ٹرمپ کا سوشل میڈیا کمپنیوں کی حفاظت کرنیوالے قانون پر نظرثانی کا حکم

ٹرمپ کا سوشل میڈیا کمپنیوں کی حفاظت کرنیوالے قانون پر نظرثانی کا حکم

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے طویل عرصے سے انٹرنیٹ کمپنیوں بشمول ٹوئٹر اور فیس بک کو تحفظ فراہم کرنیوالے قانون پر نظر ثانی کا حکم دیے جانے کا امکان ہے۔مجوزہ ایگزیکٹو آرڈر کی خبریں ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ پر ٹوئٹر کی جانب سے قارئین کو حقائق پر دوبارہ نظر ڈالنے کا انتباہی نوٹ لگانے کے بعد سامنے آیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کو موصول ڈرافٹ کیے گئے احکا مات میں وفاقی ایجنسیوں کو سیکشن 230 نامی قانون و تبدیل کرنے کا کہا گیا۔یہ قانون انٹرنیٹ کمپنیوں کو صارفین کی جانب سے ڈالے گئے مواد پر سے ذمہ داری کو ختم کردیا تھا۔ڈرافٹ کیے گئے حکم نامے میں فیس بک اور ٹوئٹر کی جانب سے 'غیر منصفانہ اور دھوکہ دہی کے عمل' پر نظر ثانہ کا کہا گیا اور حکومت سے ان سروسز پر اشتہارات دینے پر بھی نظر ثانی کرنے کا کہا گیا۔حکام کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ان احکامات پر جمعرات کے روز دستخط کریں گے۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس، فیس بک اور ٹوئٹر نے اپنی رائے دینے سے انکار کردیا۔ڈرافٹ کیے گئے احکامات میں سیکشن 230 کی تشریح کو کانگریس اور عدالتوں کو تبدیل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ان احکامات کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب صدارتی اختیارا ت کا نجی کمپنیوں کو اپنی پالیسیز جو ان کے مطابقت سے نہیں ہوتیں، کو تبدیل کرنے کیلئے استعمال کرنے کی تازہ کوشش ہے۔جیک بالکن کے قانون کے پروفیسر کا کہنا تھا کہ 'صدر سوشل میڈیا کمپنیوں کو دھمکانا چاہتے ہیں تاکہ وہ انہیں اکیلا چھوڑ دیں اور جو ٹوئٹر نے ان کیساتھ کیا ایسا کوئی نہ کرسکے۔ان کا کہنا تھا کہ احکامات کے بہت کم قانونی اثرات ہوں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کی خبر سامنے آتے ہی ٹوئٹر کے شیئرز 2.2 فیصد کم ہوگئے جبکہ فیس بک اور گوگل کے شیئرز میں اضافہ ہوا۔

ٹرمپ حکم

مزید :

صفحہ اول -