وہ واحد خاتون جو بادشاہ بن گئی، ملکہ کی بجائے بادشاہ کیوں بنی؟ جان کر آپ کو ہنسی آجائے

وہ واحد خاتون جو بادشاہ بن گئی، ملکہ کی بجائے بادشاہ کیوں بنی؟ جان کر آپ کو ...
وہ واحد خاتون جو بادشاہ بن گئی، ملکہ کی بجائے بادشاہ کیوں بنی؟ جان کر آپ کو ہنسی آجائے

  

وارسا(مانیٹرنگ ڈیسک) ہم جانتے ہیں کہ مرد ہی بادشاہ بنتے آئے ہیں اور خواتین ملکہ، لیکن آپ کو یہ سن کر شدید حیرت ہو گی کہ ماضی میں ایک خاتون بھی بادشاہ بن چکی ہے اور اس کی وجہ بھی انتہائی مضحکہ خیز تھی۔ یہ خاتون بادشاہ پولینڈ کی تھی جس کا نام شہزادی جیڈویگا تھا۔ وہ پولینڈ کے بادشاہ لوئس اول آف ہنگری اور الزبتھ آف بوسنیا کی صاحبزادی تھی جسے 1384ءمیں 10سال کی عمر میں پولینڈ کے بادشاہ کے طور پر تخت نشین کیا گیا۔

جیڈویگا ہنگری کے شہر بوڈا میں پیدا ہوئی۔ وہ پڑھی لکھی خاتون تھی۔ اس نے آرٹس، میوزک اور سائنس کی تعلیم پائی۔ وہ 6زبانیں لاطینی، بوسنین، ہنگرین، سربرین، پولش اور جرمن پوری روانی کے ساتھ بولتی تھی۔ وہ سلطنت کی خاندانی سیاست کے نتیجے میں بادشاہ بنی۔ اس کا والد اپنی ماں کے بھائی کے ذریعے بادشاہ بنا تھا۔ جب اس کی موت واقع ہوئی تو جیڈویگا کی بڑی بہن میری کو وراثت میں تاج ملا۔ تاہم لیسر پولینڈ کے لارڈز میری کو تاج پہنانے پر رضامند نہیں تھے کیونکہ وہ ہنگری کی سلطنت کی بھی وارث تھی اور اس کا تاج پہنچ چکی تھی۔ چنانچہ لارڈز نے میری کی بجائے جیڈویگا کو بادشاہ منتخب کر لیا اور 16اکتوبر 1384ءکو اس کے سر پر تاج رکھ دیا گیا اور اسے ’کنگ یس کنگ آف پولینڈ‘ (King-yes king-of Poland)کا خطاب دے دیا گیا۔ پولینڈ کے قانون میں ملکہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس میں یہ بھی تعین نہیں کیا گیا کہ بادشاہ صرف مرد ہی ہو گا۔ کئی قانونی پیچیدگیوں کو حل کرنے کے بعد 12سال کی عمر میں جیڈویگا کی گرانڈ ڈوک جوگیلا آف لیتھوانیا کے ساتھ شادی ہو گئی اور اس کے ساتھ ہی پولینڈ، لیتھوانیا اور روتھینیا متحد ہو کر ایک ملک بن گئے اور بڑی کامیابی سے روس اور جرمنی کی سلطنت میں وسعت کی کوششوں کو ناکام بنایا۔ اگرچہ شادی کے بعد بھی جیڈویگا ہی بادشاہ رہی لیکن زیادہ تر شاہی ذمہ داریاں ان کا شوہر ہی نبھاتا رہا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -