کرو نا، موت، موت اور پھر صبح دوام زندگی

کرو نا، موت، موت اور پھر صبح دوام زندگی
کرو نا، موت، موت اور پھر صبح دوام زندگی

  

غالب سے گفتگو کا آغاز کرنا میری مجبوری ہے:' درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا' ناک کو بانداز دگر قابو میں لاؤں تو اس راہ میں بھی غالب قندیل لئے کھڑا ہے۔ 'مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں ' موت کا سامنا، موت کے شکنجے میں جکڑے اور موت سے ذرا بالشت بھر کی دوری،موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا، پیام اجل کے قاصد کی چال میں کچھ کجی رہی یا رخش عمر ہی کچھ تیزگام نکلا، پڑھنے کے بعد فیصلہ آپ خود کر لینا، اتنا کہے دیتا ہوں کہ موت کا سامنا، موت سے نمٹنا اور موت کو گود میں لئے لئے پھرتے رہنا کوئی ایک دفعہ کا ذکر نہیں، درجنوں بار کی داستان حیات ہے۔ پس اے ساکنان کوچہ ناپائدار, اسے اس درد سے موسوم کرلیں جو آج کرونائی ہیجان کا روپ دھارے ابن آدم کی روح کولرزا رہا ہے، تو میرے لئے کرونا اب دوا بن چکا ہے، یا غالب ہی کے فر مان آخر کو آپ مشکلوں سے تعبیر کریں تو بھی میرے لئے یہ مشکلیں تب سے آسان سے آسان تر ہو رہی ہیں کہ جب ابھی میری مسیں نہیں بھیگی تھیں۔ بعض احباب شکوہ کناں رہتے ہیں کہ صفحہ قرطاس پر بوجھل الفاظ مت بکھیرا کرو۔ تو یوں سمجھ لیں کہ جب میری داڑھی مونچھیں تیاری کی کسی کڑاہی میں پک رہی تھیں۔ موت، موت اور موت ہی موت۔ چھ الفاظ کا یہ مرکب تیار ہوا تو اقبال آدھمکا: ارے او مفتون سودائی، ارے ناداں! ہر نئے افق کا صفحہ پلٹتے ہی تمہیں موت کسی نئے رنگ میں نظر آجاتی ہے۔ ارے نادان! پہلے ہی افق کے اس پار زندگی پلکیں بچھانے کو تیار اور بانہیں کھولے استقبال کو کھڑی رہتی ہے:

موت کو غافل یہ سمجھے اختتام زندگی

ہے یہ شامِ زندگی صبح دوامِ زندگی

کچی گھان 19 سال کی عمر میں میں نے پہلی دفعہ موت کو دھکے دے دے کر بھگا دیا تھا۔ دن دو بجے کا چلچلاتا جون، ہو کا عالم، سناٹا کہ زندگی شاید کسی اور سیارے کو ہجرت کر گئی ہو۔ تین یا شاید چار نسوانی چیخیں مکان کے پچھواڑے والے در پر دستک دیے بغیر آ دھمکیں۔ آگے میں، پیچھے والد صاحب مرحوم، سب میری قیادت میں کہ میں پہلوٹھی کا ہوں, بھاگتے دوڑتے پچاس گز آگے تقریبا خالی پڑے کنویں کی منڈیر پر کھڑے بے بسی سے ہاتھ مل رہے تھے۔ اگلی چیخیں والد صاحب کی تھیں: رسہ لاؤ، ارے رسہ۔" کسی فرشتے نے حکم کی فوری تعمیل کی، منٹوں میں رسہ آگیا، پتا نہیں کہاں سے۔ مرحوم نے چرغی والی بلی سے رسہ باندھا اور اپنے نسبی اثاثہ جات میں سے پہلے اثاثے کو رسا تھما کر کنویں میں دھکا دے دیا: "جلدی، جلدی اور جلدی" تیسری جلدی سے قبل میں کنویں کی تہہ میں بیٹھا اس نسوانی وجود کے ٹوٹے ہوئے پازو کو سیدھا کر رہا تھا۔ ادھر فرشتہ اجل اس کا دوسرا ہاتھ پکڑے عالم بالا کو پرواز کے لیے تیار تھا پر میں نے کھنڈت ڈال دی۔ کنویں کے باہر گاؤں سب کا سب امنڈ پڑا،بہک اٹھے نین نین اور فرشتہ اجل کھڑے کھڑے غبار دیکھتا رہا۔ تین چار منٹ میں ہم دونوں شہتوتی ٹوکرے میں بیٹھے کنویں سے باہر اوپر کو کھینچے جارہے تھے۔

کوئی سال بعد لیکن اگست میں کہ جب برسات کے باعث کنوؤں کے اوسان خاص بحال ہو چکے ہوتے ہیں، محلے کی مسجد والے پاتال گہرے اور تاریک کنوئیں میں فرشتہ اجل نے ایک دوسرے نسوانی وجود کو بلا لیا۔ اب کی بار مجھ سے قبل میرا ایک ہمجولی کنویں میں اتر چکا تھا۔ گھورگھنگھور اندھیرے میں اترتے ہی وہ حواس باختہ ھو گیا۔ گاؤں والوں نے مجھے دیکھتے ہی نعرہ تکبیر بلند کیا۔ مجھے کنویں میں دھکیل دیا۔ بے ہوش نسوانی وجود کا پیٹ دبا کر اس کا سانس بحال کروں، فرشتہ اجل سے پنجہ آزمائی کروں یا حواس باختہ ساتھی کو حوصلہ دوں۔ پہلے پہل تو فرشتہ اجل نے بچھاڑ کھائی۔ حوا کی بیٹی کو ہوش کیا آیا کہ اس نے راہ فرار اختیار کر لی۔ تین چار منٹ بعد ہم دونوں شہتوتی ٹوکرے میں بیٹھے باہر اوپر کی جانب کھینچے جارہے تھے۔ دونوں لڑکیاں اب اپنی اگلی نسل تک پھیل چکی ہیں۔ فرشتہ اجل کو دونوں دفعہ بے نیل مرام واپس لوٹنا پڑا۔

کوئی نو دس ماہ بعد اگلے مئی جون کی خشک سالی کے شکار اسی کنویں کے پاس سے کیا گزرا کہ فرشتہ اجل منڈیر پر کھڑا مسکرا رہا تھا۔ تین سال کا کسی کا پھول اسی سنگلاخ چٹانی اور پانی سے خالی کنویں میں میرے آتش نمرود میں بذریعہ رسہ کودنے سے قبل بکھر چکا تھا۔ وہی رسا، وہی شہزاد اقبال شام، وہی پاؤں، وہی خارِ مغیلاں اور وہی فرشتہ اجل، اب کی بار اس نے ذرا پہل کر دی۔ بدن روح سے خالی اور ہڈیوں کا ایک ڈھیر سا اپنے دونوں ہاتھوں میں بھرے ہوئے میں خالق کائنات کے دربار میں سوالی بنا گم سم ایک دفعہ پھر باہر کھینچے جانے والے شہتوتی ٹوکرے میں بیٹھا تھا۔ اے رب ذوالجلال اپنی مخلوق کی پھلواری میں سے یہ تمہارا فرشتہ اجل اس کچی کلی کو کیوں نوچ کر لے گیا؟ اب میں کوئی ولی کامل یا پہنچا ہوا بزرگ تو ہوں نہیں کہ یزداں مجھ سے ہم کلام ہوتا رہا کرے۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کیوں دے؟ اس کے آگے سر البتہ جھکا ہے اور جھکا ہی رہے گا۔

سائیں سائیں کرتے جنگل اور چیل کے فلک بوس درختوں کے سائے میں ہم پہلے پہل جوان ہوئے۔ مائل بہ کہولت ہوئے اور اب بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہیں۔ادھر مجیب جابر کے پاؤں میں بلیاں بندھی رہتی ہیں۔ کارگاہ حیات پر جوانی والے بیل بوٹے بنانا تو اب کار دشوار ہے۔ یہ عیاشی اب کم ہو چکی ہے۔ یہی سال میں بس کوئی ایک دو بار۔ لوگوں کے لئے جنگل سائیں سائیں کرتے ہیں تو ہم دونوں کے کان اس سائیں سائیں کو آو آو سنتے ہیں۔ وہی ستر کی دہائی کا کوئی سال کہ جب چلتے چلتے شام کے جھٹ پٹے میں ہم دونوں آزاد پتن جا پہنچے۔ پاؤں جہلم کے پانی میں لٹکائے سنگلاخ چٹانوں پر بیٹھے تھے۔ اکتوبر کا مہینہ کہ جب برساتی نالے امڈ امڈ کر جہلم دریا کو جوان سے نوجوان کر دیتے ہیں۔ اوپر پچھواڑے میں برہمن زادوں نے چٹانوں سے سر پٹختے ان پانیوں کو ابھی کسی بند میں پابجولاں نہیں کیا تھا۔ ازاد پتن پہنچتے پہنچتے خودسر جہلم اتنا گستاخ ہو چکا ہوتا تھا کہ بندوق سے نکلی گولی کی ہمسری کا مدعی بن جایا کرتا تھا۔ آخری چٹان پڑھتے پڑھتے مجیب مجھے گھر سے نکال لایا تھا۔ منگول جنگجو اب اباسین کنارے اس کا تعاقب کرتے کرتے ایک نوکیلی چٹان کے سامنے بے بس ہو گئے تو خوارزم شاہ گھوڑے سمیت دریا پار کر چکا تھا۔ اور اب جہلم کنارے اپنے علامہ اقبال نے نسیم حجازی کو ذرا پیچھے کر کے میرے کان میں سرگوشی کی: 'ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ' ارے تو خوارزم شاہ میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہوئے تھے، ایک گھوڑا ہی زاید تھا ناں اس کے پاس۔

جوتے اتارے، نقدی کاغذات مجیب کو تھمائے اور دو منٹ بعد میں دریا کے دوسرے کنارے کھڑا ہنس رہا تھا۔ فرشتہ اجل سے اب کی بار تیں دفعہ آمنا سامنا ہوا۔ وہ نیک بخت بھی ٹلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا کہ میں نے تیر کر واپس بھی تو آنا تھا۔ ان تین سالوں میں موت سے یہ میرا تیسرا سامنا تھا۔ مقامی روایات کہتی ہیں کہ یہاں سے جہلم دریا آج تک کوئی نہیں پار کر سکا۔

درجن بھر یا متعدد دیگر ایسے واقعات کے لیے ڈیڑھ مرلے کا کالم نہیں، دو ایکڑ پر پھیلی کتاب چاہئے۔ موت سے ا ٓخری بھرپور اور بہت ہی بھرپور سامنا ابھی چند سال قبل ایبٹ آباد سے آگے لیکن مانسہرہ سے پہلے 'نیلے پیر' کے جنگل میں ہوا. میر ے پیر بھائی اسامہ بن لادن والے سانحہ کو ایبٹ آباد میں واقع ہوئے چند ہفتے ہی ہوئے تھے۔ ان ہی دنوں کراچی میں کسی ماں کے ایک 20 سالہ نہتے پھول کو رینجرز نے پتا نہیں کیوں مسل کر رکھ دیا تھا۔ ایبٹ آباد کی حساسیت کے پیش نظر حفاظتی دستے مسلسل گشت پر رہتے تھے۔ گاڑی میں اگلی نشست پر میرے ساتھ ایک باریش نوجوان اور آگے وہی رینجرز والے گشت پر۔ خیال آیا کہ اس نوجوان نے اگر کہیں جمائی لے لی تو یہ محبان وطن اسے منہ چڑانے پر محمول کریں گے۔ پھر بندوق کی گولیاں ہوں گی اور ہم ہیں دوستو۔ رفتار بڑھا کر اپنی گاڑی رینجرز کے آگے کرلی۔ مخالف سمت سے ایک تیز رفتار کار دوسری کار کے ساتھ جڑی آگے نکلنے کو بے تاب۔

بچنے کی کافی کوشش کی، بچ بھی جاتا لیکن اس تند رو لاڈلے نے میری گاڑی کے پچھلے حصے میں ٹکر ماری۔ اگلا بایاں دروازہ کھلا۔ میرا ساتھی سڑک پر گر کر بچ گیا۔ گاڑی پہلے تو پتھر کی طرح 50 فٹ نیچے گری، لاتعداد قلابازیاں کھائیں۔ اوپر مخلوق خدا دم بخود کھڑی کہ اب اس ڈھانچے سے قیمے کا ایک ڈھیر نکالنا پڑے گا۔ گاڑی کو یوں قرار ملا کہ پہیے جانب یزداں اور چھت زمین سے ہمکلام۔ اطمینان سے حفاظتی پیٹی کھولی، تھوڑی سی جدوجہد سے 'دروازہ' کھل ہی گیا. باہر نکلا, کمر پر دونوں ہاتھ رکھے، گاڑی کی طرف دیکھ کر ہلکا سا قہقہہ لگایا۔ جنگل میں کام کرنے والے مزدور دوڑ کر پہنچ چکے تھے ایک نے انگشت شہادت کو اپنی کنپٹی پر رکھ کر دوسروں کو متوجہ کرتے ہوئے اسے دائرے میں گھمایا: " اتنے مہلک حادثے نے موصوف کا دماغ ذرا الٹ دیا ہے ساتھیو ". ایک دفعہ پھر مسکرایا کہ فرشتہ اجل غور سے مجھے دیکھ لے۔ آج تو اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ گاڑی پر ایک نگاہ غلط ڈالی۔ رینجر کی اس اگلی گاڑی کے کھلے دروازے میں شان بے نیازی سے بیٹھ کر اسلام آباد گھر کو روانہ ہوگیا۔ جس عجلت سے مجھے ریسکیو کیا گیا شائد کبھی ٹرمپ کے نصیب میں بھی نہ ہو۔.

فرشتہ اجل کو اللہ حافظ کہہ کر واپس روانہ ہوا تو اس آخری دفعہ کچھ الہامی رہنمائی، کچھ تربیت اور کچھ تجربے کے باعث محرم رازخالق کائنات کا الہامی قول یاد آگیا۔ الصدقہ تدفع البلاء (صدقہ بلا کو ٹال دیتا ہے)۔ سطور آئندہ پڑھنے سے قبل آپ اپنے ذوق کا حقہ پانی تازہ کر لیں۔ ریاکاری سمجھیں یا ترغیبی تبلیغ، ذوق آپ کا ہے، میرا اس پر اجارہ نہیں۔ دو دن قبل ایک بڑے مدرسے میں جانا ہوا تھا۔محرم راز خالق کائنات کے سیکڑوں ننھے منے گدی نشینوں کو لہک لہک کر قرآن پڑھتے دیکھا تو کچھ حال سا طاری ہوگیا۔ لہلہوٹ تو ہو نا ہی تھا۔ جیب میں ایک موٹی سی رقم کسی اور مقصد کے لیے پڑی تھی۔ مہتمم مدرسہ سے درخواست کی کہ ان نو خیز کلیوں کو کسی ایک وقت کا کھانا ذرا کسی اچھے انداز میں کھلا دیں تو عنایت ہوگی۔ 'صدقہ بلا کو ٹال دیتا ہے' ریاکاری یا ترغیبی گستاخی،آپ کی مرضی۔

مجھے دن رات ڈراؤنی کرونائی ویڈیو، آڈیو اور ڈراؤنے مضامین بیچنے والوں اور سیاستدانوں کی کروڑوں اموات کی پیشگوئیاں ارسال کرنے والوں سے التجا ہے کہ مجھے مت ڈرایا کریں۔ کیا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاں۔ آپ میں سے کسی نے خواجہ خضر علیہ السلام کا جھوٹا کھایا ہو، یا آب حیات پی رکھا ہو تو جو مرضی کرے۔ چونکہ ایسا نہیں ہے، اس لیے گزارش ہے کہ کرو نے سے بچاؤ کی خاطر متوازن احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کریں۔ لیکن برج جمشید میں مقیم رہے بھی تو فرشتہ اجل سے نہیں بچ سکتے۔ تو کیا ایسے نہیں ہوسکتا کہ خود اپنے بچاؤ کی خاطر، ان کرونائی بلاؤں سے بچنے کی خاطر اپنی آمدنی کا کوئی طے شدہ حصہ ہم سب صدقہ کر دیا کریں؟ بلائیں تو یقینا دفع ہوں گی، پر یہ سرمایہ کاری ٹغور ارضی سے کہیں ادھر دوسری طرف کی ہے. 'دنیا آخرت کی کھیتی ہے':

عشق کی تقویم میں عصررواں کے سوا

اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام

(برادر نسبتی کی میت کے سرہانے بیٹھے لکھا گیا کالم۔ مرحوم کی مغفرت کے لئے دعاؤں کی درخواست ہے)

مزید :

رائے -کالم -