حکومت کا ملک میں اب تک تمام طیارہ حادثات کی رپورٹس پبلک کرنے کافیصلہ، کرا چی میں تباہ جہاز کا کاک پٹ وائس ریکارڈ مل گیا، ڈیٹا فرانس میں ڈیکوڈ ہو گا

حکومت کا ملک میں اب تک تمام طیارہ حادثات کی رپورٹس پبلک کرنے کافیصلہ، کرا چی ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے ملک میں ماضی سے اب تک ہونیوالے تمام طیارہ حادثات کی تحقیقاتی رپورٹ کو پبلک کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت کراچی طیارہ حادثہ پر اہم اجلاس ہوا جس میں عمران خان کو طیارہ حادثہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پر بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم نے کراچی طیارہ حادثہ کی تحقیقات جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے سول ایوی ایشن حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ماضی میں کسی طیارہ حادثہ تحقیقاتی رپور ٹ کو پبلک کیوں نہیں کیا گیا، جن کے پیارے جاں بحق ہوئے ان کو وجوہات جاننے کا حق ہے، پی ٹی آئی حکومت شفافیت پر یقین رکھتی ہے، طیارہ حادثات کو کئی سال گزر گئے مگر تحقیقاتی رپورٹس سامنے کیوں نہیں آئیں، تمام طیارہ حادثات کی تحقیقاتی رپورٹس کو پبلک کیا جائے۔وزیر اعظم نے کہا رپورٹس پبلک ہوں گی تو آئندہ کیلئے موثر اقدا مات ہو سکیں گے۔ سول ایوی ایشن حکام نے بتایا کہ جنید جمشید طیارہ حادثہ رپورٹ جولائی میں پبلک کر دی جائے گی۔بعدازاں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کورونا وباء اور ٹڈیوں کی صورتحال پر اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کو معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور فوکل پرسن برائے کورونا ڈاکٹر فیصل سلطان نے کورونا کی صورتحال سے آگاہ کیا۔اجلاس میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے اثرات اور بڑھتے ہوئے کیسز پر بھی بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم نے ایس او پیز پر ہر صورت عملدرآمد کروانے کی ہدایت کی۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کو درپیش مشکلات کا ادراک ہے، عوام کی مشکلات کے پیش نظر لاک ڈاؤن میں نرمی کی، احتیاطی تدابیر کو اپنانا بہت ضروری ہے۔اجلاس میں وزیراعظم کو ٹڈیوں کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے فوری طور پر ٹڈیوں کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے اور رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی

حکومت اعلان

کراچی،اسلام آباد (سٹاف رپورٹرز، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) شہر قائد کراچی میں پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے اور 6 دن بعد کاک پٹ وائس ریکارڈر مل گیا، فرانسیسی ٹیم نے تیسرے روز بھی حادثے کی جگہ کا دورہ کیا اور جدید آلات کا استعمال کیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے کل بھاری پرزوں کو اٹھوانے کی ہدایات دی تھیں۔ ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ کاک پٹ وائس ریکارڈر سے تحقیقات میں مدد ملے گی۔ وائس ریکارڈر ائیر کرافٹ ایکسیڈینٹ انویسٹی گیشن بورڈ کے حوالے کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جائے حادثہ سے اکھٹے کئے گئے ملبے پر مزید تحقیقات کرے گی۔ جہاز سے حاصل سامان سے ڈائیگرام بنایا جائے گا، تین روز سے جاری تحقیقات میں فرانسیسی ٹیم نے رن وے جائے حادثہ کے دورے کئے اور ائیر ٹریفک کنٹرول کے عملے سمیت دیگر افراد سے سوالات کئے، دوسری طرف کراچی میں حادثے کا شکار ہونیوالے طیارے کو بنانے والی کمپنی نے کہا ہے کہ طیارے کا کاک پٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر فرانس میں ڈی کوڈ ہوگا۔ایئر بس کمپنی کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے حا دثے کے شکار طیارے کا کاک پٹ وائس ریکارڈر ملنے کے بعد پاکستانی حکام نے ریکارڈر ڈی کوڈ کرنے کی درخواست کی ہے۔ ایئربس انتظامیہ کے مطابق کاک پٹ وائس ریکا رڈ ر اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر فرانس منتقل کرنے پر پاکستانی ٹیم سے بات ہوگئی ہے۔ کاک پٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کو فرانس میں ڈی کوڈ کیا جائے گا۔واضح رہے ایئر بس کمپنی کی تحقیقاتی ٹیم کی مدد سے کاک پٹ وائس ریکارڈر ملبے سے تلاش کیا گیا۔ادھر وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ طیاروں کو پیش آنیوالے حادثات کی رپور ٹس میں کسی کو بچایا نہ کسی کو پھنسایا جائیگا۔ 22 جون کو اسے پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ لا ہو ر سے کراچی جانیوالی فلائٹ دوران لینڈنگ کریش ہوئی، اس میں کل 99 لوگ سوار تھے جبکہ دو لوگ معجزاتی طور پر محفوظ رہے۔ اس حادثے میں بارہ سے پندرہ گھر بری طر ح متا ثر ہوئے۔ گھروں کی املاک اور گلی میں کھڑی گاڑیاں بھی جل گئیں۔غلام سرور خان کا لاشوں کی شناخت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ بڑا تکلیف دہ مر حلہ ہے، ہما ر ی کوشش ہے جلد ڈی این اے ٹیسٹ مکمل ہو جائیں۔ اب تک 51 لاشوں کو شناخت کرکے انہیں لواحقین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ یہ حادثہ کیوں؟ کیسے ہوا؟ اور ذمہ دار کون ہے؟ اس سے پوری قوم کا تعلق ہے۔ ایئربس کمپنی کی 11 رکنی ٹیم تحقیقات کر رہی ہے۔ انویسٹی گیشن بورڈ نے ہر چیز کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ فرانس میں ڈی کوڈ کے بعد ساری چیزیں سامنے آ جائیں گی۔ انویسٹی گیشن بورڈ نے ہر چیز کی انکوائری کرنی ہے۔ اگر جہاز میں کوئی تکنیکی خرابی تھی تو وہ بھی ریکارڈ پر ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر جہاز نے لینڈ کیا تو پھر کس نے اٹھانے کا کہا؟ سب انویسٹی گیشن ہوگی۔ ہم میں سے کوئی بھی ایکسپرٹ نہیں انویسٹی گیشن بورڈ کی رپورٹ کا انتظار کیا جائے۔سیاسی مخالفین کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا ایک حادثہ 2010ء میں بھی ہوا تھا، آج اعتراض کرنیوالوں نے اس وقت کیا کیا تھا؟ پچھلی حکومتوں نے رپورٹ پبلک نہیں کی تو ہم کر یں گے۔انہوں نے بتایا وزیراعظم عمران خان نے بھی رپورٹس کے حوالے سے غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ آج تک بروقت رپورٹس کیوں نہیں آتیں؟ ہم تمام 12 واقعات کی رپورٹ قوم کے سامنے رکھیں گے۔پی آئی اے کا پائلٹ قابل احترام ہمارا بھائی تھا۔ پائلٹ کے لواحقین کو یقین دلاتا ہوں شفاف طریقے سے انکوائری ہوگی۔ رپورٹ میں کسی قسم کی مدا خلت کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ کریش لینڈنگ کا ایس او پیز موجود ہے، اگر پہیہ نہ کھلے تو پائلٹ کریش لینڈنگ کی درخواست کرتا ہے، تاہم پائلٹ نے نہیں کہا کہ لینڈ نگ گیئر نہیں کھل رہے نہ ہی اس نے ایمرجنسی لینڈنگ کا کہا۔ لینڈنگ اور انجن میں کیا پرابلم تھی؟ معاملہ انویسٹی گیشن بورڈ پر چھوڑ دیا جائے، یہ سارے تکنیکی سوالات ہیں۔

غلام سرور خان

مزید :

صفحہ اول -