بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا ئے گا اور نہ ہی کوئی دباؤ قبول کیا جائے گا ، فرخ حبیب نے خوشخبری سنا دی

بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا ئے گا اور نہ ہی کوئی دباؤ قبول کیا جائے ...
بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا ئے گا اور نہ ہی کوئی دباؤ قبول کیا جائے گا ، فرخ حبیب نے خوشخبری سنا دی

  

فیصل آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ بجٹ 2021- 22میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا ئے گا ،بجٹ کے حوالے سے کسی کادباؤ بھی قبول نہیں کیاجائے گا ،تمام فیصلے عوام کے مفاد میں کئے جائیں گے ،زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ پاکستان لانے کیلئے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل میں اضافہ کرنا ہوگا ،سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کے دور میں جمع کئے جانے والے ڈیم فنڈ کا پیسہ موجود ہے، جسے ڈیموں کی تعمیر پر ہی خرچ اور اس کے ایک ایک پیسے کا آڈٹ ہوگا۔

فیصل آباد میں میڈ یا سے گفتگو کر تے ہو ئے انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال کا بجٹ عوام دوست وبزنس فرینڈلی ہوگا، نئے مالی سال کے بجٹ میں ہاسنگ صحت انصاف کارڈ،کامیاب جوان پروگرام سمیت دیگر فلاحی منصوبوں کیلئے بھرپور فنڈز مختص کئے جائیں گے،ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل اور ایکسپورٹ سیکٹر کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے کیونکہ ملک میں صنعتی سرگرمیوں کے فروغ سے معاشی خوشحالی آئے گی اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے، حکومت کی موثر پالیسیوں کے باعث برآمدات کو فروغ مل رہا ہے اورٹیکسٹائل کے شعبہ میں واضح بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی سرگرمیوں میں فیصل آباد کی ٹیکسٹائل صنعت کا اہم کردار ہے اور فیصل آباد کی پہچان بھی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے حوالے سے ہے جسے ہم مزید بڑھائیں گے، ہماری کوشش ہے کہ شرح نمو 6فیصد تک لے جائیں تاکہ روزگار میں اضافہ ہوجبکہ بہترین معاشی پالیسیوں سے ملک کی اقتصادی صورتحال بہت بہتر ہوئی اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید بہتری بھی آئے گی،زرعی اجناس کے مناسب نرخ مقرر ہونے سے کاشتکار طبقہ خوشحال ہوااور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار گندم کی قیمت 1800 روپے فی من ہونے سے کاشتکاروں کو 500 ارب روپے کی اضافی آمدنی اور دیگر تمام فصلات میں 1100 ارب کی اضافی رقم حاصل ہوئی جن سے ٹریکٹروں، کاروں، موٹر سائیکلوں اور زرعی مشینری کی خرید و فروخت میں اضافہ ہوا ، کاشتکار اب ضروریات زندگی کی خریداری کیلئے مارکیٹوں کا رخ کر رہے ہیں۔

فرخ حبیب نے کہا کہ بہترین معاشی پالیسیوں سے ملک کی اقتصادی صورتحال بہت بہتر ہوئی جبکہ ہماری کوشش ہے کہ شرح نمو 6فیصد تک لے جائیں تاکہ روزگار میں اضافہ ہو ، گندم،کماد،چاول،مکئی سمیت دیگر زرعی اجناس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا جبکہ اب ہماری توجہ کپاس کی پیداوار میں اضافہ پر مرکوز ہے،ملکی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہورہا ہے تاہم اس میں اور زیادہ تیزی لانے کیلئے صنعتکاروں کو ہرممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،ہمیں زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ پاکستان لانے کیلئے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل میں اضافہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جب حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ٹیکسٹائل انڈسٹری بدحالی کا شکار تھی،سپننگ ملز بند،پاورلومز کباڑ میں فروخت،ریفنڈز پھنسے ہوئے اور کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس میں عدم مساوات موجود تھی، جس کی وجہ سے ہمارے صنعتکار یہاں سے صنعتیں بند کرکے بنگلہ دیش منتقل ہورہے تھے لیکن حکومت نے سب سے پہلے اپنے انتخابات سے قبل فیصل آباد کے ٹیکسٹائل ملرز اور دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر جو پالیسی تشکیل دی گئی اس کنٹری بیوشن کے تحت ٹیکسٹائل سیکٹر کی بہتری کیلئے اقدامات کاآغاز کیا اور پونے 3سال قبل جو پالیسیز بنائی گئی تھیں ان پر نیک نیتی سے عملدرآمد کے باعث اب ان کے شاندار نتائج حاصل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ حالیہ 10ماہ میں برآمدات میں شاندار اضافہ ہوا اور یہ برآمدات 13فیصد بڑھ کر 24ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جو مالی سال کے اختتام 30جون تک 26بلین ڈالرتک پہنچ جائیں گی، وزیراعظم کے ویژن کے تحت ان کی معاشی ٹیم کی بہترین پالیسیوں سے  جہاں ایک طرف دنیا بھر میں لاک ڈاؤن تھا وہاں پاکستان میں صنعتوں کا پہیہ چلتارہا اور ایک بھی مزدور کو فارغ نہیں کیاگیا ،جس کے برعکس سٹیٹ بنک نے انہیں پے رول پیکیج دیئے اور پرنسپل اماؤنٹ سمیت مارک اپ کو ڈیفر کیا اور پرنسپل اماؤنٹس کی ری سٹرکچرنگ کی گئی جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی، اسی طرح 432ارب کے لونز فراہم کئے گئے جن میں سٹیٹ بنک کا ایک فیصد اور دیگر تمام مارک اپ ملا کر 4فیصد انٹرسٹ ریٹ بنا ،جس پر 10سال کیلئے لون ملے، یہی وجہ ہے کہ آج جدید مشینری امپورٹ کی جارہی ہے،  اب صنعتی شعبہ کو کم ریٹ پر بجلی وگیس فراہم کی جارہی ہے، زیادہ یونٹ استعمال کرنے پر انہیں سپیشل پیکیج کے تحت رعایات دی جارہی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ واپڈا بھی ایک بہترین ادارہ بن چکا ہے، جس نے یورپ میں 500ملین ڈالر کے گرین بانڈپیش کئے ،جس کے برعکس اسے 3بلین ڈالر کی پیشکشیں ملیں،ہماراوزیراعظم ہو، وزیرخزانہ ہو،وزیر کامرس،انڈسٹری،چیئرمین ایف بی آر یاکوئی دیگر وزیر مشیر ہو ہرجگہ پہلے ہی صنعتی،کاروباری،تجارتی شعبہ کیلئے حاضر ہے اور آئندہ بھی موجود رہے گا۔

مزید :

قومی -