پولٹری مافیا کی من مانیاں‘ کارروائی پر مختلف شہروں میں ہڑتال

  پولٹری مافیا کی من مانیاں‘ کارروائی پر مختلف شہروں میں ہڑتال

  

ملتان،ڈیرہ غازیخان،ڈاہرانوالہ(نیوز رپورٹر،نمائندہ خصوصی، نامہ نگار)حکومتی لاک ڈاون کی آڑ میں پولٹری ٹریڈ ایسوسی ایشن نے عید سے چند روز قبل ہی برائیلر مرغی کے نرخ آسمان پر پہنچا کر پہلے سے پسے ہوئے شہریوں کی رہی سہی کسر پوری کردی ہے جبکہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے زیر انتظام پرائس کنٹرول مجسٹریٹ ایک ہفتہ گزرنے کے بعد نیند سے بیدار ہوئے جب تک پولٹری مافیا شہریوں کی جیبوں سے لاک ڈاون کے دوران ہونیوالے نقصان کا سود سمیت ازالہ(بقیہ نمبر38صفحہ7پر)

کرچکے تھے اور ملتان انتظامیہ کی ناقص کارکردگی و عدم توجہی کے باعث 200 روپے کلو فروخت ہونیوالے برائیلر گوشت کو 350 روپے کلو تک خریدنے پر مجبور کردیئے گئے پچھلے دس دنوں تک پولٹری مافیا کی لوٹ مار کے بعد گذشتہ روز سے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس حرکت میں آئے ہیں اور وہی معمول کی چند کاروائیاں جرمانے جن سے عام شہری کی جیب پر پڑنے والے ڈاکے کا ازالہ تو ممکن نہیں ہوگا لیکن یہ کاروائیاں اخبارات کی زینت ضرور بنیں گی عوامی حلقوں کی جانب سے یہ سوال کیا جارہا ہے کہ جب اشیائے خورونوش کے نرخ مقرر کردیئے جاتے ہیں تو پھر ان سے تجاوز کرنے کی جرات کے پسء پردہ عوامل کیا ہیں حکومتی اداروں کی ایک ہفتہ تک لاتعلقی کی وجوہات کیا ہیں ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی رٹ کیوں نظر نہیں آتی اگر انتظامیہ شہریوں کو گرانفروش مافیا سے تحفظ فراہم کرنے سے قاصر اپنے ہی مقررہ نرخوں پر شہریوں تک اشیائے خورونوش فراہم کرنے میں ناکام ہورہی ہے تو پھر ان افسران کی فوج ظفر موج کا جواز کیا ہے جن شہریوں کے ٹیکسز سے یہ بیوروکریسی لاکھوں روپے تنخواہوں کی مد میں وصول کرتی ہے اور انہیں شہریوں مقررہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ فراہم کرنے میں مخلص نہیں ہے عوامی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کی سستی اشیائے خورونوش کی فراہمی کے لیئے موثر اقدامات اٹھائے جائیں اور موجودہ انتظامیہ جو آڑھتیوں اور گرانفروش مافیا کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کو اپنا نصب العین بنا چکی ہے ان سے شہریوں کی جان خلاصی کی جائے۔جبکہ مرغی کا گوشت مہنگا فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈا?ن تیز کردیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر عامر خٹک کی ہدایت پر پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کا ضلع بھر میں آپریشن جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک چکن شاپ کا مالک گرفتار اور 47 پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔پرائس مجسٹریٹ عبدالغنی خان نے بوسن روڈ پر واقع عادل مغل چکن شاپ کے مالک ناصر کو گرفتار کر لیا۔ناصر چکن کا گوشت260 روپے کی بجائے 320 روپے فی کلو فروخت کررہا تھا جب کہ مقررہ ریٹ سے زیادہ قیمت وصول کرنیوالے47 چکن شاپس مالکان کو مجموعی طور پر 51 ہزار500 روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔جبکہ پولٹری فارمز کی طرف سے چکن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ،ڈی جی خان میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پولٹری فروخت کر نے والے دکانداروں پر جرمانے اور مقدمات کے اندراج کے خلاف دکانداروں کا احتجاج،تین دن تک مرغی کے گوشت کی دکانوں تالے لگا کر بند کردیا،مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو غیر معینہ مدت تک ہڑتال جاری رہے گی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی مرکزی انجمن تاجران کے وفد ہمراہ چیئر مین مارکیٹ کمیٹی سے ملاقات،چیئر مین کی طرف سے آج ڈپٹی کمشنر کو حقائق سے آگاہ کر کے مسئلہ حل کرانے کی یقین دہانی،اس سلسلہ میں مزید تفصیلات کے مطابق صوبہ بھر کے دیگر اضلاع کی طرح ڈیرہ غازی خان میں پولٹری کے کاروبار سے تعلق رکھنے والے تاجروں نے انتظامیہ کی جانب سے چکن ڈیلرز پر ناجائز جرمانے اور دکانداروں کے خلاف دی جانے والی ایف آئی آر پر احتجاج کرتے ہوئے مکمل ہڑتال کر دی اور دکانوں کو تالے لگا دئیے اور احتجاجی بینزر ہاتھوں میں تھام کے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام پر نعرے بازی کی اس موقع پولٹری ایسوسی ایشن کے صدر شیخ بلال،محمد ندیم،شیخ شاہد معراج،شیخ محمد قاسم ودیگر عہدیداران نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مقررہ ریٹ 260 روپے مقرر ہے جو ضلعی انتظامیہ نے ان کو دیا ہے اس پر دکانداروں کو چالیس سے پچاس روپے فی کلو گرام تک نقصان ہورہا ہے جس پر وہ مجبوراً 320 روپے کلو فروخت کررہے ہیں بجائے انتظامیہ ان سے ریٹ پر بات چیت کرتی انہوں نے الٹا دکاندار جو کرونا وائرس اور لاک ڈاون سے پہلے ہی ستائے ہوئے ہیں ان پر بھاری جرمانے اور مقدمات اندراج کرکے ان کو تنگ کررہی ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ فارمرز سے ریٹوں کو کم کرائیں تاکہ ہم بازار میں کم سے کم ریٹ پر مرغی کا گوشت فروخت کرسکیں چکن کے گوشت سے وابستہ دکانداروں نے کہا کہ اگر انتظامیہ نے ان کے مطالبات نہ مانے تو وہ غیر معینہ مدت تک دکانیں بند کرکے مرغی کے گوشت کی فروخت بند رکھیں گے کیو نکہ نقصان میں فروخت اور بھاری جرمانے موجودہ صورتحال میں اداکرنا ہماری برداشت سے باہر ہے پولٹری ایسوسی ایشن کے صدر شیخ محمد بلال،محمد ندیم،شیخ شاہد معراج،شیخ محمد قاسم و دیگر عہدیداروں مرکزی انجمن تاجران کے سٹی صدر جان عالم خان لغاری،جنرل سیکرٹری جاوید اسحاق مستوئی،ضلعی سیکرٹری جنرل طارق اسماعیل،سٹی انفارمیشن سیکرٹری طاہر معراج کے ہمراہ چیئر مین مارکیٹ کمیٹی ملک محمد رفیق اعوان سے ملاقات کی اور صورتحال سے آگاہ کیا جس پر انہوں نے پولٹری ڈیلرز کے موقف سے اتفاق کر تے ہو ئے کہا کہ فارمر ز کی طرف سے مال مہنگا ہو نے پر چھوٹے مرغی فروشوں پر جرمانے مناسب نہیں تاہم آج وہ تمام صورتحال سے ڈپٹی کمشنر طاہر فاروق کو آگاہ کر کے مسئلہ حل کرا نے کی کوشش کریں گے۔ دریں اثناء عید کے بعد ڈاہرانوالہ میں چکن شاپ مالکان اور انتظامیہ کے مابین ریٹ کا تنازع شدت اختیار کر گیا ہے.جس کی وجہ سے چکن شاپس مالکان نے گوشت کی سیل بند کر دی ہے اور ہڑتال کا سلسلہ آج دوسرے روز بھی جاری ہے.ڈاہرانوالہ میں چکن کا گوشت نایاب ہو گیا ہے اور لوگ گوشت کی تلاش میں مارے مارے پھرنے لگے ہیں.چکن شاپس مالکان محمد سلیم،محمد یسین،محمد ندیم اور دیگر نے ڈاہرانوالہ پریس کلب کے نمائندگان کو بتایا کہ انتظامی افسران نے ہم پر بلا جواز بھاری جرمانے عائد کر نا معمول بنا لیا ہے.ہم غریب لوگ ہیں 5،5 ہزار جرمانوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے.مرغی فارم والے ہمیں زندہ برائلر مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں تو ہم 260 روپے زند مرغی خرید کر گوشت 260 روپے کیسے فروخت کر سکتے ہیں.انتظامی افسران مرغی فارمز سے ریٹ کنٹرول کرنے کی بجائے ہم غریب لوگوں کو تنگ کرتے ہیں.اس لیے اب ہم نے اپنے کاروبار بند کر دئیے ہیں.اتظامیہ کو چاہیے کہ اگر عوام کو سستے داموں گوشت فراہم کرونا چاہتے ہیں تو فارمز سے ریٹ کنٹرول کریں.حکومت میں بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالنے کی سکت نہیں ہے اور چھوٹے تاجروں کو تنگ کرنا اور بلا جواز بھاری جرمانے عائد کرنا معمول بنا لیا ہے.جب تک انتظامی افسران اپنا رویہ نہیں بدلتے ہم کاروبار نہیں کریں گے.دوسری جانب گوشت کی سیل بند ہونے سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے.عوامی حلقوں نے انتظامی افسران کی ناقص پالیسوں کو شدید تنقید نشانہ بنایا ہے اور ڈپٹی کمشنر بہاولنگر سے فوری معاملے کا نوٹس لے کر ڈاہرانوالہ میں چکن گوشت کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

پولٹری مافیا

مزید :

ملتان صفحہ آخر -