کیا ہم ان کو ضمانت دے دیں؟اسلام آبادہائیکورٹ جعلی اکاﺅنٹس کی تفصیلات نہ ہونے پر نیب پر برہم

کیا ہم ان کو ضمانت دے دیں؟اسلام آبادہائیکورٹ جعلی اکاﺅنٹس کی تفصیلات نہ ...
کیا ہم ان کو ضمانت دے دیں؟اسلام آبادہائیکورٹ جعلی اکاﺅنٹس کی تفصیلات نہ ہونے پر نیب پر برہم

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس میں تفصیلات نہ ہونے پر نیب پر برہم ہو گئی ،جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ کیوں نہ ہم نیب کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردیں، آپ ریکارڈ کے بغیر یہاں کیا کرنے آئے ہیں؟جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم ڈیڑھ گھنٹے سے دلائل سن رہے ہیں اورآپ ریکارڈ ہی نہیں لائے ،کیا ہم ان کو ضمانت دے دیں ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی ضمانتوں میں توسیع سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی ،فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ احتساب عدالت نے اس ریفرنس میں مچلکے منظور کر لیے ہیں،احتساب عدالت کے فیصلے کا انتظار ہے، جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ چیزوں کو سمیٹنا ہے بہت پھیلی ہوئی ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں؟ پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ ملزم کو گرفتار نہیں کرنا چاہتے، وارنٹ جاری نہیں کیے، اسلام ہائیکورٹ نے کہا کہ تفتیشی افسر سے پوچھ لیتے ہیں، ان کو بلائیں، تفتیشی افسر نے کہا کہ وارنٹ گرفتاری جمع کرائے ہوئے ہیں گرفتار کرنے کی ضرورت ہے۔

آصف زرداری نے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جعلی اکاو¿نٹس سے رقم زرداری گروپ کے اکاؤنٹ میں گئی، آصف زرداری، زرداری گروپ کے ڈائریکٹر بھی نہیں تھے، عبوری چالان میں بھی آصف زرداری پر کوئی الزام نہیں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کیس احتساب عدالت اسلام آبادمیں ریفرنس نمبر 2 کے طور پر منتقل کیا گیا،کیس میں آج تک کچھ سامنے نہیں آسکا ،عدالت آصف زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت منظور کرے، آصف زرداری اور فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہو گئے ۔

پراسیکیوٹر نیب جہانزیب بھروانہ نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ 2ہفتے میں تحقیقات مکمل کی جائیں، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ احتساب عدالت میں ریفرنسز فائل کئے جائیں۔آصف زرداری نیب پراسیکیوٹرکے دلائل کے دوران روسٹرم پر آگئے، سابق صدر نے وکیل فاروق ایچ نائیک کے کان میں سرگوشی کی اور دوبارہ نشست پر جا کر بیٹھے گئے۔

سپریم کورٹ میں نیب پراسیکیوٹر نیب جہانزیب بھروانہ نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا کر سنایا،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کاحکم دیا،سپریم کورٹ نے کہاتحقیقات مکمل کرکے ریفرنسزداخل کریں،جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہزاروں مشکوک ٹرانزیکشنزکاپتہ چلا،زرداری گروپ کے بینک اکاؤنٹ میں ڈیڑھ کروڑروپے آئے،متعلقہ شخص کوٹرانزیکشن اوربینک اکاؤنٹ کاہی علم نہیں ،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ادھر ادھر کی باتیں نہ کریں ،3 ،4 جملوں میں اپنی بات پوری کریں ،دوران سماعت آصف زرداری دوسری بار روسٹرم پر آئے،عدالت نے استفسار کیا کہ ڈیڑھ کروڑکی رقم آئی تووہ بینک اکاؤنٹ کس نے آپریٹ کیا؟نیب نے کہا کہ زرداری گروپ کے اکاو¿نٹس فریال تالپورآپریٹ کرتی تھیں،تفصیلات نہ ہونے پر جسٹس محسن اخترکیانی کا نیب پر اظہار برہمی کیا ،جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ کیوں نہ ہم نیب کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردیں، آپ ریکارڈ کے بغیر یہاں کیا کرنے آئے ہیں؟جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم ڈیڑھ گھنٹے سے دلائل سن رہے ہیں اورآپ ریکارڈ ہی نہیں لائے ،کیا ہم ان کو ضمانت دے دیں ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -