حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ...........ایک ولی کامل

حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ...........ایک ولی کامل

  

تحریر:مولانا مجیب الرحمن انقلابی

امام الاولیاء شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ ان اولیاء اللہ میں سے ہیں کہ جن کا نام آتے ہی بڑے بڑے علماء کرام اور بزرگ ہستیوں کے سر عقیدت ومحبت سے جُھک جاتے اور آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں۔آپ ان اللہ والوں میں سے تھے جن کو خدا نے برسنے اولی آنکھیں تڑپنے والا دل اور روشن چہرہ سے نوازا جن کے دونوں ہاتھ رات کی تنہائی میں آنسوؤں کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں اٹھتے تو اللہ کی رحمت ومغفرت کو سمیٹ لاتے جن کو اللہ نے اپنے ذکر سے ایسا معمور،روشن اور نورانی دل عطافرمایا تھا کہ چیز کو سونگھ کر بتا دیتے تھے کہ یہ حرام ومشتبہ ہے ،جن کے روشن چہرے کو دیکھ کر خدا یاد آئے، آپ ؒ جس چہرے پر نگاہ اوردل پر توجہ ڈالتے اس کے دل کی دنیا بدل کر رکھ دیتے،آپؒ دلوں کی دنیا آباد کرتے ہوئے مخلوق کو کو خالق کے ساتھ جوڑنے ذریعہ بنتے، حضرت لاہوریؒ کا تعلق ان علماءِ حق سے ہے جو کہ تمام زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدا بلند کرتے اور لاکھوں لوگوں کو شرک و بدعت اور ضلالت و گمراہی کے گڑھوں سے نکال کر ان کے دلوں میں توحید الہٰی، عشق نبوی ﷺ،حب صحابہؓ و اہل بیتؓ کی شمعیں روشن کر کے ان کے ایمان کی حفاظت اور جنت کی طرف راہنمائی کا ذریعہ بن جاتے ہیں،حضرت لاہوری ؒ کو انگریز تحریک ریشمی رومال کے جرم میں دہلی سے گرفتار کرکے لاہور لائے تو تن تنہا تھے کوئی جاننے اور ضمانت دینے والا نہ تھا لیکن اس ولی باصفا نے لاہور میں 40سال مسلسل در س قرآن کا چراغ روشن کرکے لاکھوں لوگوں کی ہدایت اور جنت کا ذریعہ بنے اور جس دن وفات پائی اس دن بھی درس قرآن دیا اوراس سے اگلے روز جنازہ تھا اس دن آپؒ کی وصیت کے مطابق پہلے درس قرآن دیاگیا اور تدفین بعد میں ہوئی جب آپؒ کا جنازہ اٹھا تو لاکھوں لوگ عقیدت ومحبت میں رونے،جنازے میں شریک ہونے اور کاندھا دینے والے نظر آئے آپ ؒ ”صاحبِ کشف قبورتھے“قبر پر بیٹھ کر مراقبہ کے ذریعہ صاحب قبر کی کیفیت کو معلوم کرلیتے تھے جن کی وفات کے بعد قبرمبارک سے جنت کی خوشبوئیں آتی رہیں مولانا احمد علی لاہوریؒ نیکی وتقویٰ کا استعارہ اور ہدایت کے ایسے روشن چراغ تھے کہ جس کی روشنی اور فکر ونظر سے اب تک لوگ استفادہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ حضرت لاہوریؒ فرمایا کرتے تھے کہ میرا ایک پاؤں ریل گاڑی کے پائیدان پر ہو اور دوسرا پلیٹ فارم پر اسی حالت میں مجھے کوئی آواز دے کر پوچھے کہ احمدعلی ذرا گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے مجھے یہ بتادیجئے کہ پورے قرآن کا خلاصہ کیا ہے تو میں کہہ دو نگا کہ پورے قرآن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کو راضی کرو عبادت کے ذریعہ، محمدالرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرو اطاعت کے ذریعہ اور مخلوق خدا کو راضی کروخدمت کے ذریعہ یہی قرآنِ کریم کا خلاصہ ہے۔

آپ ہی کے بارہ میں صحافت وخطابت کے بے تاج بادشاہ آغا شورش کاشمیریؒ رقم طراز ہیں ”حضرت لاہوریؒ کا تعلق علمائے حق کی اس جماعت سے تھا جو حضرت مجدد الف ثانی ؒ سے نسبت رکھتی ہے جس کے سرخیل حضرت شاہ ولی اللہ محدث دھلویؒ تھے جس کی بنیادیں حضرت سید احمد شہیدؒ اور حضرت شاہ اسماعیل ؒ نے اٹھا ئیں جس کی شاخیں 1857کے ہنگامہ ہائے دار ورسن سے پھوٹیں حضرت مولانا لاہوریؒ معناً ولی اللٰہی ٹہنی ہی کا پتہ تھے اس درخت کا ہی ایک پھول تھے جومولانا محمدقاسم نانوتویؒ اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے اُگایا شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندی ؒ کے ہاتھوں پروان چڑھا اور ان کے نیک نفس جانشینوں نے اسے سرسبز رکھا علمائے حق کی یہ ایک ایسی زنجیر ہے کہ جس کی عظمت پر حیرت ہوتی ہے انسان حیران ہوتاہے کہ یہ انسانوں کی جماعت ہے یاقدرت کا معجزہ ایک لکیر کھینچی آتی ہے کہ کوئی خم ہے نہ کوئی گرہ ایک صاف ستھرا سلسلہ ہے جو شروع سے اب تک چلا آرہا ہے اور جن لوگوں نے اس راہ کو اختیار کیا ہے۔وہ کہیں بھی ہٹے محسوس نہیں ہوتے بلکہ جوانمردوں کا ایک قافلہ ہے جو فکر وتضرع کے ہمرکاب حق گوئی کے سائے میں بڑھتاچلا آرہا ہے مولانا احمد علی لاہوریؒ اسی جوانمرد ونڈر،فکر ی ونظریاتی قبیلہ کے چشم وچرا تھے۔“

تحریک ریشمی رومال انگریز سے برصغیر کی آزادی حاصل کرنے کا ایک منصوبہ تھا مگر بد قسمتی سے یہ منصوبہ قبل از وقت طشت ازبام ہو گیا انگریز نے اس تحریک کے قائدین اور اس سے وابستہ کارکنان کوگرفتار کرنا شروع کیا تو مولانا احمدعلی لاہوریؒ بھی گرفتار کر لیے گئے مولانا احمد علی لاہوری ؒ کو گرفتار کرکے دہلی،شملہ،لاہور اور جالندھر کی مختلف حوالاتوں میں کئی ماہ گزارنے کے بعدآپؒ لاہور میں پابند ضمانت کرکے مشروط رہا کردیا گیا اورآپ ؒ پر دہلی اور سندھ جانے پر پابندی لگادی گئی....مولانا احمدعلیؒ کی اہلیہ بھی لاہورآگئیں ....لاہور کی زندگی کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے جس وجہ سے آپؒ لاہوری کہلاتے ہیں مسجد لائن سبحان والی شیرانوالہ دروازہ سے باہر مسجد میں حضرت مولانا احمد علی لاہوری ؒ پنجگانہ نماز ادا کرتے تھے فاروق گنج کی طرف جاتے ہوئے جو مسجد ہے وہاں آپ ؒ نے درس قرآن شروع کیا پھر آہستہ آہستہ تبلیغ وارشاد کا سلسلہ بڑھنا شروع ہوگیا 1922ء میں حکیم فیروز الدین کی تحریک پر انجمن خدام الدین کا قیام عمل میں لایا گیا قرآن اور سنت بنوی صلی اللہ علیہ وسلم کی اشاعت کو انجمن خدام الدین کا نصب العین قرار دیاگیا انجمن خدام الدین نے وقتی ضروریات کے مطابق دینی، اصلاحی اور سماجی صرورتوں کے لیے قرآن وسنت کے روشنی میں کئی رسالے اور کتابیں شائع کیں یہ تمام رسالے اورکتابچے مولانا احمدعلی لاہوریؒ کے تحریر کردہ تھے 1924...ء میں انجمن خدام الدین کی زیر نگرانی مدرسہ قاسم العلوم کی بنیاد رکھی گئی ابتدا میں یہ مدرسہ کرایہ کے مکان میں تھا لیکن بعد میں مدرسہ کے لیے زمین خرید کر عمارت بنائی گئی جس میں آٹھ کمرے تھے اس عمارت کی رسم افتتاح علامہ شبیراحمد عثمانی ؒ کے ہاتھوں 1934ء میں ادا ہوئی.....آپ ؒ نے عمربھر قرآن مجید کی لفظاً ومعناً خدمت کی 1354ھ (1935ء)میں آپ نے حفظ ناظر ہ کا اہتمام فرمایا اس لے لیے مولانا عبیداللہ انور ؒ کی روایت کے مطابق علامہ انور شاہ کشمیر ی ؒ کو دارالعلوم دیوبند میں خط لکھا کہ ہمارے ہاں کوئی قاری بھجوایں جو علم قرات کے ساتھ قرآن مجید کی تعلیم دے سکیں انہوں نے قاری عبدالکریم ؒ کو بھجوا دیالاہور میں وہ پہلے قاری تھے جنہوں نے تجوید وترتیل کی ابتدا کی مولانا احمد علی لاہوریؒ کی اسی محنت کا نتیجہ تھا کہ لاہور میں قرآنی تعلیمات عام ہوئیں آپ ؒ نے مسلمانوں کو قرآن مجید سمجھانے لیے روازانہ نماز فجر کے بعد ایک گھنٹہ درس قرآن رکھا ہوا تھا اس میں مسلمان مردوں کے علاوہ علیحدہ باپردہ جگہ میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں اور یہ درس اتنا مشہور تھا کہ لوگ دوردراز سے آکر درسِ قرآن میں شریک ہوتے تھے اس کے علاوہ یکم رمضان سے ایک درس مدارس عربیہ کے فارغ التحصیل علماء کے لیے ہوتا تھا اور تین ماہ میں سارے قرآن کی تفسیر انہیں پڑھائی جاتی تفسیر کے اختتام پر باقاعدہ سندات دی جاتی تھیں اس درس کی تکمیل کے بعد جو حضرات مزیدتعلیم حاصل کرنے کے خوہش مند ہوتے انہیں چار ماہ میں فلسفہ، شریعت اورحضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی مشہور کتاب ”حجۃ البالغہ“پڑھاتے تھے.... 1940ء سے شروع ہونے والا یہ درس آپ کی زندگی کے آخری ایام تک جاری رہا 1953...ء میں جب تحریک ختم نبوت شروع ہوئی تو مولانا احمدعلی لاہوریؒ نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا آپ کی گرفتاری بھی عمل میں آئی اور آپ کو دوسرے علماء کے ساتھ ملتان جیل میں رکھا گیامگر جب ملک فیروز خان بر سرِ اقتدار آئے تو آپ کو لاہور جیل میں منتقل کردیا گیا بعد ازاں آپ کورہا کردیا گیا.... 22اکتوبر 1956ء میں بحیثیت عالم دین انجمن حمایت اسلام کی جزل کونسل کے آپ رکن مقرر ہوئے انجمن حمایت اسلام کے معاملات میں گہری دلچسپی لینے کی بناء پر مولانا لاہوریؒ 17نومبر1956ء کو انجمن کے نائب صدرتازیست اسی عہدے پر فائز رہے....آپ نے انجمن حمایت اسلام کی ترقی میں شاندار خدمات سر انجام دیں.... اکتوبر 1956ء کو پاکستان کے جید علماء کی لاہور میں مشاورت ہوئی جس میں جمعیت علماء اسلام کی تجدید نو کی گئی اور بالاتفاق مولانا احمد علی لاہوریؒ کو جمعیت علماء اسلام مغربی پاکستان کا امیرمنتخب لیاگیا آپ آخری وقت تک اس عہدے پر فائز رہے آپ کی رہنمائی میں صرف ایک سال کے قلیل عرصہ میں جمعیت علماء اسلام مغربی پاکستان میں 300شاخیں قائم ہوگئیں..جون 1957ء میں جمعیت علماء اسلام کا آرگن ترجمان اسلام لاہور سے آپ کی سر پرستی میں شائع ہونے لگا جمعیت علماء اسلام نے آپ کی سرپرستی میں انتخابی منشور ترتیب دیاتھا1955ء میں مولانا احمد علی لاہوریؒ کی سرپرستی میں انجمن خدام الدین کی طرف سے”خدام الدین“نام سے دینی، تبلیغی و اصلاحی ایک ہفت روزہ رسالہ جاری کیاگیایہ رسالہ آج بھی جاری ہے دنیا میں جو ذی روح بھی آیا ہے اس نے آخر ایک دن اس دنیا سے کوچ کرناہے مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنے رب کو راضی کرکے اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اس ضابطہ کے تحت مولانا احمدعلی لاہوریؒ کا سفرِ آخرت پیش آگیا چنانچہ 23فروری1962ء بمطابق 17رمضان 1381ہجری کو 77سال کی عمر میں آپ اس شان سے دنیا سے رخصت ہوئے کہ ساڑھے نوبجے رات نماز عشاء کی نیت باندھی اور سجد ے کی حالت میں خالق حقیقی سے جاملے مولانا عبیداللہ انورؒ اور حافظ حمیداللہ ؒ نے باقی رفقاء کے ہمراہ غسل دیا یونیورسٹی گراؤنڈ میں نماز جنازہ ادا کی گئی نماز جنازہ سے پہلے خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کی آواز بلند ہوئی کہ مغربی پاکستان کے تمام علماء کرام حاضر ہوچکے ہیں اور ان کا متفقہ فیصلہ ہے کہ نماز جنازہ کی امامت مولانا لاہوریؒ کے صاحبزادہ مولانا عبید اللہ انورؒ پڑھائیں گے چنانچہ نمازجنازہ ادا کی گئی عشاق نے اپنے محبوب مرشد کے جسدِ خاکی کو سرِشام میانی قبرستان میں پہنچا دیا افطاری کے وقت مولانا عبداللہ درخواستی ؒ،مولانا عبیداللہ انورؒ،حافظ حمید اللہ اور دیگر اکابرین نے مسلمانان ہندوپاک کی یہ مشترکہ دینی متاعِ گراں مایہ لحدِ خاک میں رکھ دی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -