کیا دنیا میں واقعی بھوت ہوتے ہیں؟ آسیب زدہ گھروں پر کون قبضہ کرتا ہے؟ سائنسی تجربے کے ذریعے سائنسدان نے انتہائی حیرت انگیز جواب دے دیا

کیا دنیا میں واقعی بھوت ہوتے ہیں؟ آسیب زدہ گھروں پر کون قبضہ کرتا ہے؟ سائنسی ...
کیا دنیا میں واقعی بھوت ہوتے ہیں؟ آسیب زدہ گھروں پر کون قبضہ کرتا ہے؟ سائنسی تجربے کے ذریعے سائنسدان نے انتہائی حیرت انگیز جواب دے دیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کچھ لوگ بھوت پریت پر یقین رکھتے ہیں اور کچھ نہیں رکھتے۔ جو لوگ یقین نہیں رکھتے انہیں کسی عمارت کے متعلق بتا دیا جائے کہ وہ آسیب زدہ ہے تو وہ بھی اس عمارت کے اندر جانے کی ہمت نہیں کرتے کہ دل کے نہاں خانے میں بھوتوں کا خوف کہیں انہیں بھی لاحق ہوتا ہے تاہم اب ایک سائنسدان نے سرے سے بھوت پریت کو انسانوں کا واہمہ قرار دے ڈالا ہے اور اس حوالے سے اٹھنے والے سوالات کے جواب دے ڈالے ہیں۔ڈیلی سٹار کے مطابق اس سائنسدان کا نام پروفیسر رچرڈ وائس مین ہے جس کا کہنا ہے کہ بھوت پریت نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔ یہ لوگ جو اتنی بڑی تعداد میں بھوت پریت پر یقین رکھتے ہیں یہ سب ان لوگوں کے پراپیگنڈے کی وجہ سے ہے جن کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔ یہ جھاڑ پھونک کرنے والے، یہ بھوت پکڑنے کے دعوے دار وغیرہ ان لوگوں کا مفاد اس بات سے وابستہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ بھوت پریت پر یقین رکھیں تاکہ ان کا روزگار چلتا رہے۔

اگر ایسا ہے تو پھر لوگ جب کسی آسیب زدہ عمارت میں جاتے ہیں تو انہیں پراسرار سی آوازیں کیوں سنائی دیتی ہیں، ان کے جسم میں سنسنی سی کیوں دوڑ جاتی ہے، جسم سرد کیوں پڑ جاتا ہے اور بال کھڑے کیوں ہو جاتے ہیں؟ ان سوالات کا جواب بھی پروفیسر رچرڈ وائس مین نے دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسی عمارتوں میں جب لوگ داخل ہوتے ہیں تو وہ ذہنی طور پر ایک خوف میں مبتلا ہوتے ہیں اور معمول سے کہیں زیادہ چوکنا ہوتے ہیں۔ ایسے میں انہیں وہ آوازیں بھی سنائی دینے لگتی ہیں جو عام حالت میں وہ نہیں سن سکتے۔ یہ گاڑیوں اور ایئرکنڈیشنرز وغیرہ سے نکلنے والی انتہائی کم حیطے کی حامل الٹراساﺅنڈ لہریں ہوتی ہیں۔ یہ آوازیں ہر جگہ موجود ہوتی ہیں لیکن جب لوگ کسی مبینہ آسیب زدہ عمارت میں جاتے ہیں تو وہ پہلے سے کئی گنا زیادہ چوکنا ہوتے ہیں اور ان کے کان معمولی سی آواز کو بھی سننے کے لیے تیار ہوتے ہیں چنانچہ انہیں یہی خاموش الٹراساﺅنڈز سنائی دیتی ہیں جو کبھی کسی کے قدموں کی آہٹ کی صورت میں ہوتی ہیں اورکبھی کسی کے رونے یا چیخنے کی صورت میں۔

پھر پروفیسر رچرڈ کہتے ہیں کہ بظاہر آسیب زدہ عمارت میں داخل ہونے کے بعد چونکہ لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں اور انتہائی محتاط ہوتے ہیں۔ ان کا جسم کسی بھی خطرناک صورتحال کے پیش نظر بھاگنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں جسم میں خون کا بہاﺅ انگلیوں کی پوروں کی طرف سے بڑے مسلز کی طرف ہوتا ہے۔ اس صورت میں ہمارا جسم سرد پڑ جاتا ہے اور بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ گاہے اس صورت میں جسم میں سنسنی سی دوڑتی ہے اور احساس ہوتا ہے جیسے کسی پراسرار چیز نے ہمیں چھوا ہو۔

پروفیسر رچرڈ وائس مین گزشتہ 20سال سے اسی شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے جنوبی لندن میں واقع خالی پڑے شاہی محل میں بھی 10دن گزارے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ محل آسیب زدہ ہے اور وہاں بادشاہ ہنری ہشتم کی آٹھ بیویوں میں سے دو جینی سیمور اور کیتھرین ہوورڈ کے بھوت گھومتے رہتے ہیں۔ پروفیسر رچرڈ کا کہنا تھا کہ ان 10دنوں میں تو کیا، پورے 20سالہ تجربے میں مجھے کوئی ایک بھی ایسا ثبوت نہیں ملا جس کی بناءپر میں کہہ سکوں کہ بھوت پریت واقعی ہوتے ہیں۔ یہ سب لوگوں کا واہمہ ہے۔ لوگ ایسی جگہوں پر جانے سے پہلے ہی ذہنی طور پر ایسے پراسرار واقعات کے لیے تیار ہوتے ہیں چنانچہ انہیں ایسی باتیں بھی پراسرار لگتی ہیں جنہیں عام حالت میں وہ نوٹس ہی نہیں کرتے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -