غیر معیاری اشیائے خوردنی فروخت کرنے گرانفروشی پر 31 افراد گرفتار

غیر معیاری اشیائے خوردنی فروخت کرنے گرانفروشی پر 31 افراد گرفتار

  

پشاور(سٹی رپورٹر) محکمہ خوراک نے غیر معیاری اشیائے خوردنی کی فروخت اور گرانفروشی پر 31 افراد کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر خوراک الحاج قلندر لودھی، سیکرٹری خوراک نثار احمد، ڈائریکٹر محکمہ خوراک محمد زبیر خان کی ہدایت پر زیر نگرانی راشننگ کنٹرولر آفتاب عمر، اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر تسبیح اللہ، اور فوڈ انسپکٹرز محسن علی شاہ اور وحید یوسف نے آسیہ گیٹ میں سلمان بیکری میں کم وزن ڈبل روٹی کی موجودگی اور ایکسپائری اور مینوفیکچرنگ تاریخ نہ ہونے اور گل آباد چوک میں دسترخوان بیکری میں ایکسپائر ڈبل روٹی کی موجودگی اور سیون الیون ہوٹل کے مالک کی جانب سے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر منیجرز کو گرفتار کرلیا گیا۔ محکمہ خوراک کے افسران نے چرگانوں چوک میں جوس کی دکان میں جوس کو گاڑھا کرنے کیلئے سی ایم سی کیمیکل جوس میں ملانے اور انڈین پاؤڈر نما دودھ استعمال کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دکان کے مالک کو گرفتار کرلیا۔ محکمہ خوراک کے افسران کی جانب سے کم وزن روٹی فروخت کرنے پر 7 نانبائیوں اور گرانفروشی پر 3دودھ فروشوں‘ دو کباب فروشوں اور 7 مرغی فروشوں کو دھرلیا۔ اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر واجد علی نے پھندو روڈ پر مقررہ نرخ سے زیادہ رقم وصول کرنے پر 6 مرغی فروشوں‘ دو قصابوں اور دو جنرل سٹور مالکان کو گرفتار کیا۔ ڈائریکٹر محکمہ خوراک محمد زبیر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غیر معیاری اشیاء کی خرید و فروخت کسی صورت قبول نہیں ہے اور اس کے مرتکب افراد کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائیگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گرانفروش اپنا قبلہ درست کرے بصورت دیگر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -