نیم کا پودا، جراثیم کش، شفا کا ذریعہ!

نیم کا پودا، جراثیم کش، شفا کا ذریعہ!

  

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ مُلک بھر میں کسان اور شجر کاری کرنے والے سرکاری محکمے پودے لگاتے وقت نیم کے پودوں کو ترجیح دیں، نیم کے درخت موسمی، طبی اور ملکی حالات میں بہت مفید ہیں، ایک تو یہ جراثیم کش اور متعدد ادویات میں استعمال ہونے کے علاوہ موسمی بیماریوں میں براہِ راست فائدہ دیتے ہیں،پانی کم سے کم لیتے اور مٹی کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں،ہمارے زرعی ماہرین کا یہ مشورہ بہت ہی صائب ہے کہ نیم کے درخت ہمارے اپنے موسم اور مزاج کی مناسبت سے یقینا مفید ہیں،اس درخت کے پتے اُبال کر زخموں کی صفائی کا کام لیا جاتا اور یہ کسی بھی جراثیم کش دوا سے زیادہ بہتر ہوتے ہیں، جبکہ جلدی امراض میں بھی یہ درخت مفید ہے۔ ہمارے اطباء اس پودے اور درخت سے متعدد ادویات بناتے ہیں۔یوں بھی یہ فضائی آلودگی کے حوالے سے جراثیم کش ہیں،اِس لئے مفید تر ہیں۔ ابھی حال ہی میں کراچی(سہراب گوٹھ) میں ایک بزرگ نے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے والے مریض پر نیم کی گولیاں بنا کر ”ٹوٹکے“ کے طور پر استعمال کرائیں اور مفید ثابت ہو گئیں مریض صحت یاب ہو گیا۔بہرحال یہ کوئی سند تو نہیں،لیکن یہ ثابت شدہ امر ہے ہمارے خطے میں موسم کے لحاظ سے روائتی درخت(ٹاہلی، پیپل، بوہڑ،نیم) ہی مفید تھے کہ یہ نہ صرف چھاؤں دیتے، بلکہ ان سے ادویات بھی تیار ہوتی تھیں،لیکن جدید دور کے تقاضوں کی روشنی میں ہم نے سفیدے جیسے درخت عام کئے،جو صرف سیم روکنے کے لئے تھے اور بہت زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں،اسی طرح جاپانی درخت عام کر دیئے جو بارہ ماہ سرسبز رہتے ہیں،ان سے ہمارے ماحول پر بھی اثر پڑا،ہم اتنے لاپرواہ بھی ہیں کہ سفیدے کے درختوں کو بتدریج موسمی درختوں سے تبدیل کرنے کے فیصلے پر بھی عمل نہیں کرتے اور آج بھی موٹرویز جیسی گذر گاہوں پر یہ درخت جھوم رہے ہوتے ہیں کہ ان سے ماچس کی تیلیاں بنائی جاتی ہیں۔امریکہ سمیت مغربی دُنیا روایت کی طرف پلٹ آئی اور ہم ان کی پرانی لکیر پیٹ رہے ہیں،ہمارے اپنے زرعی ماہرین کی مشاورت بہترین، اس پر عمل ہونا چاہئے کہ اب ”آرگینک“ دور ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -