جمہوری طرز حکومت کا مذاکرات ہی حسن ہے ،بات چیت کریں

جمہوری طرز حکومت کا مذاکرات ہی حسن ہے ،بات چیت کریں

  

ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

معلوم نہیں کہ ہمیں یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی کہ جمہوری طرز حکومت میں بات چیت یعنی ڈائیلاگ ہی اس کا حسن ہے یہی وہ ذریعہ اور طریقہ ہے جس سے اپنی بات یا موقف سامنے والے کو سمجھایا جا سکتا ہے یقینا سیاستدان اس میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں مگر ”گولی“ پہلے کی دنیا میں کسی مسئلے کا حل رہی ہے اور نہ رہتی دنیا تک رہے گی البتہ الجھاؤ کیلئے یہ انتہائی مناسب طرز عمل ہے جو یقینا جمہوری روایت کی امین نہیں ہو سکتی ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ جمہوریت میں جمہوری طرز عمل اور آمریت میں آمرانہ رویہ ہونا چاہیے افسوس کہ جب مارشل لاء لگتا ہے تو چند ماہ ہی کے بعد مکمل جمہوری ہو جاتا ہے اور جمہوریت آتی ہے تو آمریت ”پھیل جاتی ہے اب ایسے میں عوام بھلا کیا کریں کس کو پیٹیں اور کس کو روئیں کوئی پرسان حال نہیں ہے غریب عوام سے جنت الفردوس جیسی سہولتیں فراہم کرنے کا منشور دے کر جب حکومت حاصل کر لیتے ہیں تو پھر وہی انہی ووٹرز کو دھمکانا شروع کر دیتے ہیں تمام ووٹرز اور سپورٹرز انہیں چور، اچکے، کام چور اور فراڈی نظر آنے لگتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہو گی کہ اس وقت تین مرتبہ عوامی مینڈیٹ سے وزیر اعظم کی مسند تک پہنچے والا میگا کرپشن کے الزام میں جیل کی ہوا کھا رہا ہے جو باقی بچ رہے ہیں وہ تیاریوں میں ہیں اس میں اس وقت کی تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین بھی شامل ہیں اب ان کے ساتھ آنے والے وقت میں کیا سلوک ہو گا انہیں سکرپٹ کا تو لکھنے والے ہی بتا سکتے ہیں لیکن واضح طور پر جو نظر آرہا ہے وہ یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں موجودہ انصافی حکومت کے اکابرین بھی پابند سلاسل ہوں گے الزامات کی فہرست پہلے ہی ان کے پاس موجود ہے بلکہ یوں کہیں کہ تحریری کے ساتھ ساتھ ”ویجول“ بھی محفوظ ہیں ٹھیک اسی طرح کہ جس طرح چیئر مین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے بارے میں ”لیک“ ہوئی ہے کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ مسند اقتدار پر بیٹھ کر اب میرا ہو چکا ہے تو یہ اس کی بھول ہے بلکہ اسے ماضی کا مطالبہ کرنا چاہیے کہ مطالعہ بہت ضروری ہے کہیں بد قسمتی یہ ہے کہ مملکت خداداد میں جو بھی مسند اقتدار میں ہوتا ہے اس کے کان اور آنکھیں بند ہو جاتی ہیں وہ اپاہج ہو کر اپنی مرضی سے چل بھی نہیں سکتا ہاں البتہ بول لیتا ہے اور وہی بولتا ہے جس کی ضرورت ہوتی ہے خیر کا کلمہ نہیں شاید اب بھی وقت بچا ہے کہ جذبات کی ڈگڈی بجانے کی بجائے حقائق کا سامنا بات چیت سے کیا جائے ورنہ نہ تو یہ حکومت سرائیکی صوبہ بنا سکے گی اور نہ ہی وہ ان مسائل کا حل تلاش کر سکے گی جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ گذشتہ 72 سالوں سے زیر التوا ہیں اس پر بھی غور کرنا ہو گا کہ ایک طرف تو تحریک انصاف کی حکومت سرائیکی صوبہ بنانے کے لئے بل لانے کا وعدہ کر رہی ہے جنوبی پنجاب کا سول سیکرٹریٹ بنانے کے لئے زور و شور سے باتیں ہو رہی ہیں جبکہ دوسری طرف انہی کے شریک حکومت دھمکی آمیز لہجے میں اس سے انکاری ہیں اور تو اور سرائیکی صوبے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے کا وعدہ کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) بھی اپنا اس مرحلے پر اپنا مطالبہ لے کر بیٹھ گئی ہے اور اب صوبے کے قیام کی مخالفت پر اتر آئی ہے یہ بات یہاں کی سرائیکی قوم پرست جماعتوں کو بطور خاص دکھتی ہو گی ورنہ اس حکومت کا دیا ہوا لولی پاپ بھی جلد ہی گھل جائے گا۔

موجودہ حکومت نے جنوبی پنجاب میں سول سیکرٹریٹ یکم جولائی سے فعال کرنے کا اعلان کیا ہے اس کی تیاریوں کا سلسلہ بھی زور و شور سے جاری ہے سول سیکرٹریٹ کی بازگشت میں بالآخر ایک عرصہ کے بعد ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی سمیت ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں مستقل سربراہان کی تقرری عمل میں لائی جا چکی ہے جبکہ کمشنر ملتان نے ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن کا چارج سنبھالنے کے بعد ملتان کی تاریخی حیثیت کو بحال کرنے کے لئے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے ان اقدامات میں پہلے مرحلہ میں ملتان کی تاریخی عمارات اور مزارات کو روشن کر دیا گیا ہے اور انہیں برقی قمقموں سے مزین کیا گیا ہے جس سے شہریوں کو ایک خوشگوار تبدیلی کا احساس ہوا ہے دوسری جانب ملتان کے شہریوں کو پارکنگ فیس کے نام پر لوٹ مار کو نشانہ بنانے والے 89 پرائیویٹ اداروں جن میں میرج ہال پلازے پرائیویٹ ہسپتال سکولز و دیگر شامل ہیں کے خلاف کاروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ عوام کو تبدیلی کا احساس دلانے کے لئے ضلعی انتظامیہ کے مختلف محکمے ایک پیج پر نظر آتے ہیں جو بلاشبہ بلدیاتی اداروں کے توڑے جانے پر ہی ممکن ہو سکا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -