آپ کی ناف میں کون رہتا ہے؟ سائنسی جواب جان کر حیرت کی انتہا نہ رہے

آپ کی ناف میں کون رہتا ہے؟ سائنسی جواب جان کر حیرت کی انتہا نہ رہے
آپ کی ناف میں کون رہتا ہے؟ سائنسی جواب جان کر حیرت کی انتہا نہ رہے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ناف کی صفائی پر شاید ہی کبھی کسی نے توجہ دی ہو لیکن امریکہ کی نارتھ کیرولینا سٹیٹ یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے ناف میں پائے جانے والے بیکٹیریا کے متعلق ایسا انکشاف کیا ہے کہ ہر سننے والا دنگ رہ جائے۔ویب سائٹ دی اٹلانٹک کے مطابق تحقیق کاروں نے 60لوگوں کی ناف سے نمونے لے کر ان کے ٹیسٹ کیے جن کے نتائج میں معلوم ہوا کہ ان لوگوں کی ناف میں مجموع طور پر 2ہزار 368اقسام کے بیکٹیریا موجود تھے اور ان کی تعداد ہزاروں میں تھی۔بیکٹیریا کی ان اقسام میں سے 1ہزار 458اقسام ایسی تھیں جن کے متعلق سائنس پہلے کچھ نہیں جانتی تھی اور ان اقسام کو پہلی بار اس ٹیم نے دریافت کیا۔

اس تحقیق میں جتنے لوگوں کی ناف سے نمونے لیے گئے ان میں بیکٹیریا کی کچھ اقسام ایسی تھی جو ان میں سے ہر ایک کی ناف میں الگ الگ پائی گئی۔ ان میں سے ایک شخص کی ناف میں ایسا بیکٹیریم پایا گیا جو صرف جاپان کی مٹی میں پایا جاتا ہے اور یہ شخص کبھی جاپان گیا بھی نہیں۔ایک اور شخص کی ناف میں ایکسٹریموفل بیکٹیریا کی دو ایسی اقسام پائی گئیں جو روایتی طور پر آئس کیپس اور دھوئیں کے نکاس کے لیے بنائی گئی چمنیوں میں پرورش پاتے ہیں۔

یہ ایسے حیران کن انکشافات تھے جن پر محققین بھی دنگ رہ گئے۔ اس عجیب و غریب معاملے پر تحقیق کاروں کا کہنا تھا کہ پولیس اور دیگر ادارے لوگوں کے انگوٹھوں کے نشانات کی بجائے ان کی ناف کے ٹیسٹ کرکے بھی ان کی شناخت کر سکتے ہیں کیونکہ ہر آدمی کی ناف میں بیکٹیریا کی کچھ اقسام ایسی موجود تھی جو کسی دوسرے شخص میں نہیں پائی گئیں تاہم یہ ایک مضحکہ خیز اور ازراہ تفنن کی گئی بات تھی مگر لوگوں نے اس حوالے سے ماہرین کے شروع کیے گئے ایک پراجیکٹ کو تفریح طبع کا بہانہ بنا لیا ہے۔

محققین کی اس ٹیم نے ’ناف میں حیاتیاتی تنوع‘ (Belly Button Biodiversity) کے نام سے ایک پراجیکٹ شروع کیا ہے جس میں کوئی بھی شخص اپنی ناف کے میل کا نمونہ دے کر ٹیسٹ کروا سکتا ہے اور معلوم کر سکتا ہے کہ اس کی ناف میں کتنے اور کون سے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں۔ امریکہ میں جوڑے، بالخصوص وہ جو شادی کرنے جا رہے ہیں، اپنا اپنا ناف کا سیمپل بھیج کر ٹیسٹ کروا رہے ہیں، جس کا مقصد اپنے صحت کے متعلق معلوم کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ جس سے ان کی شادی ہونے جا رہی ہے ان کا وہ متوقع شریک حیات کتنا گندہ ہے۔ماہرین بھی کہتے ہیں کہ جسم کی صفائی کے دوران لوگ جن دو حصوں کو سب سے زیادہ نظر انداز کرتے ہیں ان میں کانوں کا پچھلا حصہ اور ناف ہیں اور ان دونوں حصوں کے معائنے سے بخوبی پتا چلایا جا سکتا ہے کہ کون کتنا صاف ستھرا رہتا ہے۔

چنانچہ اگر آپ بھی اپنا یا اپنے متوقع شریک حیات کا یہ ٹیسٹ کروانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو کاٹن بڈ سے اپنی ناف صاف کرکے اس کا میل نمونے کے طور پر بھیجنا ہو گا۔ نمونہ موصول ہونے پر آپ کو ایک خفیہ نمبر الاٹ کر دیا جائے گا اور چند دن بعد آپ کے ٹیسٹ کے نتائج پراجیکٹ کی ویب سائٹ ’وائلڈ لائف آف یور باڈی ڈاٹ اوآر جی‘ (wildlifeofyourbody.org)پر اس خفیہ نمبر کے ساتھ شائع کر دیئے جائیں گے۔

محققین نے بیکٹیریا کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ سے ناف کو ایمازون کے جنگل سے تشبیہ دی ہے۔ ناف کی صفائی کے حوالے سے ماہرین میں متضاد رائے پائی جاتی ہے۔ نارتھ کیرولینا سٹیٹ یونیورسٹی کی اس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ روب ڈن کا کہنا ہے کہ بیکٹیریا کی زیادہ تر اقسام انسانوں کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ فائدہ مند ہوتی ہیں۔ انسانی جسم ان بیکٹیریا کا گھر ہوتا ہے چنانچہ وہ انسانوں کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ انسان پلے بڑھے اور صحت مند رہے۔ چنانچہ اگر آپ کو ناف میں انفیکشن وغیرہ نہیں ہوتی تو ایک حد سے زیادہ صفائی کی ضرورت نہیں مگر میساچوسٹس میڈیکل سوسائٹی کی ڈاکٹر کلیئر کرونین اس کے برعکس رائے رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ناف کی باقاعدگی سے صفائی کی جانی چاہیے ورنہ اس سے سنگین نوعیت کی انفیکشنز ہو سکتی ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -