بھارت نے حملہ کیا تو پاکستان اپنے دفاع کیلئے تمام آپشنز بروئے کار لائیگا: رفیق تارڑ

    بھارت نے حملہ کیا تو پاکستان اپنے دفاع کیلئے تمام آپشنز بروئے کار لائیگا: ...

  

لاہور(لیڈی رپورٹر) تحریک پاکستان کے مخلص کارکن،سابق صدر مملکت اور چیئرمین نظریہئ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے کہا ہے کہ یوم تکبیر پاکستانی قوم کیلئے یومِ فخر ہے کیونکہ اس دن ہم نے دنیا کو باور کرا دیا تھا کہ ہم ایک غیرت مند قوم ہیں جو باعزت طریقے سے سراٹھا کر زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں، 28مئی 1998ء کووزیراعظم میاں نواز شریف نے امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے شدید دباؤ اور ترغیبات کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھ کر بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ ایٹمی دھماکے کر ڈالے اور یوں پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہونے کا اعزاز حاصل ہو گیا۔ 28 مئی 1998ء کو بھارت پر انتہا پسند ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت تھی اور اب بھی اسی جماعت کا ایک مسلمان دشمن اور تشدد پسند رہنما برسراقتدار ہے۔جس کی سیاست کا محور و مرکز مسلمان دشمنی ہے تاہم پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کو دو ٹوک الفاظ میں اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو باور کرا دینا چاہئے کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا تو ملکی دفاع کے لیے ایٹمی ہتھیاروں سمیت تمام آپشنز بروئے کار لائے جائیں گے اور اس جارحیت کے بھیانک نتائج کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہو گی۔ نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام ”یوم تکبیر“کے موقع پر منعقدہ خصوصی آن لائن تقریب کی کارروائی نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے فیس بک پیج اور یو ٹیوب چینل پر دکھائی گئی۔ تقریب کاباقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک‘ نعت رسول مقبولؐ اور قومی ترانہ سے ہوا۔قاری خالد محمودنے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ الحاج اختر حسین قریشی نے بارگاہِ رسالت مآبؐ میں نذرانہئ عقیدت پیش کیا۔ آن لائن تقریب کی نظامت کے فرائض نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے انجام دئیے۔چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ 1998ء میں آج کے دن پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے اپنے ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کیا۔ پاکستان کو طاقت کا توازن برقرار رکھنے، انڈیا کے جارحانہ عزائم کو لگام دینے اور اپنی قوت کو آشکار کرنے کیلئے ایٹمی دھماکے کرنا پڑے۔ وزیراعظم نواز شریف نے تمام تر دباؤ کے باوجود ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام 1970ء کی دہائی میں شروع ہوا۔ذوالفقار علی بھٹو نے اس پروگرام کی بنیاد رکھی جنرل ضیاء الحق نے اسے آگے بڑھایابلکہ پایہ تکمیل تک پہنچایا اور وزیراعظم نواز شریف نے اس کا اعلان کر کے پاکستان کی دھاک بٹھا دی۔1999ء میں جب یہ دن قومی سطح پر منانے کا فیصلہ ہوا تو پھر یہ بھی سوچا گیا کہ اس کا کوئی نام بھی تجویز ہونا چاہئے جوقوم کی امنگوں ا ور آرزوؤں کے مطابق ہو۔ میری سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی، ہم نے عوام سے رائے لی، ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے کئی نام تجویز کئے۔ بالآخر یوم تکبیر نام رکھا گیا۔ہم پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت، انجینئرز، سائنسدانوں، ڈاکٹر عبدالقدیر سمیت سب کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ایٹمی دھماکوں سے ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا اور کوئی ہماری طرف میلی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔یہ دن پیغام دے رہا ہے کہ پاکستانی قوم متحد ہو، اس کے ادارے یکسو ہوں، اس کی قیادت فوجی ہو یا سیاسی، جب مشترکہ عزم کر لے تو پھر اس کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔اور وہ تمام مشکلات سر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سابق جج سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان نے کہا کہ 28 مئی 1998ء کا دن ہماری سلامتی‘ دفاع اور قومی وقارو افتخار کی علامت کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا بڑا عظیم دن ہے۔ اس دن واقعی پاکستان کی تقدیر اور قومی سلامتی کا سب سے بڑا فیصلہ ہوا تھا۔ چیف ایڈیٹر روزنامہ صحافت خوشنود علی خان نے کہا کہ بھارت ہمارے ایٹمی پروگرام سے خوفزدہ ہے، وہ بڑھکیں مار سکتے ہیں لیکن انہیں معلوم ہے کہ پاکستان عملی طور پر اسے استعمال کر سکتا ہے۔ گروپ ایگزیکٹو ایڈیٹر روزنامہ دنیاسلمان غنی نے کہا کہ جب ہم یومِ تکبیر کی بات کرتے ہیں تو یہ ہمارے لئے یومِ عزم ہے اورہم عہد کرتے ہیں کہ اپنی آزادی‘ خود مختاری‘ عزت اور وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ چیف نیوز ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت دلاور چودھری اورشاہد رشید نے تقریب سے خطاب کیا۔

رفیق تارڑ

مزید :

صفحہ آخر -