جہاں لوٹنےوالے خودحکومت میں بیٹھےہوں وہاں۔۔۔سینیٹر سراج الحق نے حکمرانوں پر برستے ہوئے ملکی مسائل کا حل بھی بتا دیا

جہاں لوٹنےوالے خودحکومت میں بیٹھےہوں وہاں۔۔۔سینیٹر سراج الحق نے حکمرانوں ...
جہاں لوٹنےوالے خودحکومت میں بیٹھےہوں وہاں۔۔۔سینیٹر سراج الحق نے حکمرانوں پر برستے ہوئے ملکی مسائل کا حل بھی بتا دیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ خوشحال لوگ اپنی خوشحالی کو محفوظ رکھنا چاہتےہیں تواُنہیں غریبوں کوبھی زندہ رہنےکاحق دیناہوگا،ایسانظام قابلِ قبول نہیں جس میں غریب کامعاشی قتل ہواور امیروں کی دولت میں دن دگنااور رات چوگنا اضافہ ہوتا رہے،اسلام دولت کو چند ہاتھوں میں مرتکز رکھنے کی اجازت نہیں دیتا،پاکستان کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اوردولت کاچندہاتھوں میں ارتکاز ہے،اسلام دولت کی سرکولیشن کا حکم دیتا ہے،ملکی اقتدار پر قابض رہنے والوں نےاپنےسیاسی اورسرکاری منصبوں کاناجائز استعمال کرکے دولت سمیٹی اور اس میں مسلسل اضافہ کرتے رہے،حکومت کے پاس اب تک ایسا کوئی میکنزم نہیں جس سے لوٹی گئی قومی دولت واپس لائی جاسکے،جہاں لوٹنےوالے خودحکومت میں بیٹھےہوں وہاں کون کسی کا احتساب کرسکتا ہے؟احتساب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود حکمران ہیں۔

منصورہ میں جے آئی کسان کے رہنماءارسلان خان خاکوانی اور سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی یکساں احتساب اور ایسا معاشی نظام چاہتی ہے جو سود سے پاک ہو اور امیر اور غریب کو دولت کمانے کے یکساں مواقع دے سکے ۔انہوں نے کہا کہ جب تک منافع بخش اداروں اور کارخانوں کی پیدا وار میں مزدوروں اور زمین کی پیداوار میں کاشتکاروں اور کسانوں کو شریک نہیں کیا جاتا کسانوں اور مزدوروں کے حالات نہیں بدل سکتے ،جاگیر دار کسانوں اور سرمایہ دار و صنعتکار مزدوروں کے خون پیسنے کی کمائی کھارہے ہیں،موجودہ معاشی نظام میں امیر خوشحال اور غریب کنگال ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کے معاشی استحصال کے خاتمہ کیلئے انقلابی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جس میں سب سے پہلا کام آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ملک سے سودی معیشت کا خاتمہ اور زکواة و عشر کے پاکیزہ معاشی نظام کا نفاذ ہے ۔

  سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ٹڈی دل نے لاکھوں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلوں اور باغات کو تباہ کردیا ہے مگر حکومت ٹڈی دل کو سنجیدہ لے رہی ہے نہ اس سے بچاﺅ کیلئے کچھ کررہی،عوام تہیہ کرلیں کہ ٹڈی دل سے فصلوں اور کرپشن مافیا سے نسلوں کو بچانا ہے ،ٹڈی دل نے ہماری فصلوں کو اور کرپٹ حکمرانوں نے نسلوں کو تباہ کردیا ہے ،جس طرح ٹڈی دل فصلوں کو چٹ کرجاتی ہے کرپٹ حکمران قومی خزانہ خالی کردیتے ہیں ،ٹڈی دل سے ایک ہزار ارب روپے کے نقصان کا خطرہ ہے جبکہ کرپٹ حکمرانوں نے اب تک ملک و قوم کے کئی ہزار ارب روپے ڈکار لئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب تک ٹڈی دل ملک کے 61 اضلاع میں پھیل چکا ہے جن میں بلوچستان کے 31پنجاب کے 12کے پی کے 11اور سندھ کے سات اضلاع شامل ہیں ۔حکومت ٹڈی دل کے سدباب اور لاکھوں متاثرہ کسانوں کے ریلیف کیلئے کچھ نہیں کرسکی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت فوری طورپرصوبوں کو اعتماد میں لے ،متاثرہ اضلاع میں زرعی حفاظتی ایمرجنسی لگائے اور کاشتکاروں کو ان کی فصلوں اور باغات کا معاوضہ دیا جائے ۔

سینیٹر سراج الحق نے لاہور میں ڈاکٹر ثناءاورپشاور سے نجی چینل کے سینئر صحافی فخر الدین سید کی کرونا کی وجہ سے شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن سندھ کے صدر ڈاکٹرسید تبسم جعفری سمیت ملک میں ایک سو آٹھ ڈاکٹر 108نرسزاور 125پیرا میڈیکل سٹا ف کرونا سے متاثر ہوچکے ہیں ،اب تک درجنوں ڈاکٹر جو کرونا کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑرہے تھے شہید ہوچکے ہیں لیکن حکومت نے نہ تو ڈاکٹروں کی حفاظت کیلئے کوئی موثر نظام بنایااور نہ ہی شہداءکے گھرانوں کی امداد کیلئے کچھ کیا۔

مزید :

قومی -