بجٹ میں ایکسپورٹ دوست پالیسی کااعلان کیا جائے: یوزری ایسوسی ایشن

بجٹ میں ایکسپورٹ دوست پالیسی کااعلان کیا جائے: یوزری ایسوسی ایشن

  

فیصل آباد (اے پی پی)پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سینٹرل چیئرمین چوہدری سلامت علی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی ایکسپورٹس کوبڑھانے اور زرمبادلہ کمانے کیلئے پانچ بڑے ایکسپورٹ سیکٹرز کیلئے ایس آر او 1125کے تحت سیلز ٹیکس کے نو پے منٹ نو ریفنڈ نظام کو بجٹ میں دوبارہ بحال کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ کے موجودہ حجم میں اضافہ کے لئے ایکسپورٹرز کے لیکویڈیٹی مسائل کو حل کرنا انتہائی ضروری ہے۔عالمی معاشی سست روی اور کورونا وباء کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو نامساعد حالات کا سامنا ہے۔ایکسپورٹ کے فروغ و ترقی کیلئے سنگ میل عبور کرنے کی خاطر حکومت بجٹ میں ایکسپورٹ دوست پالیسی اور اقدامات کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل ایکسپورٹس پر کورونا وبا اور عالمی معاشی سست روی کے بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کے اثرات کم کرنے کیلئے حکومت کی فوری توجہ اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔ کئی ماہ کے طویل لاک ڈاؤن کے بعد عالمی منڈیوں میں کاروباری سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔اب کئی عالمی خریدار نئی شرائط پر کام کرنا چاہتے ہیں جیسے کئی خریداروں نے ایکسپورٹرز کو ادائیگی کے دورانیہ کو بڑھا کر 120دن کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر کئی بین الاقوامی برانڈ ز دیوالیہ ہو چکے ہیں جس کا اثر پاکستانی ایکسپورٹ انڈسٹری پر بھی ہو گا۔موجودہ حالات میں صنعتیں اپنی پیداواری صلاحیت سے کم پر کام کر رہی ہیں۔اس حوالے سے ایکسپورٹ انڈسٹریز کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ پیداواری صلاحیت میں کمی کے ساتھ صنعتوں کو چلانے کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے جس کا اسمال اور میڈیم سائز ایکسپورٹ انڈسٹری متحمل نہیں ہو سکتی۔پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کا حکومت سے پرزور مطالبہ ہے کہ ایکسپورٹس کے فروغ کیلئے اور ملک کے وسیع تر مفاد میں پانچ بڑے ایکسپورٹ سیکٹرز اور ان سے وابستہ مکمل سپلائی چین و الائیڈ انڈسٹریز کی سہولت اور ترقی کیلئے بجٹ میں ایس آر او 1125کو دوبارہ بحال کرتے ہوئے اس کے تحت پانچ زیرو ریٹیڈ سیکٹر کیلئے نو پے منٹ نو ریفنڈ سیلز ٹیکس نظام کا دوبارہ لاگو کرے۔

مزید :

کامرس -