پاکستان نے انڈیا کا کواڈ کاپٹر مار گرایا!

پاکستان نے انڈیا کا کواڈ کاپٹر مار گرایا!
پاکستان نے انڈیا کا کواڈ کاپٹر مار گرایا!

  

کل بعد دوپہر یوں سمجھئے کہ عادتاً یا پھر ارتجالاً ٹیلی ویژن کا ریموٹ پکڑا اوربٹن دبا دیا۔ حسبِ معمول ایک نیوز بریک چل رہی تھی اور سکرین کے دائیں طرف ایک چوکھٹے میں آئی ایس پی آر سے جاری ہونے والی ایک خبر کا یہ متن تحریر تھا: ”پاکستان نے انڈیا کا ایک کواڈ کاپٹر ایل او سی پر مار گرایا۔یہ کواڈ کاپٹر رکھ چکری سیکٹر میں مار گرایا گیا۔ یہ ڈرون پاکستانی سرحد سے 650میٹر اندر آ گیا تھا!“…… ساتھ ہی سکرین پر سفید رنگ کا وہ کواڈ کاپٹر بھی ایک سرسبز لہلہاتے کھیت میں پڑا تھا جس کا ایک پَر ٹوٹا ہوا تھا۔ ٹی وی تھا کہ بار بار اس تصویر کو دکھائے جا رہا تھا۔ ساتھ ساتھ نسوانی آواز میں ایک اینکر اس پر تبصرہ کر رہی تھی اور وہی عبارت بار بار دہرائے جا رہی تھی جو چوکھٹے میں درج تھی اور جسے ISPR کی طرف سے جاری فرمایا گیا تھا۔ معاً اینکر موصوفہ نے رکھ چکری میں موجود اپنے نمائندے کا نام لیا اور سوال کیا: ”سلیم صاحب!آپ اس وقت رکھ چکری میں موجود ہیں۔ بتایئے یہ سارا ماجرا کیا ہے اور یہ کواڈ کاپٹر پاکستانی حدود میں کیا کر رہا تھا؟“…… اس طرح کے لوڈڈ سوالات اگر کسی اور ملک کے میڈیا پر کسی ٹی وی چینل پر کئے جائیں تو لوگ از راہِ کراہت اسے دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔ لیکن ہم پاکستانیوں نے دفاعی موضوعات و معاملات پر پبلک کو ایجوکیٹ اور انفارم کرنے کا جو ”مشن“ سنبھالا ہوا ہے اس کی روشنی میں اس خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر چلاتے ہیں اور شیر آیا، شیر آیا، دوڑنا کا نعرہ لگانے میں اپنا جواب نہیں رکھتے…… رکھ چکری کا وہ رپورٹر جب وہی فقرہ بار بار دہراتا ہے جو سکرین پر پہلے ہی آویزاں ہے اور ساتھ ہی یہ ”تجزیاتی اضافہ“ بھی کرتا ہے کہ اس ڈرون کا اصل مقصد پاکستانی علاقے کی جاسوسی تھی اور اس مشن کی تکمیل کے لئے انڈیا نے اپنا یہ کواڈ کاپٹر پاکستانی علاقے میں بھیجا جو 650میٹر پاکستانی سرحد کے اندر آیا لیکن ہماری مسلح اور دلیر افواج نے اس کو مار گرایا…… اللہ اللہ خیر سلّا!

یہ خبر ابھی سکرین پر چل ہی رہی تھی کہ پروڈیوسر صاحب نے ایک ”دفاعی تجزیہ نگار“ بریگیڈ الف کا نام اینکر صاحبہ کو دیا اور ساتھ ہی بریگیڈیئر موصوف کی تصویر بھی سکرین پر لگا دی۔بریگیڈیئر الف نے اپنے ”پروفیشنل علم و فضل“ کو کام میں لاتے ہوئے وضاحت کی کہ انڈیا ایک عرصے سے پاکستان کے ان علاقوں کی ریکی کر رہا ہے جو ایل او سی پر واقع ہیں لیکن پاکستان ہر بار انڈیا کی یہ کوشش ناکام کر رہا ہے۔ یہ انڈین کواڈ کاپٹر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔ رکھ چکری کی مقامی آبادی کو ہوشیار رہنا ہوگا اور اپنی حفاظت کا بندوبست کرنا ہو گا، وغیرہ وغیرہ…… اس کے بعد پروڈیوسر صاحب ایک اور بریگیڈیئر صاحب کو سکرین پر لاتے ہیں اور وہی اینکر موصوفہ ان سے بھی وہی سوال کرتی ہیں جو اس سے پہلے بریگیڈیئر الف سے کر چکی ہوتی ہیں۔ بریگیڈب بھی ناظرین و سامعین کی معلومات میں کوئی مزید اضافہ نہیں کرتے۔ البتہ یہ فرماتے ہیں کہ پچھلے تین چار دنوں سے چین اور بھارت کی افواج میں مشرقی لداخ اور سکم کے علاقے میں جو سٹینڈ آف چل رہا ہے، یہ اس کا شاخسانہ ہے۔ انڈیا، پاکستان کو دباؤ میں لانا چاہتا ہے اور اس طرح کے ڈرون بھیج کر ایل او سی کی جاسوسی پر کمربستہ ہے۔ ہم ان شاء اللہ انڈیا کے ان ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں گے اور اگر اس نے گزشتہ برس 27فروری کی طرح کی کوئی حماقت کی تو اس کا انجام بھی وہی ہوگا جو بھارتی فضائیہ کا ہوا تھا، وغیرہ وغیرہ ……ان دونوں ریٹائرڈ بریگیڈیئر صاحبان کی تصاویر سکرین کے زیریں حصے میں دائیں بائیں لگی ہوئی ہیں اور ان کے نام بھی لکھے ہوئے ہیں۔

پاکستانی پبلک نہ صرف ان ناموں سے ایک حد تک آشنا ہے بلکہ ان کے ساتھ آج کل نصف درجن دوسرے بریگیڈیئر صاحبان بھی اسی طرح پاکستانی عوام کو دفاعی امور پر بھرپور جانکاری دیئے جا رہے ہیں …… مجھے اپنے سینئر فوجی افسروں کی اس درجہ ارزانی سے ندامت سی محسوس ہونے لگتی ہے اور میں ریموٹ کا بٹن دبا کر چینل تبدیل کر دیتا ہوں …… لیکن کیا آپ باور کریں گے کہ یہی بریگیڈیئر الف اس چینل پر بھی بمعہ تصویر موجود ہوتے ہیں اور فون پر اینکر کو اپنے ”دفاعی تجزیئے“ سے سرشار کر رہے ہوتے ہیں۔ (میں یہ بات ازراہِ مبالغہ نہیں لکھ رہا۔ خدا کی قسم! اس میں ذرہ بھر مبالغہ نہیں)…… پھر اگلے ہی لمحے اس چینل پر ایک ٹِکر چلنا شروع ہو جاتا ہے جس کی عبارت یہ ہوتی ہے: ”چین کے بعد پاکستان کا بھی بھارت کو منہ توڑ جواب……“ اوپر جب سکرین پر ننھے سے ڈرون کی تصویر لگی ہو اور ساتھ ہی دو بریگیڈیئر صاحبان کی تصاویر بھی تجزیئے پیش کر رہی ہوں تو ایسے میں پروڈیوسر کے سٹرٹیجک ڈیفنس ویژن کا اندازہ کیجئے کہ وہ بطور ٹِکر جو فقرہ سکرین کی زینت بنا رہے ہیں اس کا مفہوم کس کینڈے کا ہے!

اور جن چینلوں کا ذکر کر رہا ہوں، ان کی سرکار دربار میں وسیع پذیرائی اور رسائی ہے۔ جس پروڈیوسر یا کسی دوسرے عہدیدار نے اس ٹکر کی عبارت آرائی کی ہو گی اس کی عقل و دانش کا ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے…… چین اور بھارت کے مابین جو سٹینڈ آف چل رہا ہے اور جس کی خبریں ہمارے ٹی وی چینلوں پر چلائی جا رہی ہیں ان میں وہی غلو، وہی مبالغہ آرائی اور وہی جذباتی شدت ہے جو کم فہم اقوام کی عامتہ الناس کا شیوہ ہے…… یہ سٹینڈ آف کیا ہے، اس کی تفصیل کیا ہے، بھارت پاکستان کے آرمی چیف کے بیان کو توڑ مروڑ کر کس طرح پیش کر رہا ہے، لداخ کہاں ہے، دونوں اطراف کے کتنے ٹروپس اس سٹینڈ آف میں ملوث ہیں، چین نے 250بھارتی ٹروپس کو گرفتار کرکے کیوں چھوڑ دیا،چین کی پیپلزلبریشن آرمی (PLA) لداخ کے اس علاقے میں کتنے اور کون کون سے ٹینک لا چکی ہے، بھارت اس علاقے میں کون کون سی سڑکیں تعمیر کر رہا ہے، 1962ء کی چین بھارت جنگ والی نہرو کی فارورڈ پالیسی کو اب مودی وہی رنگ کیوں دے رہا ہے، کیا اکتوبر 1962ء والی انڈو چائنا وار ایک بار پھر انہی علاقوں میں دہرائی جائے گی، عیدالفطر کے موقع پر ہمارے آرمی چیف نے لائن آف کنٹرول پر جا کر ٹروپس کے ساتھ جو عید منائی اور اپنے ساتھ اس بار ایک ٹی وی ٹیم بھی ساتھ لے گئے تو کیوں ایسا کیا، اس سے پہلے ایسا نہ کرنے اور اس بار کرنے کا سبب کیا تھا، جو کچھ آرمی چیف نے کہا اس کا ایک فقرہ یہ بھی تھا کہ ”کشمیر کی متنازعہ حیثیت میں تبدیلی کی ہر کوشش کا قومی عزم اور ’فوجی طاقت‘ سے جواب دیا جائے گا“ تو اس فقرے کا پس منظر کیا تھا،

کیا اس کا کوئی تعلق لداخ میں انڈو چائنا سٹینڈ آف سے بھی تھا اور مودی اپنی دفاعی کابینہ (وزیر دفاع، چیف آف ڈیفنس سٹاف، نیشنل سیکیورٹی کے مشیر اور سروسز چیفس) کے ساتھ جو مشاورت کرتا رہا ہے، اس کا کیا نتیجہ نکلا ہے یا آئندہ نکلنے کے امکانات ہیں، 5اگست 2019ء کو انڈیا نے کشمیر کی جو آئینی حیثیت تبدیل کی اور جس طرح مظلوم کشمیریوں پر عرصہ ء حیات تنگ کیا اس کے خلاف پاکستان نے جو واویلا مچایا، ہمارے وزیراعظم نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں اس دریدہ دہنی کو انڈو پاک نیو کلیئر وار کا جو پیش خیمہ بتایا، کیا اس کی حساسیت اور نزاکت کا ادراک کیا گیا یا نہیں کیا گیا، اس آئینی حیثیت کی تنسیخ میں لداخ کا وہ علاقہ جو انڈیا اور چائنا کے درمیان متنازعہ تھا اس پر اب PLA کی جانب سے قبضہ کر لیا گیا ہے یا نہیں، وادی ء گالوان کہاں ہے، کیا ہمارے کسی چینل نے اس ایریا کا خاکہ اپنی خبروں میں دکھایا، کوئی نقشہ سکرین پر ابھارا گیا، سکم بارڈر پر 5000مزید چینی ٹروپس کی صف بندی کی کوئی تفصیل ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر دی گئی؟؟؟ قارئین محترم! مجھے نہیں معلوم کہ ان ڈھیر سارے استفسارات کا جواب اثبات میں ہے یا نفی میں …… ایسے میں چین کے اتنے بڑے ایکشن کو پاکستان کی طرف سے ایک چھوٹے سے کواڈ کاپٹر گرائے جانے کے مماثل قرار دینا کہاں کا پروفیشنل ازم ہے؟ اور میں ایک بار پھر اس ٹکر کی عبارت نقل کرکے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا چینی اور پاکستانی ایکشن برابر ہیں؟…… کیا ان میں مساوات کا کوئی شائبہ بھی موجود ہے؟…… میں اس چینل کی انتظامیہ سے بھی سوال کرتا ہوں کہ کیا ایسا کرنا ایک قومی ابلاغی ادارے کی Rating کے شایانِ شان ہے؟

پاکستان آرمی میں بریگیڈیئر ایک بڑا رینک ہے۔ اسے ”ون سٹار جنرل“ بھی کہا جاتا ہے۔ کیا اس رینک کی تکریم کا تقاضا یہ نہیں کہ اگر کوئی ٹی وی چینل اس قسم کے معمولی واقعہ پر تبصرہ کرنے کے لئے آپ کو آواز دے تو آپ انکار کردیں۔ ایک دفعہ ایسا کریں گے تو وہ دوسری دفعہ آپ کو اس قسم کی سستی شہرت کا طلبگار نہیں گردانیں گے۔ مولانا حالی یاد آ رہے ہیں:

کرو دوستو پہلے آپ اپنی عزت

جو چاہو کریں لوگ عزت زیادہ

ISPR والے بھی بادشاہ لوگ ہیں …… یہ تصویر اور خبر جاری کرکے ان کا مقصد یہی تھا ناں کہ انڈیا کی طرف سے اپنے علاقے کی ”جاسوسی“ کی خبر پاکستانی پبلک کو دی جائے۔ لیکن جو ڈرون صرف 600میٹر سرحد پار کرنے کے بعد گرا لیا جاتا ہے، اس کو زیادہ اہمیت دینے کی کیا ضرورت ہے؟…… یہ تو انڈیا والی بات ہوئی…… انہوں نے دو تین روز پہلے پاکستان کا ایک جاسوس کبوتر پکڑا ہوا ہے۔ اس کو پنجرے میں بند کرکے پہلے پولیس اور پھر نیم عسکری تنظیم کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس کے پاؤں میں ایک ”چھلّا“ بھی بتایا جاتا ہے اور ایک کوڈ نمبر بھی ایک پرچی پر لکھا ہوا ملا ہے…… سارا انڈین میڈیا پاگل ہو کر اس ”جاسوس کبوتر“ کے کیس کو کلبھوشن کی گرفتاری کے مماثل سمجھ رہا ہے:

بسوخت عقل ز حیرت کہ ایں چہ بوالجبی است

اسی طرح انڈیا کا ایک مونچھوں والا جرنیل بھی آج کل سستی خبروں کا موضوع ہے۔ میجر جنرل (ر) GDبخشی نے اپنی 6انچ لمبی مونچھ ایک طرف سے کُتر کر لداخ میں اپنی فوج کی بے عزتی اور پسپائی کا ماتم کیا ہے۔ اس جرنیل کو میں نے کئی دفعہ انڈین ٹی وی چینلوں پر بزعمِ خود پاکستان Bashingکرتے ہوئے سنا ہے…… مجھے معلوم تھا کہ یہ انڈین ملٹری فلم انڈسٹری کا سلطان راہی ہے۔ اصل پولیس فورس سے جس روز پالا پڑا اس کی مونچھ اور جان دونوں چلی جائیں گی!

مزید :

رائے -کالم -