”تھوک سے گیند چمکانے پر پابندی لگانی ہے تو یہ کام بھی کریں“ وہاب ریاض بھی میدان میں آ گئے، مطالبہ کر دیا

”تھوک سے گیند چمکانے پر پابندی لگانی ہے تو یہ کام بھی کریں“ وہاب ریاض بھی ...
”تھوک سے گیند چمکانے پر پابندی لگانی ہے تو یہ کام بھی کریں“ وہاب ریاض بھی میدان میں آ گئے، مطالبہ کر دیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باﺅلر وہاب ریاض نے گیند چمکانے کیلئے متبادل چیز دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گیند چمکانا فاسٹ باﺅلرز کی پہلی ترجیح ہے، باﺅلر اگر ایسا نہیں کرے گا تو سوئنگ کیسے کرے گا اور اگر سوئنگ نہیں کر سکے گا تو کیا کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کی موذی وباءکی موجودگی میں کھیلوں کی سرگرمیاں شروع کرنے کیلئے گائیڈ لائنز بنا ئی جا رہی ہیں جس کے تحت کرکٹ میں تھوک کے ساتھ گیند کو چمکانے پر پابندی کی بات کی جا رہی ہے اور اس حوالے سے کئی تجاویز بھی سامنے آرہی ہیں۔

پاکستان کی جانب سے 27 ٹیسٹ، 89 ون ڈے اور 31 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیلنے والے 34 سالہ وہاب ریاض نے تھوک سے گیند چمکانے پر پابندی کے حوالے سے کہا ہے کہ باﺅلرز کیلئے یہ پابندی مشکل کا باعث بنے گی لیکن کھلاڑیوں کی حفاظت کیلئے ایسا کرنا ہے تو باﺅلرز کیلئے کچھ متبادل کی اجازت بھی دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سن کریم ہو یا کچھ اور تاکہ گیند کو چمکایا جا سکے کیونکہ باﺅلرز کا گیند کو چمکانا پہلی ترجیح ہے اور اس کے بغیر گزارا نہیں ہے، پسینہ تھوک کا نعم البدل نہیں ہے، پسینے سے چمکانے کا فائدہ تو ہو گا لیکن اتنا نہیں جتنا تھوک سے ہوتا ہے۔گیند کو ڈس انفیکٹ کرنے کی بات ہو رہی ہے لیکن اس کا پہلے تجربہ کرنا ہو گا، یہ دیکھنے کیلئے کہ گیند پر کیا اثر پڑتا ہے۔

وہاب ریاض نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے گراؤنڈ میں کھلاڑیوں کے جشن منانے کے حوالے سے بھی گائیڈ لائنز بنائی جا رہی ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس سے فرق نہیں پڑے گا، ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں ملائیں گے یا گلے نہیں ملیں تو اس کا زیادہ مسئلہ نہیں ہے، کھلاڑی انفرادی طور پر خوشی کا اظہار کر سکتے ہیں جیسے فاسٹ باﺅلر حسن علی اور شاہین شا ہ آفریدی کرتے ہیں۔

مزید :

کھیل -