کورونا وباء عالمی مسئلہ، ترقی یافتہ ممالک غریب ملکوں کی مددکریں، وزیراعظم، پنجاب حکومت کا 4دن کاروبار، 3دن لاک ڈاؤن کا فیصلہ ریسٹورنٹس، مری سمیت دیگر سیاحتی مقامات کھولنے کا فیصلہ این سی ا و سی کی اجازت سے مشروط

      کورونا وباء عالمی مسئلہ، ترقی یافتہ ممالک غریب ملکوں کی مددکریں، ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کو عالمی مسئلہ اور اس کا مشترکہ حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو اس سے نمٹنے کیلئے اقدامات اٹھانا پڑیں گے۔کورونا وائرس کے بعد ترقی کیلئے سرمایہ کاری پر عالمی ورچوئل اجلاس جس کی میزبانی کینیڈا، جمیکا کے وزرائے اعظم اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کر رہے ہیں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وائرس نے عالمی معیشت پر بہت برے اثرات چھوڑے لیکن ترقی پذیر ممالک زیادہ متاثر ہوئے، اس وبا کی وجہ سے ہماری برآمدات متاثر ہوئیں۔ اس وقت نائیجیریا، ایتھوپیا اور مصر کو بھی پاکستان جیسے مسائل کا سامنا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے دنیا کو اقدامات کرنا پڑیں گے کیونکہ وبا عالمی مسئلہ ہے اور ہمیں مل کر مشترکہ طور پر اس کا حل نکالنا ہوگا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے جی ٹونٹی ممالک کی بھی تعریف کی اور کہا کہ کورونا کیخلاف ان کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں ترقی پذیر ممالک کو درپیش قرضوں کی واپسی اور مختلف مالیاتی مشکلا ت کو حل کرنے کے ممکنہ طریقوں کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا نے عالمی معیشت پر برے اثرات مرتب کئے ہیں، ہماری برآمدات متاثر ہوئی ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق منصوبے بھی متاثر ہوئے ہیں، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو رونا وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جبکہ سب سے بڑا چیلنج ہے کہ غریبوں کی کس طرح مد کی جائے۔انہوں نے کہا جی 20 ممالک کی طرح دیگر ترقی یافتہ ممالک بھی غریب ملکوں کی مدد کریں، پاکستان میں بھی کورونا کے باعث غریب افراد زیادہ متاثر ہوئے، حکومت نے مزدوروں اور ڈیلی ویجز کیلئے بڑی مشکل سے 8 ارب ڈالر کا ریلیف پیکج دیا ہے۔ کورونا کے بعد کے معاملات پر منصوبہ بندی کر رہے ہیں برآمدات اور سیاحت کے فروغ سے متعلق بہت اچھے منصوبے موجود ہیں۔

عمران خان

لاہور (جنرل رپورٹر، لیڈی رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر کورونا کابینہ کمیٹی اجلاس میں ریسٹورنٹس کھولنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت کو ریسٹورنٹس کھولنے کی سفارش کردی ہے۔ قومی رابطہ کمیٹی اجلاس میں سفارش حتمی منظوری کیلئے پیش کی جائے گی۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبہ پنجاب میں مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کے اوقات کار صبح نوسے پانچ بجے ہوں گے۔ پنجاب میں مارکیٹیں، بازار اور شاپنگ مالز کو ہفتہ میں چار دن کام کی اجازت ہوگی۔ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور بازار بند رہیں گے۔اجلاس میں مری اور گلیات میں ہوٹلز کو اجازت دینے کیلئے وفاق سے رجوع کر نے کا فیصلہ کیا گیا۔ تفریحی مقامات کو سیاحوں کیلئے کھولنے کی وفاقی حکومت سے سفارش کی جائے گی۔ پنجاب میں ریسٹورنٹس، مری اور دیگر سیاحتی مقامات کھولنے کا فیصلہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کی اجازت سے مشروط کر دیا گیا۔وزیر قانون راجہ بشارت، سینئر وزیر عبدالعلیم خان اور وزیر تجارت میاں اسلم اقبال نے اجلاس میں شرکت کی۔ محکمہ صحت کے حکام نے اجلاس کو کوروناکے بارے میں بریفنگ جبکہ انتظامی اداروں نے ایس او پیز پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کی۔قبل ازیں اس ضمن میں وزیر تجارت میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا عید گزر گئی اب ایس او پیز کی سختی سے مانیٹرنگ ہوگی، جو مارکیٹ ایس او پیز پر عمل نہیں کریگی اس کو بند کر دیا جائیگا، مارکیٹوں کو تجاوزات کا بھی خاتمہ کرنا ہوگا، مارکیٹوں کو اجازت تجاوزات کے خاتمے سے مشروط ہوگی۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکی ہدایت پرسینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی انسداد کورونا کے ویڈیو لنک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن میں کورونا سے بچاؤ کیلئے ایس او پیز پر عملدرآمد سے مشروط انٹرویوز کئے جا سکیں گے۔ سینئر وزیر عبدالعلیم خان نے اجلاس میں موجودہ صورتحال کے مطابق مختلف شعبوں میں نرمی کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ ہوا تو بتدریج پابندیاں نرم کرنے پر غورکریں گے، انہو ں نے کہا کہ صوبہ بھر میں ٹرانسپورٹ کے کرائے کم کرانے کے فیصلہ پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ عبدالعلیم خان نے ہدایت کی کہ محکمہ صحت کورونا کی اصل صورتحال سے میڈیا کو روزانہ آگاہ رکھے۔ کابینہ کمیٹی برائے انسداد کورونا نے پنجاب پبلک سروس کمیشن میں ایس او پیز سے مشروط انٹرویو ز کی اجازت دینے کا اصولی فیصلہ بھی کیا۔اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ اور محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کو مجموعی طور پر تقریبا ساڑھے 11 ارب کورونا بجٹ دیا گیا۔ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر نے کورونا کے سلسلے میں 96 کروڑ روپے ہسپتالوں کوجاری کئے۔26 کروڑ روپے حفاظتی سامان اور 57 کروڑ ادویات پرخرچ کئے گئے ہیں۔ 24 ہسپتالوں کوضرورت کے مطابق 10 کروڑ سے 50 لاکھ روپے تک فراہم کئے ہیں۔دونوں محکموں نے مجموعی طور پر 5 ارب کے لگ بھگ اخراجات کئے۔ لاہور میں ایکسپو سنٹر فیلڈ ہسپتال صرف اڑھائی کروڑ روپے کی لاگت سے بنایا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں کورونا کے99 66مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں۔ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے ہسپتالوں میں 1073، پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کے ہسپتالوں میں 897 کورنا مریض زیر علاج ہیں۔ صوبہ بھر کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں کورونا مریض 275 مریض زیر علاج ہیں۔صوبہ بھر میں 1266 مریض ہوم آئسو لیشن میں ہیں۔صوبہ بھر میں صرف 65 مریض نازک حالت کے پیش نظر وینٹی لیٹرپر زیر علاج ہیں۔ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر میں 17600 سماجی رابطے ٹریس کئے اور تقریباسوا لاکھ کورونا ٹیسٹ کئے۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ اپوزیشن بیا ن بازی میں مصروف ہے، ہم کام کر رہے ہیں۔ اجلاس کے دوران طیارہ حادثہ میں شہیداربن یونٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد شیر دل کے ایصال ثواب کیلئے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔کابینہ کمیٹی برائے انسداد کورونا کے اجلاس میں صوبائی وزراء راجہ بشارت، ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں اسلم اقبال، چیف سیکرٹری،انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگرسینئرافسران نے شرکت کی جبکہ ویڈیو لنک کے ذریعے کور ہیڈ کوارٹر سے اعلی عسکری حکام اورسول سیکرٹریٹ سے اعلی صوبائی حکام شریک ہوئے۔

پنجاب حکومت فیصلہ

اسلام آباد، کراچی، لاہور،پشاور، کوئٹہ، مظفر آباد، گلگت بلتستان(سٹاف رپورٹرز،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد دن بدن بڑ ھتی جارہی ہے، گزشتہ روز بھی مزید نئے کیسز اور اموات کے بعد مجموعی طور پر ملک میں کیسز 62 ہزار 700 اور اموات 1283 تک پہنچ گئی ہیں۔سرکاری سطح پر فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کے روز ملک بھر سے کورونا کے مزید 2622 کیسز اور 44 ہلاکتیں سامنے آئیں جن میں سندھ سے 1103 کیسز 16 ہلاکتیں، پنجاب 919 کیسز 19 ہلاکتیں، خیبر پختونخوا سے 359 کیسز اور 7 ہلاکتیں، بلوچستان 80 کیسز، آزاد کشمیر سے5 کیسز ایک ہلاکت، اسلام آباد 136 کیسز ایک ہلاکت جبکہ گلگت سے 20 کیسز رپو ر ٹ ہوئے۔ گزشتہ روزسندھ میں کورونا وائرس کے مزید 1103 نئے مریض اور 16 اموات سامنے آگئیں۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 101 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 1103 کے نتائج مثبت آئے، اس طرح صوبے میں مجموعی کیسز کی تعداد 25 ہزار 309 تک پہنچ گئی۔ صوبے میں مزید 16 اموات بھی ہوئیں، جس کے بعد مجموعی اموات 396 تک جا پہنچیں،تاہم مراد علی شاہ نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ روز پہلی مرتبہ 1924 افراد اس وبا سے صحتیاب ہوکر اپنے گھروں کو چلے گئے۔ پنجاب میں کورونا وائرس کے مزید 919 نئے کیسز اور 19 اموات کا اضافہ ہوا۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق صوبے میں ان نئے کیسز کے بعد مجموعی تعداد 22 ہزار 37 ہوگئی۔ صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 19 اموات بھی ہوئیں جس کے بعد اب تک انتقال کرنیوالوں کی تعداد 381 تک جا پہنچی۔مزید برآں ترجمان کے مطابق صوبے میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 17 ہزار 726 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 6 ہزار 326 لوگ صحتیاب بھی ہوگئے ہیں۔اسلام آباد میں کورونا وبا کے مزید نئے متاثر ین سامنے آگئے جبکہ ایک فرد زندگی کی بازی ہار گیا۔سرکاری سطح پر قائم ویب سائٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں اس عالمی وبا کے مزید 136 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جس کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 1879 سے بڑھ کر 2015 ہوگئی۔اس کے علاوہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسلام آباد میں ایک موت بھی ہوئی جس کیساتھ ہی وہاں اموات 19 تک جا پہنچیں۔محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے کورونا کے 359 نئے کیسز کی تصدیق کی جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 8842 ہوگئی۔بیان میں وائرس سے مزید 7 افراد کے جاں بحق ہونے کی بھی تصدیق کی گئی جس کے بعد یہاں اموات کی تعداد 432 ہوگئی۔اموات میں اضافہ پشاور، مردان، سوات، مالاکنڈ، ایبٹ آباد اور کوہاٹ میں ہوا۔دوسری جانب گلگت بلتستان میں بھی کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوا۔اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں وبا سے مزید 13 لوگ متاثر ہوئے، جس کے بعد وہاں اب تک اس وائرس کا شکار ہونے والوں کی تعداد 638 سے بڑھ کر 651 تک پہنچ گئی۔تاہم وہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کی وجہ سے کوئی موت نہیں ہوئی۔ادھر ملک میں وائرس سے سب سے کم متاثرہ علاقے آزاد کشمیر میں بھی کیسز میں اضافہ سامنے آرہا ہے۔نئے اعداد و شمار کے مطابق وہاں مزید 5 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ ایک موت بھی واقع ہوئی۔ جس کے بعد وہاں اب تک مجموعی کیسز کی تعداد 214 سے بڑھ کر 219 ہوگئی جبکہ اموات بھی 4 سے بڑھ کر 5 ہوگئیں۔علاوہ ازیں پاکستان میں اسی تیزی سے صحتیاب لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے،جو امید کا باعث ہیں۔اب تک کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مزید ایک ہزار 89 افراد اس وائرس کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے۔جس کے بعد ملک میں وائرس سے صحتیاب ہونیوالوں کی تعداد 19 ہزار 142 سے بڑھ کر 20 ہزار 231 ہوگئی۔ملک میں ان تمام کیسز، اموات اور صحتیاب ہونے والو ں کے بعد اگر مجموعی صورتحال پر نظر ڈالیں تو وہ کچھ اس طرح ہے۔مصدقہ کیسز: 62689،اموات: 1283،صحتیاب 20231،فعال کیسز: 41175،اس وقت سب سے ز یا دہ صوبہ سندھ متاثر ہے اور وہاں کیسز 25 ہزار 309 ہیں، جس کے بعد پنجاب کی تعداد ہے اور وہاں 22 ہزار 37 افراد متاثر ہوچکے ہیں۔خیبرپختونخوا میں اس وبا سے 8 ہزار 842 لوگ متاثر ہوئے ہیں وہیں بلوچستان میں یہ تعداد 3 ہزار 616 ہے۔اسلام آباد میں 2015، گلگت بلتستان میں 651 اور آزاد کشمیر میں 219 لوگوں کو یہ وبا اپنا شکار بنا چکی ہے۔ملک میں اموات کی صورتحال کچھ یوں ہے کہ خیبرپختونخوامیں 432،سندھ 396،پنجاب 381،بلوچستان 41،اسلام آباد 19،گلگت بلتستان 9اورآزاد کشمیر5اموات ہوئی ہیں۔

پاکستان کورونا

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)دنیا بھر میں نوول کورونا وائرس کویڈ۔19کے وار جاری ہیں،جمعرات کے روز دنیا بھر میں مزید 3ہزار سے زائد اموات کے سامنے آنے سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد3لاکھ 61ہزار سے زائد ہو گئی ہے جبکہ 76ہزار سے زائدنئے کیسز سے اب تک وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد58لاکھ 61ہزار سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔گزشتہ روز امریکہ میں مزید 795اموات ہوئیں جس کے بعدوہاں صرف 4 ماہ کے دوران کورونا وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوزکر گئی۔امریکہ میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 21 جنوری کو واشنگٹن میں رپورٹ ہوا تھا اور اس وقت سے لیکر اب تک 17 لاکھ 58 ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک لاکھ 3 ہزار سے زیادہ افراد

مزید :

صفحہ اول -