مسلم معاشرہ میں غیر مسلموں کے حقوق

مسلم معاشرہ میں غیر مسلموں کے حقوق

  

صبیحہ افضل

مسلمانوں نے غیروں کو دین کی دعوت تو دی لیکن طویل اسلامی تمدنی تاریخ میں کہیں بھی یہ اشارہ نہیں ملتا کہ کسی غیرمسلم جماعت یا فرد کو زبردستی اسلام میں داخل کیا گیا ہو، بلکہ مسلمانوں کے زیرسایہ بسنے والے تمام لوگوں کو دینی آزادی حاصل رہی۔ ایسا صرف اس لئے ہوا کہ اگرچہ اسلام ہی واحد دین مبین ہے لیکن اختلاف شرائع کا وقوع بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت میں شامل ہے۔

”تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک دستور اور راہ مقرر کر دی ہے، اگر منظور مولیٰ ہوتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ لیکن اس کی چاہت ہے کہ جو تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے، تم نیکیوں کی طرف جلدی کرو، تم سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے۔“ (المائدۃ:28)

لہٰذا اس تعدد و اختلاف کو ختم کرنامحال و ممتنع ہے۔

اس وضاحت کے بعد مبلغینِ اسلام کے سامنے دین کی دعوت دینا اور اسباب ہدایت تلاش کرنا ہی باقی بچا، کسی کو زبردستی اسلام میں داخل کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔ کیونکہ اختلاف شرائع جب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہو تو گویا ہر شخص کو اعتقاد کی آزادی حاصل ہوگئی۔ اب وہ اسلام قبول کرے نہ کرے انسان کی اپنی مرضی پر منحصر ہوا۔

جب اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا ”لا اکراہ فی الدین“کہ ہم نے انسان کو حق و باطل میں تمیز کرنے والی عقل اور اپنی پسند اختیار کرنے کی آزادی دے دی تو پھر کسی اکراہ کی ضرورت نہیں رہ گئی۔ علامہ ابن کثیرؒ نے لکھا ہے: ”کسی کو قبول اسلام پر مجبور نہ کرو اس لئے کہ دین اسلام اپنے دلائل و براہین کے ساتھ اتنا واضح ہے کہ کسی جبر کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔ اللہ تعالیٰ جسے اسلام کی ہدایت دے گا، بصیرت عطا کرے گا وہ اسلام قبول کر لے گا۔ لیکن جس کے دل پر مہر لگا دے اسے جبری دخول فی الدین بھی کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ (تفسیر القرآن العظیم:)

سلف صالحین نے بھی اس کا بہترین نمونہ پیش کیا چنانچہ حضرت عمرؓ نے ایک نصرانی بڑھیا سے کہا: ((أسلمی تسلمی، ان اللہ بعث محمدا بالحق)) عورت نے کہا کہ میں تو قریب المرگ بڑھیا ہوں تو اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا: اللھم اشھد اور اس آیت کی تلاوت فرمائی (لااکراہ فی الدین)۔ امام محمد بن حسن و امام ابن قدامہ وغیرہ نے لکھا ہے کہ ذمی و مستأمن وغیرہ کو اگر جبراً مسلمان بنا لیا جائے تو بھی اس کے لئے اسلام کا حکم ثابت نہ ہوگا تا

عبادت کی آزادی و عبادت گاہوں کی سلامتی کی ضمانت

جب اسلام اپنے زیرسایہ بسنے والوں کو قبول اسلام پر مجبور نہیں کرتا تو گویا لوگوں کو اپنے دین پر کاربند رہنے کا اختیار حاصل ہوگیا۔ اس آزادی کے نتیجے میں ان کی عبادتوں و عبادت گاہوں سے بھی کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا۔ مسلمانوں نے بالفعل اسے انجام بھی دیا، چنانچہ نبی کریمؐ نے اہل نجران کو جو امان نامہ لکھا وہ بہت سی چیزوں کے ساتھ ان کے کلیساؤں کی سلامتی اور ان کے معاملات و عبادات میں عدم مداخلت پر بھی مشتمل تھا۔

حضرت خالد بن ولیدؓ نے فتح دمشق کے بعد لکھا: ”وہ لوگ اوقات نماز کے علاوہ دن و رات کے جس حصہ میں بھی چاہیں ناقوس بجا سکتے ہیں اور اپنے ایام عید میں صلیب نکال سکتے ہیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے عمال کو لکھا کہ ”کسی کلیسا، گرجا اور آتش کدہ کو منہدم نہ کرنا۔“

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ ایسے غیر مسلمین کے ساتھ اچھائی کا سلوک کریں جنہوں نے انہیں تکلیف نہ دی ہو اور نہ ہی ان کے ساتھ قتال کیا ہو۔

”جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا، ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“(الممتحنۃ: ۸)

٭کافر والدین کا نفقہ ان کے ساتھ صلہ رحمی کرنا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

”اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شرک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تُو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح گزر بسر کرنا۔“(لقمان: 15)

٭ غیر مسلم مریض کی عیادت کرنا۔ جیسا کہ آپؐ نے اپنے چچا ابوطالب کی عیادت کی۔ (ترمذی)

٭ ہدیہ لینا، دینا۔ اس سے آپسی بغض و عداوت میں بڑی حد تک کمی آتی ہے۔ نبی کریمؐ نے خیبر میں زینب بنت الحارث یہودیہ کا، شاہ مصر مقوقس، ملک ایلہ، اکیدر اور کسریٰ وغیرہ کا تحفہ قبول کیا۔

٭ غیرمسلمین کی ہدایت کے لئے دعا کرنا،

اللہ تعالیٰ نے عدل کا حکم دیتے ہوئے تاکید فرمائی کہ مخالف دین کے ساتھ بھی عدل کا برتاؤ کرنا ہے، کیونکہ اختلاف دین نفرت کا سبب بن جاتا ہے، جس سے ظلم کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے، اسی لئے مزید تاکید کی ضرورت پڑی:

”(اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ، راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ، کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آمادہ نہ کرے، عدل کیا کرو جو پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے۔“(المائدۃ: ۸)

علامہ قرطبیؒ نے فرمایا: کافر کا کفر عدل کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن:

٭ نبی کریمؐ نے ذمیوں پر ظلم کرنے، نقض عہد کرنے یا ان کے حقوق چھیننے سے ڈراتے ہوئے فرمایا: مظلوم کی طرف سے میں مخاصم رہوں گا:

مسلمانوں نے عملاً اسے انجام بھی دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ غیرمسلم اسلامی ریاستوں میں رہنا پسند کرتے تھے، نصاریٰ حمص نے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ موجودہ ظلم و ستم کے بنسبت ہمیں آپ کی ولایت و عدل زیادہ پسند ہے، ہم آپ کے ساتھ ہرقل کی فوج سے لڑیں گے۔

معاشرہ میں بسنے والے غیرمسلمین اگر غریب ہیں تو ان کی اعانت بھی ضروری ہے، لہٰذا مسلم قوم و بیت المال کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی حاجتیں پوری کرے، اگر وہ بھوکے ہیں تو اشیاء خوردنی ان تک پہنچائی جائیں، ان کی پردہ پوشی کا انتظام کیا جائے۔

ابوعبید نے کتاب الاموال میں عمربن عبدالعزیزؒ کے بارے میں نقل کیا ہے کہ آپ نے اپنے والی سے کہا: ذمیوں میں سے جو کبیرالسن، کمزور اور کمانے کی طاقت نہ رکھتا ہو، بیت المال سے اس کی ضرورتیں پوری کرو۔(کتاب الاموال: 94)

امام ابویوسفؒ نے کتاب الخراج میں اس طرح کے کئی واقعات نقل کئے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -