ایف آئی آر کو سیل کرنے کا کوئی قانون موجود نہیں،جسٹس انوارالحق

ایف آئی آر کو سیل کرنے کا کوئی قانون موجود نہیں،جسٹس انوارالحق

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے پولیس حراست سے دوافراد کی بازیابی کے معاملے پرآئی جی پولیس پنجاب کو دو ماہ میں انکوائری کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹادی۔جسٹس انوارالحق پنوں نے نویدہ حفیظ کی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ ایف آئی آر کو سیل کرنے کاکوئی قانون موجود نہیں،سماعت کے موقع پر ایس پی لیگل گوجرانوالہ غلام حسین،ایس پی فدا حسین سمیت دیگرپولیس افسران نے عدالت کوآگاہ کیا کہ ڈی پی او نارووال ذوالفقاراحمد چارروز سے قرنطینہ میں ہیں جبکہ دونوں افراد پولیس حراست میں نہیں ہیں۔عدالت نے کہا کہ بتائیں کس قانون کے تحت درج مقدمات کی ایف آرزکو سیل کیا گیا؟بظاہرلگتا ہے کہ پولیس کی جمع کرائی گئی رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ یہاں عدالت آکرکہاجاتا ہے بندہ ان کی حراست میں نہیں،پھر گرفتاری ڈال دی جاتی ہے،درخواست گزار کے وکیل منیرحسین بھٹی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نارووال علاقہ غیربنا ہوا ہے، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ محمد نواز نے ڈی پی او ناروال کیخلاف پریس کانفرنس کی جس میں ڈی پی او پررشوت طلب کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ جس کے بعدڈی پی او نارووال کے ایما ء پر پولیس نے محمد نواز اوردرخواست گزار خاتون کے خاوند حفیظ الرحمن کواٹھا لیا،پولیس نے محمد نواز اورحفیظ الرحمن کوغیرقانونی میں حراست میں رکھا ہوا ہے،درخواست گزارنے استدعا کی کہ پولیس کودونوں افرادکوبازیاب کرکے پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔

بندہ زیر حراست

مزید :

صفحہ آخر -