیت کررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ مودی نے سارا الیکشن پاکستان مخالف جذبات پر لڑا۔انہوں نے کہاکہ جس شخص نے اینٹی پاکستان انتخابی مہم چلائی، وہ کیسے پاکستانی وزیراعظم کو حلف برداری میں بلائے گا۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ پاکستان نے بھی مودی کو نہیں بلایا تھا۔

وفاقی کابینہ

مزید :

صفحہ اول -