کورونا حقائق! علماء اکرام کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے

کورونا حقائق! علماء اکرام کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے
 کورونا حقائق! علماء اکرام کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے

  

دُنیا بھر میں 3لاکھ55ہزار سے زائد پاکستان میں 1300اموات ہونے کے باوجود پاکستانی قوم سنجیدہ ہونے کے لئے تیار نہیں ہے، پوری دُنیا میں کورونا مریضوں کی تعداد58 لاکھ،جبکہ پاکستان میں 61ہزار ہو چکی ہے۔ پاکستان میں جب کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد پانچ ہزار تھی اور50افراد اللہ کو پیارے ہوئے تھے، تو ملک بھر سے عوام کی بڑی تعداد رات 10بجے اپنے اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دیتے تھے اب جبکہ متاثرہ افراد اور مرنے والوں کی تعداد کئی گنا بڑھ چکی ہے، عوام گھروں میں بیٹھنے کے لئے تیار نہیں ہیں اس پر اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے اس میں عوام کا قصور کم اور حکومتی اداروں کا زیادہ ہے۔ ڈیڑھ ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد عوام میں جو جوش دیکھنے کو ملا وہ واقعی انفرادیت کا حامل تھا۔ لاک ڈاؤن سے ستائے بچے بوڑھے خواتین جس انداز میں سڑکوں مارکیٹوں میں نظر آئے اور حکومتی ایس او پیز کی دھجیاں بکھیریں اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ میری ذاتی رائے میں الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا نے تو کورونا کے حوالے سے آگہی عوام میں حق ادا کر دیا۔

لاک ڈاؤن کے آغاز پر اُمت مسلمہ کو رمضان کریم کا سامنا تھا اِس لئے میڈیا وہ الیکٹرونک ہو یا پرنٹ اس کے خدشات رمضان کریم کی عبادات، نمازیں ہوں یا نمازِ تراویح یا نمازِ جمعتہ المبارک کے حوالے سے زیادہ تھے اس لئے ایوان صدر سے لے کر وفاقی وزیر مذہبی امور بھی نمازِ تراویح،نمازِ جمعتہ المبارک اور مساجد کوگھیرنے کی منصوبہ بندی کرتے رہے،اس کے لئے صدر پاکستان ملک بھر کے علماء اکرام کو اعتماد میں لیا گیا اور دونوں اطراف سے ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ سندھ حکومت کی دوعملی نے وفاقی موقف کو کمزور کیا۔علماء اکرام کا عمل قابل ِ تحسین رہا۔انہوں نے جو کہا اس پر عمل کر کے دکھایا پوری پاکستانی قوم میڈیا کی طرف سے صرف مساجد کو ٹارگٹ کرنے پر خون کے آنسو روتی رہی، حالانکہ دانشور حضرات اینکر حضرات الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کے مالکان کو انصاف کرتے ہوئے نیکیوں کے موسم بہار رمضان المبارک کی فیوض برکات مساجد کی رونقوں کو کنٹرول کرنے کے لئے ساری صلاحیتیں بروکار لا نے پر حیران تھے۔ سبزی منڈیوں، بازاروں،فروٹ منڈیوں، بنکوں، نادرا دفاتر میں جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے۔ میڈیا کے ساتھ ساتھ حکومتی اداروں کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ عید کے چاند کے لئے الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا نے علماء اکرام کے لئے جو اکھاڑہ لگایا اس میں بھی حکومت کی نیک نامی میں اضافہ نہیں ہوا، میرے ایک دوست ہیں وہ علماء اکرام کے بڑے خلاف ہیں اور انہیں ہی فساد کی جڑ قرار دیتے ہیں ان کا اور فواد چودھری کا موقف ایک ہے، جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کا دور ہے، ہماری اکثر بحث ہوتی ہے، میرا موقف ہے علماء اکرام ہمارا سرمایہ ہیں، ہمارے دین کی پہچان ہیں۔

اسلاف کے ترجمان ہیں، ہم جتنے بھی ترقی پذیر ہو جائیں، جتنی بھی ترقی کر لیں علماء کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ ہم اس حد تک بے بس ہیں بچے کی پیدائش پر باپ اذان نہیں دے سکتا، گھر میں کوئی فوت ہو جائے غسل نہیں دے سکتا، بچے کی دینی تربیت سپارہ پڑھا نہیں سکتا، شادی کے موقع پر نکاح نہیں پڑھا سکتا، فوت ہو جائے جنازہ نہیں پڑھا سکتا، اِس لئے ہم جتنے بھی ماڈرن لبرل، ترقی یافتہ ہو جائیں، ہم علماء اکرام کے محتاج ہیں۔کورونا کے خلاف جاری جہاد میں علماء اکرام کو نظر انداز کرنے کی بجائے انہیں اعتماد میں لینے،ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مملکت ِ خداداد پاکستان میں قیام پاکستان سے آج تک کے تجربات سے فائدہ اٹھانے اور گزشتہ حکومتوں کی غلطیوں سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

حق و باطل کی ازل سے جاری جنگ یقینا اب تک جاری رہی ہے۔ حکومت کو طاغوتی قوتوں سے ہوشیار رہنا ہو گا، گزشتہ 73سال سے ہر حکومت میں ختم نبوت کے حوالے سے شرارت کی جاتی رہی ہے، کبھی اسلامیات کے کسی سبق میں تبدیلی،کبھی مطالعہ پاکستان کے کسی سبق میں تبدیلی، کبھی کشمیر کے نقشہ میں تبدیلی پر سازشیں ہوتی رہیں ہیں،ہوتی رہیں گی، ختم نبوت کے پروانے بیدار ہیں، قیامت تک پہرہ دیتے رہیں گے، بات پھر دوسری طرف نکل گئی، کورونا کی بڑھتی ہوئی وبا کو کنٹرول کرنے اور ایس او پیز کو یقینی بنانے کے لئے پوری قوم پریشان ہے، میرا مشورہ ہے حکومت علماء اکرام کو متنازعہ بنانے، ان کی شخصیات کو تضحیک کا نشانہ بنانے والوں پر بھی نظر رکھنا ہو گی اور پوری قوم کورونا کی وجہ سے جس کرب سے گزر رہی ہے اس کے مستقل حل کے لئے علماء اکرام کے ذریعے مساجد، مدارس کو مرکز بناتے ہوئے نئے عزم سے آگہی مہم شروع کرنا ہو گی، ماسک پہنے، سینی ٹائزر کے استعمال کے سبق کو بار بار یاد کرانے کے لئے مساجد کو استعمال کرنا ہو گا، حکومت وہ مرکز کی ہو یا صوبوں کی، ساری مشنری کو دوبارہ میدان میں اتارنا ہو گا،آخر میں اہل ِ اقتدار سے عوام کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب مانگنا ہے۔

قارئین کے علم میں لانا ہے،کورونا کی بیماری کے بعد عام بیماریوں سے اموات میں بہت حد تک کمی واقعی ہو گئی ہے، بڑے بڑے قبرستان کریم بلاک، نشتر بلاک،اقبال ٹاؤن کے قبرستان کی کمیٹی کا ممبر ہوں۔ گورکن سراپا احتجاج ہیں، مندے کا سماں ہے۔ ان قبرستانوں میں جہاں روزانہ دو تین میتیں آتیں تھیں،کئی کئی دن گزر جاتے ہیں جنازہ نہیں آ رہا، بتایا جائے کورونا سے فوت ہونے والوں کو کہاں دفنایا جا رہا ہے۔سپردِخاک کرتے وقت کیا طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے؟ بغیر غسل، بغیر دُعا کے دفنانے کی خبروں میں کہاں تک صداقت ہے؟ ایک اور سوال جو عوام میں اضطراب کا باعث بن رہا ہے، مریض کسی اور بیماری کا ہوتاہے، سرکاری ہسپتالوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں زبردستی کورونا کا مریض بنایا جا رہا ہے اس کی وضاحت ضروری ہے؟

آخر میں ایک اہم مسئلہ جس کے گواہ موجود ہیں جنوبی پنجاب میں ایک فرد کو کورونا کا مریض ظاہر کیا گیا، موت واقع ہونے کے بعد لواحقین نے سفارشوں سے میت کا تابوت حاصل کیا کہ ہم خود دفنائیں گے، خاندان کے ایک نوجوان نے تابوب کھول کر دیکھا اس میں میت کی بجائے کپڑے تھے،احتجاج ہوا، کہا گیا میت مردہ خانے میں رکھی ہوئی ہے۔ یہ لاش کس کے لئے مردہ خانے میں رکھی گئی ہے؟ عوام کو جواب ملنا چاہئے؟ بڑھتی ہوئی غلط فہمیاں دور نہ کی گئی تو سوشل میڈیا اپنے اپنے تجزیوں اور جھوٹی خبروں کے ذریعے حکومت کا جنازہ نکال دے گا، ابھی وقت ہے قوم کو حقائق بتائیں جائیں اعتماد میں لیا جائے اور کورونا کو کسی ایک فرد یا وزیر تک محدود نہ کیا جائے، پوری قوم کا مسئلہ ہے قومی سطح پر کورونا کی وبا کی روک تھام کے لئے یکجہتی کا اظہار کیا جائے۔ علماء اکرام کو بھی فرنٹ لائن پر لیا جائے اور ان کے ذریعے عوام کو آنے والے خطرات سے نمٹنے کے لئے ایس او پیز کا حصہ بنایا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -