اقوام متحدہ کی بحالی میں پاکستان کا کردار

اقوام متحدہ کی بحالی میں پاکستان کا کردار

  

پاکستانی فوج کی اقوام متحدہ کے ساتھ امن کے حوالے سے خدمات سر انجام دینے کی ایک نمائیاں اور طویل تاریخ ہے۔ بین الاقوامی امن و سلامتی کو فروغ دینے کے لئے اقوام متحدہ کے ساتھ ہماری وابستگی کی جڑیں بانی والد قائداعظم محمد علی جناح کے وڑن سے جڑی ہیں، جو اقوام متحدہ کے میثاق کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے، دنیا کی اقوام کے مابین امن اور خوشحالی کے فروغ میں اپنا بھر پور تعاون کرنے کے عزم کی پابندی کرتا ہے۔

پاکستان نے 30 ستمبر 1947 کو اقوام متحدہ میں شمولیت اختیار کی۔یہ ایک نامور دور کا آغاز تھا جس کی تاریخ بے مثال ہے۔ اقوام متحدہ کے امن کیپریشن آپریشن کے لئے ہماری مدد کا آغاز 1960 میں ہوا جب پاکستان نے کانگو میں اقوام متحدہ کے آپریشنز میں اپنا پہلا دستہ تعینات کیا۔ اس ابتدائی اقدام کو آگے بڑھاتے ہوئے، پچھلے 60 سالوں میں پاکستان اقوام متحدہ کے مشن کے مینڈیٹ کو پوری دنیا میں نافذ کرنے میں معاون رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہماری کامیابیوں کا سفر متوازی ہے۔۔

پاکستان نے دنیا بھر کے تقریبا 28ممالک میں دو لاکھ سے زیادہ فوج کے ہمراہ 46 مشترکہ مشن میں حصہ لیا۔ ہماری افواج نے ا قوام متحدہ کے زیراہتمام ہنگامہ خیز خطوں میں انسانیت کی مدد کرنے اور امن کو بحال رکھنے سمیت دنیا بھر کے آج کے دن کو بہتر بنانے کے لئے قربانیاں دیں۔ جس میں 157 پاکستانی سلامتی جوانوں نے 24 افسران سمیت اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔

پاکستان پچھلے کئی سالوں میں مستقل طور پر تعاون کرنے والے ممالک میں سب سے بڑا اور مؤثر ملک رہا ہے۔ بیرون ملک ہماری دستے نے جنگ زدہ علاقوں کو معمول پر لانے، امن وامان برقرار رکھنے اور انتخابات کی نگرانی کے ذریعے سیاسی تقسیم کے کامیاب منتقلی کو یقینی بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ متعدد عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کی قیادت نے عالمی سطح پر پاکستان کی پرامن فوج کی کارکردگی کو بڑے پیمانے پر تسلیم کیا ہے۔

اس وقت پاکستان کے فوجی کانگو، وسطی افریقی جمہوریہ، جنوبی سوڈان، دارفور، صومالیہ، مغربی صحارا، مالی، بی سی اور قبرص میں تعینات ہیں۔ جو ان ممالک میں انسانی ہمدردی کے پیش نظر امن کو برقرار رکھتے ہیں اور استحکام لاتے ہیں۔ان کی خدمات کی بدولت امن او ر استحکام کو فروغ ملتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سلامتی کے حوالے سے مختلف مشترکہ آپریشنز میں پاکستان کی مستقل طور پر شمولیت میثاق کے مقصد اور اصولوں کے لئے ہماری پائیدار عزم کی تصدیق ہے جس کے باوجود ان اندورونی سیکیورٹی فورسز پر بھاری ذمہ داری عائد ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے حوالے سے بہترین خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ خاص طور پر پیس کیپنگ کا اسٹریٹجک جائزہ، پیس کیپنگ کیبلٹی ریڈیینس سسٹم کے ذریعے فورس جنریشن ہے تاکہ دنیا بھر میں امن بحال رکھا جاسکے۔

پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے پسماندہ ملکوں میں مشکل حالات سے نمٹنے کے لئے ایک طرف امن کے قیام کے حوالے سے جاری آپریشن میں خواتین کی نمائندگی اور درجہ بندی پر خصوصی توجہ دی ہے۔ پاکستان نے امن سلامتی آپریشنز میں خواتین کو بھیجنے والا واحد ملک ہے۔جس میں فی الحال 2 ایف ای ٹی کو یو این مشن کانگو اور سی اے آر میں تعینات کیا گیا ہے۔جبکہ ایک اور ایف ای ٹی کو 20 جون تک کانگو میں تعینات کیا جائے گا۔

پاکستان دوست ممالک، اقوام متحدہ کو بین الاقوامی امن کیپرنگ ٹریننگ انسٹی ٹیوشن میں شامل کرنے کے لئے باقائدہ رسائی کا پروگرام رکھتا ہے۔ان دوطرفہ سرگرمیوں میں 5 ممالک کے ساتھ 19 انسٹرکٹر ایکسچینج پروگرام، 7 ایکس انٹرنیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اور سنٹر فار انٹرنیشنل پیس اینڈ اسٹیبلٹی (سی آئی پی ایس)، اقوام متحدہ کی خواتین، یو این او سی ایچ اے، یو این ایچ سی آر اور اقوام متحدہ کے آئی ٹی ایس کے ساتھ تعاون کرنا شامل ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -