فلسطین اور کشمیر کے مسائل کا حل

فلسطین اور کشمیر کے مسائل کا حل

  

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر نے کہا ہے کہ کشمیر کا تنازع بھی اتنا ہی پرانا ہے جتنا مسئلہ فلسطین ہے،پاکستان اور بھارت مسئلے کے پرامن حل کے راستے پر چلیں،اُن کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی میں سینکڑوں فلسطینیوں کی جانیں چلی گئیں، اس اہم معاملے پر بے عملی اقوام متحدہ اور سیکیورٹی کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے امید ہے سیکیورٹی کونسل میں بھی اِس اہم مسئلے پر متفقہ آواز سنائی دے گی، پاکستانی وزیر خارجہ نے فلسطینیوں کے حقوق کے لئے مضبوط موقف اور حمایت کا اظہار کیا،دو خود مختار ریاستوں کا قیام عمل میں لانے کے لئے مذاکرات کی فوری ضرورت ہے جو باہم امن سے رہیں اور1967ء سے قبل کی سرحدوں میں ہوں اور یروشلم دونوں کا دارالحکومت ہو، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی تک یو  این جنرل اسمبلی آرام سے نہیں بیٹھے گی۔انہوں نے کہا کہ مجھے جموں و کشمیر کی صورتِ حال کا بھی بخوبی علم ہے، مجھے ادراک ہے کہ ایک عام پاکستانی کشمیر کے حوالے سے کیا محسوس کرتا ہو گا، جب فلسطین کے متعلق اس کے جذبات اِس قدر شدید ہیں۔ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام اور خوشحالی کا دارو مدار پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی بحالی پر ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں تنازع کشمیر کا حل نکالیں۔مَیں نے ہمیشہ فریقین پر زور دیا کہ زمینی حقائق کو تبدیل نہ کیا جائے، ہمیشہ کہا کہ متنازع علاقے کی حیثیت کو بدلنے سے گریز کیا جائے۔ بھارت اور پاکستان پر زور دیتا ہوں کہ اِس مسئلے کا پرامن حل تلاش کریں،افغانستان میں امن کی بحالی بھی اشد ضروری ہے۔

جنرل اسمبلی کے صدر نے مسئلہ فلسطین اور کشمیر کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے اُن سے کسی بھی صاحب الرائے اور صائب الرائے شخص کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔انہوں نے دونوں مسئلوں کا جو حل تجویز کیا ہے وہ بھی ایسا ہے جو دُنیا کے بہت سے مُلک اور مدبرین پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔امریکہ کے کئی سابق صدور اور دوسرے سابق عہدیدار بھی اس نتیجے پر پہنچ چکے کہ دو ریاستی حل ہی فلسطین کا تنازعہ ختم کر سکتا ہے اور فلسطینی و اسرائیلی باہم مل کر امن کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ موجودہ امریکی انتظامیہ میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے، جن کے خیال میں اس کے سوا فلسطین کا کوئی پائیدار حل تلاش نہیں کیا جا سکتا،لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل اس حل کی جانب نہیں آتا، جناب بوزکر  نے1967ء کی سرحدوں پر واپس جانے کی تجویز بھی پیش کر دی ہے،جو اگرچہ انتہائی منصفانہ اور یو این کے عالمی چارٹر کے عین مطابق ہے،جس کے تحت کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک پر زبردستی قبضہ کر سکتا ہے نہ برقرار رکھ سکتا ہے، لیکن آدھی صدی سے زیادہ ہوتا ہے اسرائیل عربوں اور فلسطینیوں کے علاقوں پر نہ صرف غاصبانہ قبضہ کر کے بیٹھا ہوا ہے،بلکہ اب بھی بچے کھچے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں آباد کرتا چلا جا رہا ہے اور کوئی طاقت اس کا ہاتھ روکنے والی نہیں،سلامتی کونسل میں تو خیر اسرائیل کے خلاف کوئی قرارداد تک منظور نہیں ہو سکتی کہ اس کے سرپرست اسے ویٹو کر دیتے ہیں یا اگر ایسا نہ بھی کریں تو قراردادوں کو لٹکانے کے دوسرے حربے استعمال کرتے رہتے ہیں،لیکن جنرل اسمبلی میں بھی جو قراردادیں منظور ہوئیں جناب وولکن بوزکر سے بہتر کون جانتا ہو گا کہ اسرائیل نے انہیں کتنی اہمیت دی؟یہودی بستیوں کے بارے میں جنرل اسمبلی کی قراردادوں کا اس نے کیا حشرکِیا؟ اور بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت کتنی ڈھٹائی سے بنا ڈالا؟عالمی ادارے سمیت دُنیا کی کوئی طاقت اسرائیل کا کچھ نہیں بگاڑ سکی،اب بھی جناب بوزکر نے جو صدق دلانہ باتیں کی ہیں وہ بھی اُن لوگوں کے دِلوں کو لگی ہیں، جو پہلے سے ان جیسے خیالات رکھتے ہیں۔اسرائیل اور ان کے ہمدردوں پر تو جناب وولکن بوزکر کا کلام نازک کوئی اثر نہیں کرے گا اور نہ ہی اسرائیل اِن مشوروں کو اہمیت دے گا۔

جہاں تک مسئلہ کشمیرکا تعلق ہے اس کے بارے میں بھی عالمی ادارے کی قراردادیں موجود ہیں،جنہیں ایک زمانے میں بھارت تسلیم کرنے کے اعلانات کرتا رہا ہے اور اس کے حکمران یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ کشمیریوں کو حق ِ خود ارادیت دیا جائے گا،جس کے ذریعے وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں گے،لیکن وقت نے ثابت کیا ہے کہ یہ اعلانات جھوٹے  تھے کیونکہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بھارت نہ صرف ان سے منحرف ہوتا چلا گیا، بلکہ بعد میں یہ اعلان بھی کرنا شروع کر دیا کہ کشمیر کا تنازع حل ہو چکا ہے اور ریاست میں ہونے والے انتخابات رائے شماری ہی کا نعم البدل ہیں، حالانکہ دُنیا جانتی ہے کہ انتخابات میں کتنے فیصد ووٹر حصہ لیتے ہیں،لیکن اب تو اس نے یہ سارے تکلفات بھی بالائے طاق رکھ کر متنازع ریاست کو بھارت کا حصہ بنا لیا ہے اور ہم یہ مطالبہ کرنے لگے ہیں کہ بھارت کے ساتھ اُس وقت تک مذاکرات نہیں ہوں گے جب تک یہ اقدام واپس نہیں ہو گا، گویا مذاکرات تو اب پس منظر میں چلے گئے،اب ان سے پہلے اس اقدام کی واپسی ضروری ہے، جس کا بھارت نے کوئی عندیہ نہیں دیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھی اپنے دورہئ پاکستان میں یہ اعلان کر چکے ہیں کہ بھارت کشمیر کی حیثیت تبدیل نہ کرے،اب جنرل اسمبلی کے صدر نے بھی یہی بات دھرائی ہے،لیکن جس طرح اسرائیل عالمی ادارے کی قراردادیں نہیں مانتا اسی طرح اب بھارت بھی اسی راستے پر چل رہا ہے۔ یہ بات تو درست ہے کہ خطے میں امن اس مسئلے کے حل سے وابستہ ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ مسئلہ مذاکرات ہی سے حل ہو گا،لیکن ایسا تب تک نہیں ہو سکتا جب تک عالمی ادارہ یا کوئی بڑی طاقت اس سلسلے میں موثر کردار ادا نہیں کرتی۔ ثالثی کی  ساری پیشکشیں بھارت پہلے ہی مسترد کر چکا،مذاکرات کا بھی فی الحال کوئی امکان نہیں تو اِس کا مطلب یہی ہے کہ مرض کی تمام تر درست تشخیص کے بعد ابھی علاج شروع نہیں ہو گا اور یہ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ شروع ہو گا بھی یا نہیں، بہرحال جناب بوزکر  کے خیالات پاکستان اور پاکستانیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے بڑے اچھے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -