’میرے شوہر نے مجھے سونے کے پنجرے میں قید کر رکھا ہے‘ انتہائی امیر آدمی کی بیوی کی انتہائی دکھی داستان

’میرے شوہر نے مجھے سونے کے پنجرے میں قید کر رکھا ہے‘ انتہائی امیر آدمی کی ...
’میرے شوہر نے مجھے سونے کے پنجرے میں قید کر رکھا ہے‘ انتہائی امیر آدمی کی بیوی کی انتہائی دکھی داستان

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امیر مرد سے شادی کی خواہش تو اکثر لڑکیوں کی ہوتی ہے لیکن اگر وہ امیر مرد کنجوس نکل آئے تو کیا ہوتا ہے؟ اس کا اندازہ اس امریکی خاتون کی زندگی سے لگایا جا سکتا ہے جس نے ایک امیر بینکار کے ساتھ شادی کی اور اب اس کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر نے اسے سونے کے پنجرے میں قید کر رکھا ہے۔ وہ ایسا کنجوس ہے کہ ایک ایک پیسے کا حساب مانگتا اور اس پرجھگڑا کرتا ہے اور کبھی اسے کافی کے ایک کپ کے پیسے بھی نہیں دیتا۔

میل آن لائن کے مطابق خاتون کا کہنا ہے کہ ”میرے شوہر کی ماہانہ آمدنی لاکھوں ڈالرز میں ہے۔ ہم 6 بیڈرومز کے بہت بڑے گھرمیں رہتے ہیں جو کسی محل کے جیسا ہے۔ اس کا بہت وسیع باغیچہ ہے لیکن اس گھر کے اندر میری زندگی جیل میں قید کسی قیدی سے کم نہیں ہے۔ہماری 17اور 14سال کی دو بیٹیاں اور 12اور 10 سال  کے دو بیٹے ہیں۔ میں اچھے کپڑے پہنتی ہوں اور ہم لوگ سال میں تین بار بیرون ملک چھٹیاں منانے کے لیے جاتے ہیں لیکن یہ سب کچھ محض دکھاوے کا ہے۔ دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ میں بہت خوش و خرم زندگی گزار رہی ہوں لیکن میرا شوہر کتنا کنجوس ہے اور مجھے کتنا خرچ دیتا ہے، یہ صرف میں ہی جانتی ہوں۔“

خاتون کا کہنا تھا کہ ”ہماری شادی کو 20سال ہو گئے ہیں اور میں ہی جانتی ہوں کہ میں ان بیس سالوں سے کس تکلیف اور شرمساری کی زندگی گزار رہی ہوں۔ میرا شوہر مالی معاملات کے اعتبار سے اتنا کنٹرولنگ ہے کہ مجھ پر ایک پیسے کا بھی اعتبار نہیں کرتا اور انتہائی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں پر آنے والے خرچ کا بھی حساب مانگتا ہے۔ مجھے گھر کی ضرورتوں کے علاوہ صرف 20ڈالر روزانہ اضافی ملتے ہیں اور ان 20ڈالرز کو میں کہاں خرچ کرتی ہوں، اس کی رسیدیں بھی مجھے اپنے شوہر کو دینی ہوتی ہیں۔اکثر اوقات میرے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ میں دودھ کا ایک ڈبہ خرید لوں۔میں انتہائی تکلیف دہ زندگی گزار رہی ہوں اور اس شخص کو چھوڑ کر جانا چاہتی ہوں کیونکہ مجھے اس سے اب محبت بھی نہیں رہی، لیکن مجھ میں خوداعتمادی کی اتنی کمی ہے کہ میں اسے چھوڑنے کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کر پاتی۔ میں اس خوف میں مبتلا رہتی ہوں کہ اس کے بعد میرا کیا ہو گا اور میرے بچوں کا کیا ہو گا۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -