وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور پنجاب میں گڈ گورننس کا سوال

وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور پنجاب میں گڈ گورننس کا سوال
وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اور پنجاب میں گڈ گورننس کا سوال

  

پنجاب جیسے صوبے کو جو دنیا کے کئی ممالک سے آبادی و رقبے میں بڑا ہے، اچھی گورننس دینا ایک بہت دشوار کام ہے، پھر یہاں کی سیاست، برادری ازم، سرداری نظام، مختلف گروپوں کی اپنے علاقوں میں اجارہ داری پولیس ا ور بیورو کریسی کی اپنی دنیائیں ایسے عوامل ہیں کہ جنہوں نے صوبہ پنجاب کو ہمیشہ ہی سے گورننس کے لئے ایک مشکل خطہ بنا رکھا ہے شہباز شریف کی ہمت تھی کہ وہ دس سال تک اسے چلاتے رہے، وگرنہ یہاں وزرائے اعلیٰ کی مدت کچھ زیادہ عرصے نہیں رہی اب لگتا ہے کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار دوسرے وزیر اعلیٰ ہوں گے جو اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کریں گے، یہ اس لئے ایک بڑی خبر ہے کہ جب انہیں وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا تو سب کا خیال تھا کہ عمران خان نے یہ عارضی بندوبست کیا ہے، اس کے بعد وہ مستقل وزیر اعلیٰ لائیں گے۔ کیونکہ ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے نا تجربہ کار نوجوان کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کا فیصلہ سبھی کے لئے اچنبھے کا باعث تھا۔ پہلے دن سے یہ بحث شروع ہو گئی کہ عمران خان کو اپنا فیصلہ بدلنا چاہئے یا برقرار رکھنا چاہئے۔

اُن بے معنی کے دخول میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کئی سچ بولے، مثلاً انہوں نے میڈیا کے سامنے تسلیم کیا کہ وہ نئے نئے ہیں جلد ہی سیکھ جائیں گے۔ ان کی اس بات پر بھی میڈیا اور اپوزیشن نے بہت تنقید کی کہ صوبے کو ایک ایسے شخص کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جو ابھی سیکھنے کے مراحل میں ہے۔ یہ وہ دن تھے جب یہ لگتا تھا کہ صوبے کا وزیر اعلیٰ آج تبدیل ہوا یا کل۔ داد دینی چاہئے وزیر اعظم عمران خان کو کہ انہوں نے ایک لمحے کے لئے بھی یہ تاثر نہیں دیا کہ وہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے خوش نہیں یا انہیں تبدیل کرنے کا سوچ رہے ہیں، بلکہ ہمیشہ یہی کہا عثمان بزدار ایک بہترین وزیر اعلیٰ ثابت ہوں گے انہی دنوں انہوں نے عثمان بزدار کے لئے وسیم اکرم پلس کی اصطلاح بھی استعمال کی جس کا بعد ازاں کافی مذاق اڑایا جاتا رہا۔

آج یہ ساری باتیں خواب و خیال لگتی ہیں خود عثمان بزدار بھی ان کے بارے میں سوچتے ہوں گے تو حیرت زدہ رہ جاتے ہوں گے کہ انہوں نے کیسے تجربے کے بغیر اتنے بڑے صوبے کی کمان سنبھالی اور آگے بڑھتے رہے۔ جب کسی حکمران کے بارے میں تاثر موجود ہو کہ وہ آج گیا یا کل تو اس کی سرکاری مشینری پر گرفت کمزور ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی مہینوں میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو بیورو کریسی نے زیادہ سنجیدہ نہیں لیا من مانیاں کی گئیں حتیٰ کہ احتجاج تک کی نوبت بھی آ گئی۔ اس وقت پنجاب کے بارے میں یہ تاثر عام تھا کہ اس میں قانون نام کی کوئی شے موجود نہیں رہی اور پولیس و بیورو کریسی اپنی مرضی و مفاد کے مطابق کام کر رہی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب عثمان بزدار کے بارے میں اپوزیشن نے یہ کہنا شروع کیا کہ جو وزیر اعلیٰ سمری پڑھ نہیں سکتا وہ صوبہ کیسے چلائے گا۔ لیکن یہ سارے سرد و گرم دن عثمان بزدار گزار گئے، وزیر اعظم عمران خان نے ا ن کی پیٹھ پر تھپکی دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔ پھر ایک دن ایسا بھی آیا جب یہ کہا جانے لگا کہ عثمان بزدار کی خواہش پر پنجاب کے آئی جی تبدیل کئے جا رہے ہیں، بات آگے بڑھی تو چیف سکریٹری بھی عثمان بزدار کی وجہ سے تبدیل کرنے کی باتیں کی گئیں گویا یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ پنجاب میں اب عثمان بزدار کی اتھارٹی کو تسلیم کر لیا گیا ہے اس کا پیغام نچلی سطح تک گیا اور آج کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ عثمان بزدار کی صوبے کے معاملات پر گرفت نہیں اور اسے پنجاب کا چیف سکریٹری یا آئی جی چلا رہا ہے۔

آج یہ باتیں اس خبر کے تناظر میں یاد آئیں کہ پنجاب میں عنقریب وزیر اعلیٰ عثمان بزدار بڑی تبدیلیاں لانے والے ہیں کئی صوبائی وزراء کی چھٹی ہو جائے گی ا ور کئی ایک کے قلمدان تبدیل کر دیئے جائیں گے جبکہ سکریٹریز اور کمشنر و ڈپٹی کمشنروں کے تبادلے بھی بڑی تعداد میں کئے جا رہے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ عثمان بزدار اب اپنی وزارتِ اعلیٰ کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے جا رہے ہیں یہ کام اس وقت کوئی وزیر اعلیٰ کرتا ہے جب خود کو مضبوط و محفوظ سمجھے، وگرنہ کمزور وزیر اعلیٰ کی کوشش تو یہ ہوتی ہے کہ معاملات جس طرح چل رہے ہیں چلتے رہیں، اس کے اقتدار کو کوئی نہ چھیڑے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب کو آج بھی گڈ گورننس کی اشد ضرورت ہے۔ بیورو کریسی و پولیس ابھی تک عوام کو وہ تاثر نہیں دے سکیں جو گڈ گورننس کی وجہ سے ملتا ہے عوام کے ساتھ من مانیاں اور زیادتیاں آج بھی جاری ہیں اور دھوکہ دہی کے سلسلے وہی ماضی والے ہیں، اس کی ایک حالیہ مثال ملتان میں نظر آئی، جب وزیر اعلیٰ عثمان بزدار عید کی چھٹیوں میں اپنے گھر ملتان آئے۔

انتظامیہ نے وہ تمام سڑکیں چمکا دیں جو ان کے راستے میں آتی تھیں، دوسری طرف شہر گندگی میں اٹا رہا کسی نے توجہ دینے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی سوشل میڈیا پر لوگوں کی طرف سے ایسی بے شمار پوسٹیں کی گئیں جن میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے کہا گیا کہ وہ جب ملتان آتے ہیں تو اپنے روٹ کے علاوہ شہر کے دیگر علاقوں کا بھی اچانک دورہ کیا کریں تاکہ انہیں اندازہ ہو کہ ضلعی انتظامیہ، واسا اور ویسٹ مینجمنٹ والے کس طرح ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر انہیں ہرا ہی ہرا دکھاتے ہیں۔ عثمان بزدار کو اب عوامی وزیر اعلیٰ کا انداز اختیار کرنا چاہئے۔ انتظامیہ اور پولیس انہیں چالیس چالیس گاڑیوں کے پروٹوکول میں اس لئے لے جاتی ہے کہ وہ اس حقیقت کو نہ جان لیں جو عوام کے مسائل اور محرومیوں سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ کبھی کبھار خود ہی گاڑی چلاتے ہوئے، شہروں میں نکلا کریں تاکہ عوام سے ان کا براہ راست تعلق استوار ہو سکے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ بری کارکردگی کی وجہ سے بعض وزرا، کو فارغ کرنے والے ہیں تو یہ بڑی خوش آئند بات ہے حقیقت یہ ہے کہ اتنی بھاری بھرکم کابینہ میں کئی وزیر تو ایسے ہیں کہ جن کا عوام نے آج تک نام تک نہیں سنا وہ کبھی عوام میں نظر آتے ہیں اور نہ انہوں نے اپنے محکمے کے حوالے سے کوئی ایسا کام کیا ہے، جو عوام کی نظر میں قابلِ ستائش ہو۔ صرف جھنڈے والی گاڑی اور پروٹوکول کے مزے لوٹنے والے وزراء کی چھانٹی وقت کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ گڈ گورننس دینا صرف وزیر اعلیٰ کا کام ہے، حالانکہ مختلف وزارتیں جب باہم مل کر اچھا کام کرتی ہیں تو گڈ گورننس پیدا ہوتی ہے۔ تقریباً ہر صوبائی محکمہ عوامی اہمیت کا حامل ہے اگر وہ درست کام نہیں کر رہا تو یقیناً اس کا اثر عوام پر پڑتا ہے۔ سکریٹریوں اور کمشنروں کی تبدیلی بھی عوامی نقطہ نظر سے ہونی چاہئے۔ حکومت کے پاس اسپیشل برانچ، آئی بی ا ور دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹیں موجود ہوتی ہیں انہیں سامنے رکھ کر افسران کی تعیناتی کی جانی چاہئے اور یہ سب کچھ خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے عثمان بزدار اب اس پوزیشن میں ہیں کہ پنجاب کو گڈ گورننس کی ایک مثال بنا سکتے ہیں

ان کی صوبے پر گرفت خاصی مضبوط ہو چکی ہے اور سب اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں کہ جب تک پی ٹی آئی کی حکومت ہے پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار رہیں گے اب انہیں ساری توجہ عوام کو انتظامی و معاشی لحاظ سے ریلیف دینے پر صرف کرنی چاہئے۔ دیکھنے میں آیا ہے بیورو کریسی صرف کاغذوں کی حد تک احکامات مانتی ہے، حقیقت میں وزیر آعلیٰ آفس کے جاری کردہ کسی حکم پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا جاتا اس سلسلے میں مصنوعی مہنگائی کے خلاف احکامات کی بے توقیری کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ صرف کاغذی رپورٹیں وزیر اعلیٰ آفس کو بھجوا کر کام چلایا جا رہا ہے۔ عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب اگر گڈ گورننس کا عملی نمونہ بن جاتا ہے تو یہ ایک طرف وزیر اعظم عمران خان کے انتخاب کو درست ثابت کرے گا تو دوسری طرف عثمان بزدار کا نام بھی پنجاب کی تاریخ کے اچھے حکمرانوں میں لکھا جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -