پاکستان میں خرچ میں مہنگی گنے کی فصل کو عرو ج، کپاس اور دیگر اجناس کی قلت

      پاکستان میں خرچ میں مہنگی گنے کی فصل کو عرو ج، کپاس اور دیگر اجناس کی قلت

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)ایک تخمینے کے مطابق صرف ایک کلو چینی تیاری میں تقریباً 45 ہزار لیٹر پانی خرچ ہوتا ہے لیکن پانی کے شدید بحران کے خطرے سے دوچار پاکستان میں عام فصلوں کے مقابلے میں کئی گنا زائد پانی استعمال والی گنے کی فصل کی کاشت ترجیح حاصل کر چکی ہے۔زرعی ممالک عموماً پانچ، دس اور 20 سالہ زرعی منصوبہ بندی کے ساتھ چلتے ہیں جبکہ پاکستان میں 70 کی دہائی کے بعد کوئی بڑا ڈیم نہیں بنا جس کی وجہ سے کبھی سیلاب میں قیمتی پانی ضائع ہوتا ہے تو کبھی خشک سالی میں بوند بوند کو ترسایا جاتا ہے۔2025 میں ملک کے شدید ترین پانی کمی کے خطوں میں شمار کی وارننگز کے باوجود پاکستان میں کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور اب بھی کئی گنا زائد پانی استعمال اور متبادل فصلوں کے مقابلے زائد وقت یعنی اوسطاً 14 ماہ لینے والی گنے کی فصل کو غیر اعلانیہ فوقیت حاصل ہے۔پاکستان میں کپاس کی فصل مختلف وجوہات اور عدم توجہ کے سبب اتنی متاثر ہوئی ہے کہ روان سال پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر اربوں ڈالرز کی کپاس درآمدکرے گا۔ایک تحقیق کے مطابق ایک ٹن گنے میں 4 ہزار کیوبک میٹر پانی لگتا ہے اور اگر 12 کلو گنے سے ایک کلو چینی کا حساب لیں تو تقریباً 45 ہزار لیٹرز پانی سے ایک کلو چینی تیار ہوتی ہے۔وزارت آبپاشی، واپڈا اور دیگر خرچوں کے ساتھ اگر پانی کا کم ترین خرچ یعنی صرف آدھا پیسہ فی لیٹر سے حساب لیں تو ایک کلو چینی پر پانی کا خرچ 225 روپے بنتا ہے۔اس دوران کئی ارب روپے سبسڈی کے ساتھ عوام سے مذاق یہ کہ پاکستان میں چینی کی قیمت عالمی منڈی میں چینی کی قیمت 62 روپے کلو سے کہیں زائد ہے۔دوگنا پانی استعمال کرنے کے باوجود پاکستان کی فی ہیکٹر پیداوار صرف 52 ٹن جبکہ دیگر ملکوں میں اس سے کہیں زائد ہے۔پاکستان میں شوگر مافیا کی لاڈلی فصل خوب پھل پھول رہی ہے جبکہ ناسا سیٹلائیٹ ایمیج سے ظاہر ہے کہ دریائے سندھ کے ساتھ بہت زیادہ زیر زمین پانی نکلنے سے زیر زمین پانی کی قلت والے خطے میں پاکستان شامل ہوچکا ہے۔کپاس پیداوار سے اربوں ڈالرز ایکسپورٹ میں مدد اور پانی بچت، سورج مکھی سے اربوں ڈالرز امپورٹ بل کم ہونے کی امید کے باوجود گنے کی کاشت اب بھی ترجیح ہے۔

گنا فصل

مزید :

صفحہ آخر -