کیا یہ قوم صرف سختی کی قائل ہے؟

کیا یہ قوم صرف سختی کی قائل ہے؟
کیا یہ قوم صرف سختی کی قائل ہے؟

  

عید کی تعطیلات اور لاک ڈاؤن میں نرمی کے باعث جن خدشات کا اظہار کیا گیا،وہ پورے ہوئے اور کورونا متاثرین میں اضافہ واضح طور پر سامنے آیا۔ یہ وہ کیس ہیں،جو ٹیسٹ کے نتیجے میں ثابت ہوئے اور جو حضرات اس عمل سے نہیں گذرے اور وہ متاثر ہیں، ان کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا اور ان کی وجہ سے مزید کتنے تندرست لوگ بیمار ہوں گے،ان کی بھی ابھی گنتی نہیں کی جا سکتی۔دوسری طرف ابھی سے یہ اطلاعات موصول ہونے لگی ہیں اور اب متاثرین کو آئسولیشن کیمپوں میں بھیجا جانے لگا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق انہیں مزید دو ہزار وینٹی لیٹروں کی ضرورت ہو گی،اب حالت یہ ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی اور ابتدا ہی سے گو مگو کی کیفیت کی وجہ سے عام لوگوں میں یہ تاثر پختہ ہو چکا ہے کہ کورونا کا نام لے کر ڈرایا جا رہا ہے اور یہ وبا ایسی نہیں،جس کا چرچا کیا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ سازشی تھیوریوں کا ذکر بھی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ عید کی خریداری اور تاجر بھائیوں کی طرف سے لاک ڈاؤن کی کسر نکالنے کے عمل نے بھی کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ کیا اور اب یہ خدشہ حقیقت نظر آنے لگا ہے کہ بے احتیاطی رنگ لائے گی،جبکہ یہ اطلاعات زیادہ تشویشناک ہیں کہ طبی عملے کے متاثرین بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

پہلے ہی یہ اطلاعات تھیں کہ طبی عملہ کم ہے اور ڈیوٹی زیادہ لی جا رہی ہے،اِس لئے جلد ہی ایسا وقت بھی آ جائے گا کہ علاج کرنے والوں کی کمی محسوس ہو گی۔ ایسی صورتِ حال میں بھی تاجر برادری کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کاروبار کی چوبیس گھنٹے کے لئے اجازت دی جائے اور ایس او پیز پر عمل کے ذریعے حالات کو قابو میں رکھا جائے۔اس میں تاجروں نے اپنا بھلا تو سوچ لیا،لیکن یہ غور نہیں کیا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے وقت یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ جو ایس او پیز متعین کئے گئے ہیں ان پر عمل درآمد نہ ہوا تو لاک ڈاؤن پھر سے سخت کر دیا جائے گا،ہدایات نظر انداز بھی ہوئیں اور کورونا کیسز بڑھ بھی گئے،لیکن لاک ڈاؤن میں سختی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔شاید یہ سب فطرت پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ جو ہونا ہے ایک ہی بار ہو جائے۔پھر دیکھ لیا جائے گا۔ ادھر ہم شہری کتنے ذمہ دار ہیں کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے باعث جتنا ناجائز فائدہ اٹھا سکتے تھے،اٹھایا اور مسلسل ایسا کر رہے ہیں، چوبیس گھنٹے کے لئے کاروبار کا مطالبہ کرنے والوں کے پیرو کار حضرات نے یہ اوقات جاری رکھے اور دس بجے تک کی اجازت کو از خود بڑھا لیا اور شٹر آدھے گرا کر کاروبار کرتے رہے، نہ تو تاجروں اور نہ ہی خریداروں نے سماجی فاصلوں اور ماسک کا اہتمام کیا، اس سے حالات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مَیں نے طویل عرصہ کے بعد گزشتہ صبح پورے اہتمام کے ساتھ سیر صبح کی جسارت کی۔ آج (جمعرات) صبح ہوا بھی خوشگوار تھی، اپنے ہی علاقے کی سڑکوں پر مٹر گشت کی۔ کچھ اور لوگ بھی اسی مقصد کے لئے نکلے ہوئے تھے۔تاہم حیرت اس بات پر ہوئی کہ موٹر سائیکلوں اور کار والوں کی آمدو رفت بھی معمول جیسی محسوس ہوئی اور جب سیر کے آخری لمحات پر علاقے کی پارک میں آیا تو پارک کی ابتر حالت دیکھ کر بہت دُکھ ہوا، کہ پارک میں جگہ جگہ شاپرز اور ڈسپوز ایبل فاسٹ فوڈ کے ڈبے بکھرے پڑے تھے۔ پارک کے اردگرد بھی کوڑے کے ڈ ھیر نظر آئے اور دو تین جگہ پر کوڑا جلائے جانے والی باقیات بھی پڑی تھیں اور احساس ہو رہا تھا کہ کثیر تعداد اور مقدار میں کوڑا جلایا گیا ہے۔ ایک دو دوست سیر وا لے بھی مل گئے تو اس صورتِ حال پر دُکھ کا اظہار کیا گیا۔معلوم ہوا کہ پارک کے سامنے فاسٹ فوڈ کی دکانوں والے حضرات نے اوقات کار کی پابندی کو نظر انداز کیا اور شام سے رات بھر دکانداری کی،گھروں سے باہر آنے والوں نے فاسٹ فوڈ کے ساتھ پارک میں بیٹھ کر طبع آزمائی اور پھر شاپر اور ڈسپوزایبل یہیں چھوڑ گئے۔ ابھی ہم یہی بات کر رہے تھے کہ نوجوانوں کی دو سے تین ٹولیاں سامان اٹھائے آئیں اور انہوں نے پارک کے مختلف حصوں کو گراؤنڈ بنا کر کرکٹ کھیلنا شروع کر دی،ان کو منع کرنے والا اور پارک کی صفائی والا کوئی سلسلہ نظر نہیں آیا، کوڑا چننے والے جو کچھ اپنے لئے مناسب سمجھتے وہ اُٹھا کر لے جا رہے تھے اور اتنی ہی صفائی ہوتی ہے۔یوں یہ صورتِ حال معمول کی نشاندہی کر رہی تھی۔

اس کے ساتھ ہی ہمارے درمیان جو گفتگو ہوئی وہ مہنگائی کے حوالے سے بھی تھی۔ ہمارے ایک دین دار ساتھی کہہ رہے تھے کہ حالات توبہ استغفار کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں،لیکن ہم سمجھنے کے لئے تیار نہیں کہ یہ کورونا نشانی ہے اور ہم سب کو عبرت حاصل کرنا چاہئے اور برائیوں سے توبہ کر کے اللہ کی طرف رجوع کر لینا چاہئے،لیکن ایسا نہیں ہو رہا اور لوگ کسر نکال رہے ہیں۔یہ صورتِ حال جاری ہے۔عام لوگوں کی اکثریت کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ سب اب پابندیوں کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ہیں اور یہی پہلو سب سے زیادہ تشویش کا ہے کہ شہری بچوں کے لئے بھی احتیاط نہیں کر رہے اور ہم جیسے جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کا ٹھٹھہ اڑایا جاتا ہے۔ مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے،کیا یہ سب یہ ثابت کر رہے ہیں کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اور یہ سب سختی چاہتے ہیں،جہاں تک سمجھانے کا تعلق ہے تو سرکار نے بہت محنت کی، بڑی تشہیر کی اور جاری ہے، اس میں تجارتی کمپنیوں نے بھی حصہ ڈالا ہے۔

ابھی تک نہ تو کوئی ویکسین اور نہ ہی کسی دوا کا تجربہ کامیاب ہوا اور علاج کے لئے تجویز کی گئی ہے، اس میں کتنا وقت لگتا ہے، کچھ معلوم نہیں، حالات کا تقاضہ کام کاج جاری رکھنے کا ہے،لیکن یہ سب شرائط کے ساتھ ہی ممکن ہے،اِس لئے پھر سے گہرے غور و فکر اور تحقیق کی ضرورت ہے اور نئی تجاویز مرتب کر کے بروئے کار لانا ہوں گی۔ اللہ ہی کرم کرنے والا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -