مساجد میں سماجی فاصلوں کا احترام،بازاروں میں خلاف ورزی

مساجد میں سماجی فاصلوں کا احترام،بازاروں میں خلاف ورزی

  

سعودی عرب کی حکومت نے مکہ مکرمہ کے سوا مُلک بھر کی مساجد میں نمازوں کی ادائیگی، نئے ضوابط کے تحت کرنے کا اعلان کیا ہے،عُمرہ پر پابندی رہے گی، آج نمازِ جمعہ مساجد میں ادا ہو گی۔ وزارتِ اسلامی امور نے اعلان کیا ہے کہ اذان سے پندرہ منٹ پہلے مساجد کھولی جائیں گی، فرائض کی ادائیگی کے دس منٹ کے بعد دوبارہ بند کر دی جائیں گی،نمازوں کے لئے جو نیا میکانزم تیار کیا گیا ہے اس کے تحت اذان اور اقامت کے درمیان دس منٹ کا وقفہ ہو گا، خطبہ جمعہ15منٹ کے لئے ہو گا، دو نمازیوں کے درمیان دو نمازیوں کی جگہ خالی چھوڑی جائے گی، دو صفوں کے درمیان ایک صف خالی رکھی جائے گی،مساجد کے تمام دروازے اور کھڑکیاں کھلی رہیں گی،عارضی طور پر تمام مساجد سے قرآنِ پاک کے نسخے اور کتب اُٹھا لی گئی ہیں۔درس و تدریس کا سلسلہ بھی موقوف کر دیا گیا ہے، مساجد میں کھانے پینے کی اشیا تقسیم کرنے کی اجازت نہیں ہو گی،نمازیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وضو گھر سے کر کے آئیں، مساجد کی وضو گاہیں بند رکھی جائیں گی۔ آج جمعہ کی نماز کے لئے مساجد بیس منٹ پہلے کھولی جائیں گی اور بیس منٹ بعد بند کر دی جائیں گی۔ کورونا کی وجہ سے لگائی گئی پابندیوں کے خاتمے کے پہلے مرحلے میں کرفیو پندرہ گھنٹے تک محدود کر دیا گیا ہے۔ کل (30مئی) صبح6 بجے سے رات 8 بجے تک شہروں کے درمیان آمدورفت بحال کر دی جائے گی۔

سعودی مساجد میں نمازِ جمعہ اور دوسری نمازوں کی باجماعت ادائیگی کے لئے یہ پابندیاں کم و بیش وہی ہیں جن کا اہتمام پاکستان میں بھی کیا گیا اور بیشتر نمازی ان پابندیوں کو پیش ِ نظر رکھ کر ہی مساجد میں جاتے ہیں،بعض مساجد میں تو رضا کار ہاتھوں میں سینی ٹائزرز کی بوتلیں لئے کھڑے ہوتے ہیں اور نماز کے لئے آنے والوں کے ہاتھوں پر لگواتے ہیں، تاہم کہیں کہیں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پابندیوں کی زیادہ پروا نہیں کی جاتی،فاصلوں کا اہتمام بھی نہیں کیا جاتا۔اگر مساجد کی انتظامیہ ذرا سی توجہ بھی دے تو صورتِ حال مزید بہتر ہو سکتی ہے۔ آج جمعتہ المبارک کے خطبات میں خطیب حضرات کو احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دینا چاہئے۔ہمارے ہاں مساجد میں تو قواعد و ضوابط کا احترام کیا جا رہا ہے،لیکن بازاروں اور کاروباری مراکز میں جس طرح ایس او پیز کی مٹی پلید کی گئی اس پر لاک ڈاؤن میں نرمی کے بہت سے حامی بھی پریشان ہو گئے،بازاروں میں خریداری کرنے والی خواتین اپنے چھوٹے چھوٹے،بلکہ شیر خوار بچوں کے ہمراہ بازاروں میں گھومتی رہیں،مہندی اور چوڑیوں کا شوق بھی یہ دیکھے بغیر پورا کیا گیا کہ مہندی لگانے والے لوگ کہیں کورونا کے مریض تو نہیں ہیں، بازاروں میں خریداروں اور تماشائیوں کا رش بھی پابندیوں کا مذاق اُڑاتا رہا،گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سفر کرنے والوں نے بھی کسی پابندی کی پروا نہیں کی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پابندیاں نرم کرنے والے حکام اب دوبارہ سخت لاک ڈاؤن کی بات کر رہے ہیں،اِس وقت سندھ اور خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں مزید مریضوں کے داخلے کی گنجائش نہیں رہی اور اگر نئے کیسز اسی رفتار سے بڑھتے رہے تو نئے مریضوں کے داخلے کے لئے نئے عبوری انتظامات کرنے ہوں گے، نہیں معلوم کہ چند دن کے اندر ایسے انتظامات کئے بھی جا سکتے ہیں یا نہیں، وینٹی لیٹر بھی محدود تعداد ہی میں دستیاب ہیں اور آکسیجن کے سلنڈر بھی۔ عالمی ادارہ صحت خبردار کر چکا ہے کہ جو مُلک جلد بازی میں لاک ڈاؤن نرم کر رہے ہیں وہاں وبا کی نئی لہر کا بھی خطرہ ہے،ضرورت ہے کہ لوگوں کی آگاہی کے لئے مہم چلائی جائے۔ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ بہت سے لوگوں کو اِس بیماری کی سنگینی کا احساس و ادراک ہی نہیں،جو لوگ فرض نمازوں کے لئے مساجد کھولنے کی مخالفت کرتے رہے ہیں اُنہیں اب اندازہ ہو گیا ہو گا کہ سماجی فاصلوں کی پابندی کی خلاف ورزی زیادہ تر بازاروں میں ہو رہی ہے، مساجد میں نہیں،ہمارے بعض پُرجوش تاجر تو جھولے اور بچوں کے تفریحی مقامات کھولنے کی بھی اجازت مانگ رہے تھے یہ تو اچھا ہوا کہ انتظامیہ نے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہونے دی اور عدالتوں سے بھی انہیں ریلیف نہ ملا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر درخواستیں مسترد کر دیں کہ جھولے کھولنے کی اجازت دے کر بچوں کے قتل ِ عام کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا۔

دوسرے ممالک میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں کتنی موثر رہیں اور ان پر کتنی سختی سے عمل درآمد کرایا گیا اِس کا اندازہ اِس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ برطانیہ میں ایک وزیر نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر کیا،جہاں اس کی فیملی کے ارکان کورونا کے مریض تھے اور وزیر کے بقول اُنہیں اس کی امداد کی ضرورت تھی،لیکن برطانوی عوام ”اتنی سی بات پر“ وزیر صاحب سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔امریکہ میں سماجی فاصلوں کا اِس حد تک لحاظ رکھا جا رہا ہے کہ بچے اپنے والدین سے ملنے کے لئے گھر کے اندر داخل نہیں ہوتے اور دور ہی سے ہیلو ہائے کر کے واپس چلے جاتے ہیں،ہمارے ہاں اِس طرح کی پابندیوں کے احترام کا کوئی تصور نہیں،عزیزوں رشتے داروں کے ہاں آمدورفت کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے، گھروں میں ہر ممکن حد تک ضیافتیں بھی ہو رہی ہیں اور عید کی چھٹیوں میں مہمان نوازی اور میزبانی کی مشرقی روایات کا خوب اہتمام کیا گیا۔سماجی فاصلوں کا لحاظ نہ رکھنے ہی کا نتیجہ ہے کہ ملک میں اب مریضوں کی تعداد60ہزار سے متجاوز ہے اور اسلام آباد جیسے سو فیصد خواندگی سے بہرہ مند شہر میں مریضوں کی تعداد اتنی تیزی سے بڑھی ہے کہ آبادی کے تناسب سے یہ شہر مریضوں کے معاملے میں صف ِ اول کی پوزیشن پر آ گیا ہے یہ سب اعداد و شمار اس امر کے متقاضی ہیں کہ شہری پابندیوں کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں اور بے احتیاطی کے مرتکب ہو کر اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -